قومی

سانحہ اے پی ایس کے ورثاء ٹھیک کہتے تھے کہ واقعہ خود کرایا گیا، مشاہد اللہ

وفاقی وزیر کا کلبھوشن کے بیرون ملک چلے جانے سے متعلق بیان سنجیدہ لینا ہوگا۔ سینیٹر

اسلام آباد (94 نیوز) سینیٹر و رہنما مسلم لیگ ن مشاہد اللہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے حکومت سے سوال کیا کہ آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کو قتل کرنے والا احسان اللہ احسان کہاں ہے؟ احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بعد علی امین گنڈا پور کے کلبھوشن کے ملک سے باہر چلے جانے کے بیان کو بھی سنجیدہ لینا ہوگا،

تفصیلات کے مطابق سینیٹر مشاہد اللہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان کہاں ہے؟ اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ جواب دینا حکومت کا کام ہے کسی اور کا نہیں ۔ مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ ایک وفاقی وزیر نے ٹی وی پر آکر کہا تھا کہ کلبھوشن جا چکا ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کلبھوشن کو ٹی وی پر لا کر دکھایا جائے کہ وہ کہاں ہے؟

مشاہد اللہ نے کہا کہ پہلے وفاقی وزیر کی بات کو ہم نے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا ، تاہم ہو سکتا ہے کہ  کلبھوشن  ملک سے باہر چلا گیا ہو۔

احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بعد اس معاملے کو سنجیدہ لیناہوگا۔ تحریک انصاف ہماری حکومت میں کلبھوشن کا بہت نام لیتی تھی اب خاموش ہے۔

مشاہد اللہ نے کہا مجھے اب سمجھ آیا کہ اے پی ایس شہداء کے وارث ٹھیک کہتے تھے کہ یہ واقعہ خود کرایا گیا ہے واضح رہے کہ سیکیورٹی حکام نے احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی تصدیق کر دی تھی۔کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے آڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ سرکاری تحویل سے فرار ہوگیا اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان ایک حساس آپریشن کے دوران فرار ہوا، اسے اپنے جرائم کی سزا ملنا تھی۔اسی حوالے سے اب جنگ اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سینئر سیکیورٹی حکام نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی حراست سے فرار ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close