قومی

دوران انٹرویو گالیاں کیوں دیں؟ خلیل الرحمان قمر کیخلاف کروڑوں روپے ہرجانے کادعویٰ دائر

لاہور (94 نیوز) لاہور کی سول عدالت میں ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائرکردیاگیا۔خلیل الرحمان قمر کے خلاف مقامی صحافی فرخ شہباز وڑائچ نے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے جس میں درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیارکیا گیاہے کہ انٹرویو کے دوران خلیل الرحمان قمر سے مناسب سوال کیا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے۔

درخواست گزار کا کہناہےکہ خلیل الرحمٰن قمر نے سوال کا جواب دینے کے بجائے کیمرہ کے سامنے گالی دینا شروع کردی۔بعدازاں خلیل الرحمٰن قمر نے سوشل میڈیا پر میرے خلاف مہم بھی شروع کی جس کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں۔خلیل الرحمان قمر کی غیر مناسب زبان اور دھمکیوں کی وجہ سے میری شہرت کو نقصان پہنچا۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعاکی ہے کہ خلیل الرحمان قمر کو 5کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔

خیال رہے کہ خلیل الرحمان قمر لائیو شو میں ایک خاتون کی جانب سے بار بار ٹوکے جانے پر انہوں نے لائیو ہی انہیں نہ صرف جھاڑ پلائی بلکہ نامناسب الفاظ بھی اداکیے جس کے بعد ان پر شدید تنقید ہوئی جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد نے عورت مارچ کی مخالفت میں ان کے نازیبا الفاظ کی بھی حمایت کی ۔ اسی موضوع پر مقامی صحافی فرخ وڑائچ نے ان کا انٹرویو کیا تھا۔ دوران انٹرویو فرخ نے خلیل الرحمان سے ان کے طرز عمل بارے سوال کیا تو وہ نہ صرف بھڑک اٹھے بلکہ گالی دی اور کیمرہ بند کرنے کا کہا ۔ ان کے اس رویے کو باشعور اور پڑھے لکھے افراد شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

طرزِ عمل ۔۔۔ مردوں کا نیا ہیرو ۔۔۔فرخ شہباز وڑائچ تو نہ عورت مارچ کی انتظامیہ میں شامل ہے نہ تکریم نسواں مارچ کا منتظم ۔۔۔ وہ تو بس ایک عام صحافی ہے، راسخ االعقیدہ، نوجوان اور دلیر ۔۔۔ گزشتہ روز "طرز عمل" کے لفظ کے استعمال پر فرخ کو خلیل قمر کے کس طرز عمل کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔ آپ بھی دیکھئے، خلیل قمر کا آج کل واسطہ شاید ماروی جیسے عورتوں اور عامر لیاقت جیسے مردوں سے پڑتا رہتا ہے اور وہ ان کی وجہ سے شدید ذہنی دباوؑ میں آ کر شاید سائیکو ہو گیا ہے ۔۔۔ اگر وہ عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں بلکہ نوجوانوں کو گالیاں دے گا اور سوال کے جواب میں who the fuck are u کہے گا تو لوگ ڈاکٹر رشید چوہدری اور ڈاکٹر آئی اے کے ترین کو تو یاد کریں گے نا۔ اور اگر یہ گالی نہیں ہے تو یہ شخص اپنے بیٹے سے یہ الفاظ بول کر دکھائے۔ اس موقع پر نوجوان اینکر نے جس کمال تحمل کا مظاہرہ کیا اس کی تحسین کی جانی چاہیئے ۔۔۔اس خلیل رائٹر کا شاید کیپیسٹی سے زیادہ عزت، پیسہ، شہرت ملنے پر دماغ خراب ہو گیا ہے۔ حیرت ہے کہ اس شخص کہ فرخ شہباز وڑائچ جیسے تحمل مزاج، بردبار، سنجیدہ صحافی کے ساتھ ہی بدتمیزی شروع کر دی۔ ہماری بدقْسمتی دیکھئے کہ ایک طرف ماروی سرمد جیسی عورت عام پاکستانی خواتین کی خود ساختہ نمائندہ بن بیٹھی ہے (یا بنا دی گئی ہے) تو دوسری جانب خلیل قمر جیسا غصیلا شخص اُس سے الجھ کر مردوں کا خود ساختہ نمائندہ بن بیٹھا ہے۔ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں، کوئی بھی اٹھتا ہے اور اس ہجوم کو موب منٹیلیٹی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ میرے پاکستانیو! آیک گھٹیا شخص کی مخالفت کرنے والا بھی اسی قبیلے کا ہو سکتا ہے اور اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ گھٹیا ہو سکتا ہے۔ پلیز خلیل قمر کو عام مردوں کا نمائندہ سمجھنا بند کیا جائے، اس کی اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ طرزِ عمل کا لفظ استعمال کرنے پر اتنے بڑے سنجیدہ صحافی سے بھی بدتمیزی کرتا پھرتا ہے، سگریٹ ۔۔۔ پیتا ہے، پھر بھی اس کو مردوں کا نمائندہ سمجھا جائے، شرم کا مقام ہے۔

Posted by Advoice on Saturday, March 7, 2020

 

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close