قومی

ہیلتھ اتھارٹی میں تعینات کلرک نصیر نے سی ای او آفس کو اپنے پرائیویٹ کاموں کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا

فیصل آباد (94 نیوز ہیلتھ رپورٹر) ہیلتھ اتھارٹی میں تعینات کلرک نصیر نے سی ای او آفس کو اپنے پرائیویٹ کاموں کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ بتایاجاتاہے کہ ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ میں تعینات کلرک نصیر کو میڈیکل اور فارمیسی مالکان کی اپنی محنت کے عوض فارمیسی رجسٹریشن کی فائیلیں تیار کرنے اور بھاری نذرانے لینے کے الزامات پر تبدیل کیا گیا تھا سی ای او آفس میں تعیناتی کے بعد اسے ٹیلی فون آپریٹر کی ذمہ داری سونپی گئی جس کے بعد بھی مذکورہ ملازم مبینہ طور پر نذرانے لینے سے باز نہیں آیا اور ڈیوٹی سے غائب رہنا بھی معمول بنا لیا ہوا ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ نصیر دن بھر دفتر سے غائب رہتاہے اور فارمیسی مالکان کی پرائیویٹ فائلیں تیا ر کرنے میں مصروف دن گزارتا ہے۔ سی ای او کے دفتر آنے پر وہ فوری آفس پہنچ کر خود کو حاضر ظاہر کردیتا ہے۔ذرائع کاکہناہے ٹیلی فون روم سے غائب ہونے پر سائلین اور سرکاری طور پر آنیوالے فون بھی نہیں سنے جارہے جس کی وجہ سے سائلین پریشان ہیں جبکہ سی ای او آفس تک آسان رسائی ٹیلی فون کا مقصد بھی ختم ہوکر رہ گیا ہے۔سائلین نے سی ای او ہیلتھ سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی حوالے سے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر اسفندیار سے موقف جاننے کیلئے ٹیلیفون کیا گیا انہوں نے کال اٹینڈ ہی نہیں کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button