Imran Khan was rejected from the selected, we will decide to end the sit-in, Maulana Fazlur Rehman
Dividing the nation on the basis of religion is a conspiracy of the West, they are getting closer to the goal


Islam Abad (94 news) Maulana Fazlur Rehman, the head of Jamiat Ulema-e-Islam, has said that we are getting closer to our goal, all the institutions of Pakistan are in a state of crisis, Imran Khan has been rejected from the selected, it is a conspiracy of the West to divide the nation on the basis of religion.
According to the details, Maulana Fazlur Rehman while addressing the gathering of Azadi March said that we are getting closer to the goal we have come up with. Today, a meeting of all the political parties of the opposition was held. He said that the leaders of all political parties have assured me that we will not leave JUI alone and will continue to walk alongside you. He said that I thank him for this, today it has also died that other political parties are not with us. All the leaders of the opposition have unanimously said that we have to take the decision to raise this gathering, not you. The situation that you were feeling a little disappointed yesterday is not the same now. He said, "My friend, it is a strange situation. There was a sit-in in 2014. At that time, all the political parties were on one side in the government and Kam Bakht was on one side, and even today, when all the political parties are on the same side in the opposition, Kam Bakht is alone in the government. It seems that this people was not a representative of the people. I don't know whose representative it is." He said that now the matter has gone beyond selected, now it is rejected. He said that he thought that maybe Modi would be a source of mercy for me and he thought that when Modi is successful, the Kashmir issue will be resolved and what has happened today is a continuation of this bargaining.
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج جب کشمیری عوام خود کوتنہا محسوس کررہے ہیں ، میں اس پلیٹ فارم سے کہہ رہاہوں کہ پاکستان کے عوام کبھی بھی آپ کوتنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ آزادی کی جدوجہد میں آپ کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع مزدور ، کسان ، بیروزگار نوجوان اور چھوٹے دکاندار کوامید دلا رہاہے ، اللہ کرے کے ہم ان کی امیدوں پر پورا اتر سکیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومت کے ہر گزرتے دن کے ساتھ زوال کی طرف جارہے ہیں، پچھلی حکومتوں نے ستر سال میں جتنے قرضے لئے تھے ، اس حکومت نے ایک سال میں اس ملک کو اتنے قرضے میں جکڑ دیاہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کو جتنا وقت دیا جائے گا ، اس کا ایک ایک دن پاکستان کے زوال کادن ہوگا، ہم اس کو مزید وقت نہیں دیناچاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی ناکام ہے اورداخلی سطح پر بھی یہ ناکام ہوئے ہیں، ہم پاکستان کوعالمی تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے تمام ادارے اضطراب میں ہیں اور ہم بھی اضطراب میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک مذاکراتی کمیٹی بناکر بھیج دی ہے جس نے کہا کہ ہم ایک شرط لگا کر مذاکرات کرناچاہتے ہیں لیکن ہم نے کہا کہ مدعی ہم اور مطالبے ہم نے کرنے ہیں نہ کہ تم نے شرط لگاکر مذاکرات کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتاہے کہ یہ مذہبی لوگ ہیں ، یہا ں خواتین کو نہیںآنا دیا جاتا ، میڈیا میں کام کرنے والی خواتین سے پوچھو ، ان کوکتنا احترام دیا جارہاہے جس کا ان کی جانب سے اعتراف کیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ خواتین کو شریعت کے مطابق اس کاحق دیا جائے تو وہ کبھی بھی محرومی کا شکار نہیں ہوتیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوجانا ہوگا ، جائے بغیر بات نہیں بنے گی ، ناجائزحکومت کے ہوتے ہوئے معاملات بہتر نہیں ہوسکتے ، بہت سی چیزیں ہمارے علم میں آرہی ہیں لیکن ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، ہمیں اسی رویے اور تحمل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ،پور ی قوم کوایک صف میں لاناہوگا ۔یہ ناجائزحکمران جتنی جلدی جائے گا ، اتنی جلدی ہی اضطراب کاخاتمہ ہوگا ، ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور فیصلہ اپوزیشن نے کرناہے کہ ہم نے کب تک یہاں بیٹھناہے اور کب اٹھنا ہے ؟ انہوں نے مجمع سے کہا کہ کھسکنا شروع نہیں کرنا بلکہ جس استقامت اور غیرت کے ساتھ آپ یہاں آئے ہیں ، اسی استقامت اورغیرت کے ساتھ یہاں بیٹھنا ہے اوراپوزیشن کی قیادت کے فیصلے کا انتظار کرناہے ۔



