کالم

ذیل گھر خطرناک، بیوٹیفکیشن کے پیچھے چھپا بڑا خطرہ،

خستہ دیواریں کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہیں، صحافیوں اور تاجروں کی قیمتی جانیں مسلسل خطرے میں، وزیراعلی کب نوٹس لیں گی، ظاہری خوبصورتی، اندر سے عمارت تباہی کے دہانے پر

تحریر: مقبول احمد لودھی سابق صدر فیصل آباد پریس کلب

94 نیوز۔ فیصل آباد کے تاریخی کچہری بازار میں قائم قدیمی ذیل گھر کی عمارت ایک طرف شہر کے بیوٹیفکیشن منصوبوں کے سائے میں کھڑی ہے تو دوسری جانب اس کی بوسیدہ اور خطرناک حالت کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ گھنٹہ گھر اور ملحقہ بازاروں کی خوبصورتی کے لیے جاری اقدامات کے دوران ذیل گھر کے بیرونی حصے کو بھی رنگ و روغن اور تزئین و آرائش کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کی گئی، مگر عمارت کا اندرونی ڈھانچہ آج بھی خستہ حالی، دراڑوں اور ٹوٹ پھوٹ کی خوفناک تصویر پیش کر رہا ہے۔ عمارت کی دیواروں میں پڑنے والی گہری دراڑیں، جھکتے ہوئے حصے، خستہ مینار، ٹوٹے شیڈ اور بوسیدہ چھتیں کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ بارش کے دوران چھتوں سے پانی پوری شدت کے ساتھ اندر کمروں میں آتا ہے جبکہ دیواروں اور چھتوں سے پلستر اور اینٹیں جھڑتی رہتی ہیں۔ بازار کی بیرونی دیوار بھی کئی مقامات پر آگے کی جانب سرک چکی ہے، جس سے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ یہ تاریخی عمارت صرف ایک قدیمی ورثہ ہی نہیں بلکہ صحافتی سرگرمیوں کا بھی اہم مرکز ہے۔ ذیل گھر میں مختلف اخبارات کے دفاتر کے ساتھ ساتھ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس دستور کا دفتر بھی قائم ہے، جہاں مختلف ٹی وی چینلز، اخبارات اور ریڈیو سے وابستہ صحافی دن رات آتے جاتے رہتے ہیں اور اکثر رات گئے تک یہاں موجود رہتے ہیں۔ ایسے میں عمارت کی موجودہ حالت صحافیوں، دکانداروں اور شہریوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سال 2015-16 میں اُس وقت کے ڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل، جو اس وقت سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں، کے دور میں ذیل گھر کی مرمت و بحالی کے لیے تقریباً 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس دوران بعض پرانی لینٹر چھتوں کو ختم کر کے ٹی آر گارڈر کے ذریعے نئی چھتیں تعمیر کی گئیں، مگر عمارت کا مکمل حصہ بحال نہ ہو سکا۔ چند سال گزرنے کے بعد مرمت شدہ حصہ بھی دوبارہ خستہ حالی کا شکار دکھائی دیتا ہے جبکہ باقی ماندہ حصہ مزید خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تاریخی بازاروں کو خوبصورت بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب انہی عمارتوں کی بنیادی حفاظت اور مضبوطی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی سرکاری تقریب، افتتاح یا رش والے موقع پر صورتحال بگڑی تو یہ غفلت کسی بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
تاجروں، صحافیوں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر فیصل آباد اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف ظاہری خوبصورتی کے بجائے تاریخی عمارتوں کی اصل بحالی اور تحفظ پر فوری توجہ دی جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے قبل انسانی جانوں اور شہر کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button