کربلا معرکہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن لمحہ تھا، پیر مقصود احمد


فیصل آباد (94 نیوز) جامع مسجدالبرھان شہبازٹاون میں محفل شان صحابہ واہلبیت سے ابواحمد پیر محمد مقصود مدنی ، پیر قاری عاشق نعیمی مدنی، حافظ رضوان نعیمی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کربلا معرکہ حق و باطل کے درمیان وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس میں نواس رسول ۖ، حضرت امام حسین نے اپنے خون سے اسلام کی آبیاری کی کربلا ہمیں درس دیتا ہے کہ حق کے لیے سر کٹایا جا سکتا ہے، مگر جھکایا نہیں جا سکتا امام حسین نے دنیا کو بتا دیا کہ جب دین خطرے میں ہو تو خاموشی جرم ہے، اور حق کی خاطر قربانی دینا ایمان کی معراج ہے یہ دن سوگ کا دن ہے قربانی کا دن ہے فکر کا دن ہے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دین صرف عبادات کا نام نہیںبلکہ جذب وفا، قربانی، اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام بھی ہے امام حسین نے ہمیں صرف ماتم کا پیغام نہیں دیا، بلکہ عمل، صبر، اور اصولوں پر ڈٹ جانے کی راہ دکھائی انھوں نے مزیدکہا محرم آتے ہی فضائیں سیاہ پوش ہو جاتی ہیں، زبانیں ذکرِ حسین سے تر ہو جاتی ہیں، آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں، اور دلوں میں کربلا کی تپش محسوس ہونے لگتی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ذکر کے آنسوں سے نکل کر فکر کے عزم کی طرف بڑھا جائے فکرِ حسین وہ شعور ہے جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے جو باطل کے خلاف قیام کی جرات دیتا ہے جو ضمیر کو جگاتا ہے، اور جو دین کو صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ عدل و انصاف، حریت اور مساوات کا نظام قرار دیتا ہے اگر ہمارے اعمال میں حسین کا کردار نہیں، ان کی فکر نہیں، تو پھر صرف زبان سے "لبیک یا حسین”کہنا کافی نہیں یہ تجدید عہد، فکرِ کربلا، اور امام حسین کی تعلیمات پر غور کرنے کا دن ہے اللہ رب العزت ہمیں فکر حسین اور اسوہ حسینی پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے



