نشہ کرنے والا انسان معاشرے میں دھتکار دیا جاتا ہے، صوفیہ رضوان،میاں ندیم احمد

پرزنرز ویلفئیر سوسائٹی بورسٹل جیل کے زیر اہتمام جیل میں عالمی یوم انسداد منشیات کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر) پرزنرز ویلفئیر سوسائٹی بورسٹل جیل کے زیر اہتمام جیل میں عالمی یوم انسداد منشیات کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر اینڈ بیت المال (سرک پراجیکٹ) اور سینئیر نائب صدر پرزنرز ویلفئیر سوسائٹی و صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز میاں ندیم احمد نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر جیل میں قیدی بچوں کو آگاہی دیتے ہوئے صوفیہ رضوان اور میاں ندیم احمد نے کہا کہ نشہ انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے اور یہ انسانیت سے نکال کر حیوانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ نشہ کرنے والا انسان معاشرے میں دھتکار دیا جاتا ہے۔نشہ کرنے والے کو کوئی اپنے پاس بھی بٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ نشے کا آغاز ہمیشہ ایک سگریٹ سے ہوتا ہے۔ پھر سگریٹ اسکی عادت بن جاتی آہستہ آہستہ وہ عادی اور کچھ آگے بڑھنے کیلئے کرتا ہے جو چرس، افیون، شیشہ، آئس وغیرہ جیسے نشہ کی جانب چلا جاتا ہے اور ایک دن ایسا آتا کہ اس کے گھر والے بھی اسکو گھر سے نکالنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں پھر وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا ہوا سڑکوں پر ذلیل و خوار ہوتا ہے اور اپنے والدین کیلئے بھی عذاب بن جاتا ہے۔ جو بچہ اپنے ماں باپ، بہن بھائی، رشتہ داروں اور دوستوں کیلئے عذاب بن جائے اسکو کون گلے لگائے گا یا اسکے ساتھ کون دوستی کریگا؟انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ نشہ کرنے والے سڑکوں پر، انڈر پاس اور پارکوں میں گرے پڑے ہوتے ہیں اور کوئی انکو اچھا انسان نہیں سمجھتا، اسلئے نشے کے قریب بھی نہ بھٹکیں اپنے والدین، عزیز و اقارب اور دوستوں کی نظروں میں عزت اور مقام حاصل کریں، تاکہ وہ آپ کیلئے اور آپ انکے لئے کچھ کرسکیں۔ لیکچر دیتے ہوئے میاں ندیم احمد اور صوفیہ رضوان نے کہا کہ اسلام بھی ہمیں نشے سے منع کرتا ہے۔ہمارے پیارے پیغمبر نے بھی منع کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارا مستقبل ہیں۔ آپ ہمارا حال ہیں۔ آپ ہماری امیدیں ہیں کسی غلطی کی وجہ سے آج آپ یہاں ہیں لیکن جلد آپ رہائی حاصل کریں گے۔ لیکن دوبارہ اپنی اسی زندگی میں واپس جا کر کبھی بھی جرائم کی دنیا میں نہیں جانا۔ اپنے ماں باپ کیلئے زندہ رہیں۔ نشے کی طرف کبھی بھی نہیں جانا۔ اس موقع پر میاں ندیم احمد نے بچوں سے وعدہ بھی لیا کہ وہ کبھی بھی کسی قسم کا نشہ نہیں کریں گے۔ اگر کوئی اس میں ملوث بھی ہے تو وہ آج سے توبہ کرتے ہیں۔ آخر پر ملکی سلامتی کی دعا بھی کی گئی۔



