زرعی ملک میں گندم کا شدید بحران، بدحال محنت کش مظلوم کسان پریشان، اصل ذمے دار کون؟

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر اک خوشہ گندم کو جلا دو

کالم نگار: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
94 نیوز۔ کسان بورڈ ذرائع کے مطابق صوبہ پنجاب میں اس سال گندم کی کاشت اور بمپر فصل کی خوب پیداوار ھوئی ھے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ھے اس کے باوجود کاشتکاروں کو کم حکومتی نرخ کے باوجود خریداری نہ ہونے پر سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ صوبہ پنجاب کے منحت کش دھقان کو گندم کی فروخت اور باردانہ کے حصول کے لیے اتنی زیادہ مشکلات کا سامنا آخر کیوں کرنا پڑ رہا ہے ۔ گندم کی خریداری کے شدید بحران ، کسان طبقہ کے نقصان کے بنیادی سبب کیا ھیں ۔ اس بحران اور نقصان کے پیچھے کس کی مفادی سوچ کار فرما ھے ۔ اصل حقائق قوم کے سامنے لانا بےحد ضروری ھوگیا تاکہ اس ملک ، صوبہ پنجاب کے مظلوم مزدور اور کسان طبقہ کو کالے چوروں کی شناخت ھوسکے ۔ عوام الناس کے لئے بھی حقائق کا ادراک جاننا بہت ضروری ھوگیا ھے ۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ گندم کی قیمت گرگئی مگر خریدار غائب کیوں ھے ؟ اگر پنجاب حکومت نے گندم نہ خریدی تو پھر کسان طبقہ سے گندم کی خریداری کون کرے گا ؟ یہ بحران حل کیسے ھو گا؟ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ واضح رہے کہ حکومت نے اس سال گندم کی خریداری کا ہدف 3900 روپے فی من مقرر کیا۔ جب کہ گزشتہ برس یہ نرخ 4000 روپے تھا۔ یہ کتنی تشویش کی بات ہے کہ پنجاب میں گندم کی کٹائی تقریبا مکمل ھو چکی ھے۔ لیکن اس کے باوجود حکومتی نرخ سےکم پر بھی فروخت نہیں ہو رہی۔ کاشتکار یہ شکایت کررھے ھیں کہ فلور ملز مالکان 2000 سے 2200 روپے فی من کے نرخ پر گندم خرید رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ارکان کا موقف ہے کہ پنجاب میں ان دنوں ضرورت سے زیادہ 26 ہزار میٹرک ٹن درآمدی گندم گوداموں میں موجود ہے جو نگران حکومت نے منگوائی تھی۔ مسلم لیگ ن کے ارکان صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ باردانے کی لاکھوں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ لیکن حکومت 40 لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکتی ہے ۔ کیوں کہ اس سے حکومت کو 300 تا 400 ارب روپے کا نقصان ہو گا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں گندم کی خریداری کے 393 مراکز قائم کیے ۔ حکومت کا اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری ابھی تک ممکن کیوں نہیں ہوسکی ہے؟ حکومتی ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے گندم کے معاملے پرنئی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پنجاب حکومت کی حکومتی پالیسی پرپورا اترنے والے کسانوں کو 400 سے 600 روپے فی من سبسڈی دینے کے حوالے سے ایک تجویز سامنے آئی ہے جس سے کسان کے نقصان کا کافی حد تک ازلہ ہو سکے گا۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے پاس اگلے سیزن تک 23 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے اور کسانوں کے پاس جو گندم ہے اس میں بارشوں کی وجہ سے نمی ہے اسے ذخیرہ کرنا ممکن نہیں رھا ھے۔ حکومت نے گندم کی صوبائی نقل و حمل سے بھی پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان بہت جلد متوقع ہے ۔ اگر واقعی ھی حکومت صوبے کے کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو پھر صوبہ بھر میں کسانوں کی گرفتاریاں عمل میں کیوں لائئ جاری ھیں، کسان طبقہ اسمبلی کے باھر احتجاج کیوں کررھا ھے ۔ کسان بورڈ پاکستان نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ کسان رہنماؤں کے گھروں پر بدستور چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ احتجاج روکنے کے لیے ابھی تک گرفتاریوں کا عمل جا رہی و ساری ہے ۔دوسری جانب گزشتہ روز صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ابھی تک کسی کسان کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔حکومت نے صوبائی بارڈر کھولنے کا جو اعلان کیا ہے اسکا کیا مطلب ہے ۔ کیا اسکا مطلب آڑھتیوں کو سہولت دینا ہے۔ پاسکو کا 18 لاکھ گندم خریدنے کے جو بلند و بانگ دعوے کئے جارہے ہیں یہ دعوے کن بنیادوں پر کئے جارہے ہیں۔ کیونکہ پورے پنجاب میں پاسکو نہیں ہے۔ صوبائی وزیر خوراک کا خود کہنا ہے کہ کسان کو بجلی کے جو بل ادا کرنے کے لیے دئیے جا رہے ہیں اس میں لائن لاسز کا جھگڑا پڑا ہوا ہے۔ ایک اطلاعات کے مطابق گزشتہ 3 سال سے لائن لاسز کا مسلہ کھڑا ھوا ھے ۔ اگر یہ اطلاعات و تفصیلات درست ھیں تو پھر ان حالات میں تو گندم کا مسئلہ حل کیسے ھو پائے گا کسان کے لیے اس مسئلہ کو سب سے پہلے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ درپیش مسلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو بحران پہ بحران پیدا ھوتا رھے گا۔ دوسری جانب حکومت پنجاب کا کسانوں سے گندم نہ خریدنے کے اقدام کو مقامی عدالت میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی اس درخواست میں چیف سیکریٹری پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کسانوں سے گندم سرکاری قیمت پر خریدنے کی پابند ہے۔ حکومت نے 3900 روپے فی من گندم خریداری کے لیے پالیسی جاری کی اور 22 اپریل سے کسانوں سے گندم کی خریداری شروع کرنی تھی۔ لیکن کسانوں سے گندم کی خریداری کا عمل ابھی تک شروع نہیں ھوسکا ھے۔ بیشتر کسانوں اور کاشکاروں کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے کسان طبقہ کو سستے داموں پر اہنی فصل گندم مافیا کو فروخت کرنے پر مجبور کیا جارہا ھے۔ سرکاری قیمت پر گندم کی خریداری نہ کر کے کسانوں کے بنیادی حقوق بھی پامال کیے جارہے ہیں۔ گندم مافیا کے خلاف فوری اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ اس مافیاز کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے جانے چاہئیں ۔ ھمارا حکمران طبقہ ھماری اشرافیہ اس سچائی سے نظریں کیوں چرا رھی ھے ۔ اس کھلی حقیقت کو نظر انداز کیوں کررھی ھے کہ کسان زمین پر خدا کا نائب ھے ۔ حکمران طبقہ اشرافیہ کی یہ جو شان و شوکت ٹھاٹھ بھاٹ ھے کسان طبقہ کی محنت کی وجہ سے قائم دائم ہے ۔ کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال ھے۔ پنجاب کے کسانوں کا اپنی حکومت سے ایک ھی مطالبہ ھے کہ حکومت نے گندم کی جو سپورٹنگ قمیت رکھی ہے اس پر خریداری شروع کرے جو اب تک شروع نہیں ہو سکی۔

کسان طبقہ کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ گندم فصل کی کٹائی مکمل ھو چکی ھے ۔ گندم کی خریداری نہ کرنے کی وجہ سے غریب کسان کا بڑا نقصان ہورہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب کے 3 ڈویژن بہاولپور ،ڈی جی خان اور ملتان میں اس وقت گندم 28 سو روپے فی من فروخت کی جارہی ہے۔ کسان کا یہ استحصال نہیں ھے تو اور کیا ھے۔ کیونکہ ایک طرف حکومت نے 39 سو روپے فی من قمیت مقرر کی تھی اور دوسری جانب مارکیٹ میں گندم 28 سو روپے فروخت ہو رہی ہے۔ کسان طبقہ کی اس شکایت میں بھی سچائی نظر آتی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز روٹی 4 روپے سے کم رکھنے کی سستی سیاسی شہرت حاصل کرنے کی طمع میں کسان طبقہ کو تباہ کرنے پر تل گئی ہے۔ اس عمل کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ پنجاب کا مجبور کسان اگلی مرتبہ گندم اگائے گا ھی نہیں اور حکومت کو باہر سے گندم منگوانی پڑے گئی۔ حکومت بھی شاید یہی خواہش رکھتی ہے ۔ حکومت پنجاب آگر متاثر کسان طبقہ سے کامیاب مذکرات چاھتی ھے تو پنجاب حکومت اور پنجاب وزیر اعلیٰ مریم نواز کو سنجیدگی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔احتجاج کرنا مظلوم کسانوں کا بنیادی حق ہے۔ پنجاب کے کسانوں کو دبانا نہیں چاہئے۔
کسان طبقہ کے مطالبات پر حکومت کو سنجیدگی سے نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ حکومت پنجاب کی جانب سے کسان کارڈ کی جو منظوری دی گئی ہے۔ گندم کے بحران کی وجہ سے حکومت کا یہ عمل بھی ضائع ہو جائے گا ۔ اس کسان کارڈ سے حکومت کی طرف سے چھوٹے کسانوں کو نقد سبسڈی دی جارہی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کسان کارڈ پر 6 سے 12 ایکٹر والا زمیندار اہل ہوگا اس سے زیادہ رقبہ رکھنے والا کسان کارڈ کا اہل نہیں ہوگا۔ جو سبسڈی حکومت کسان کو کسان کارڈ کے ذریعے دینا چاہتی ہے اس سے اچھا ہے کہ حکومت یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قمیتوں میں کمی کرکے کسان طبقہ کو دے جو اس وقت مارکیٹ میں بلیک میں فروخت ہو رہی ہے۔ اصولی طور پر یہ کارڈ سب کسانوں کے لیے ہونا چاہیے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ 15 سے 20 ایکٹر والے دھقان کسان کارڈ نہ لے سکیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کا دائرہ کار وسیع کرے اور یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قمیتوں میں کمی کرے تاکہ کسان کو فائدہ حاصل ھو سکے۔ خیبر پختونخوا میں 2013 سے لیکر اب تک تحریک انصاف کی مسلسل حکومت چلی آرھی ھے ۔ عمران خان میاں خاندان کے سب سے بڑے مخالف ھیں۔ تحریک انصاف ن لیگ کی سب بڑی مخالف سیاسی جماعت ھے ۔ عمران خان کے حکومت مخالف بیانیہ نے مسلم لیگ ن کی مقبولیت کو خاصی حد تک کم کیا ھے ۔ ن لیگ کا صوبہ پنجاب میں بھی ووٹ بینک خاصا کم ھوا ھے ۔ ن لیگ کی پنجاب حکومت کے کمزور فیصلہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے پنجاب کے کسانوں کو گندم خریدنے کی پیشکش کردی ھے ۔ تحریک انصاف نے صوبہ پنجاب میں کسانوں سے گندم نہ خریدنے کا ذمہ دار شوگر مافیا کو قرار دیے دیا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے پنجاب کے کسانوں کو پیشکش کی گئی ہے کہ ان کی صوبائی حکومت کسانوں سے گندم خریدنے کے لیے تیار ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کے سلسلے میں صوبہ بھر میں میگا سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے چالیس کلو گندم کی قیمت 3900 مقرر کی ہے اور ترجیحی بنیادوں پر کاشتکاروں سے خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تاکہ خیبرپختونخوا کے کسانوں کو فائدہ ہو اور زیادہ گندم کاشت ہو سکے۔ تحریک انصاف نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ صوبہ پنچاب میں گندم خریداری نہ ہونے کے پیچھے شوگر مافیاز کا ھاتھ ہے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ پنجاب میں بمپر گندم ہونے کے باوجود شوگر مافیاز نے نجی سطح پر باہر سے گندم درآمد کی۔ اسی وجہ سے ن لیگ کی حکومت پنجاب کے کسانوں سے گندم نہیں خرید رہی ہے ۔ خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر خوراک کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کسان طبقہ کے لیے دروازے کھلے ہیں ۔ کے پی کے میگا سینٹرز پر کوئی بھی کسان گندم فروخت کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ھفتہ کے روز 27 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے کسانوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو گندم کی خریداری کا حکم دیا تھا کہ وفاقی حکومت کسانوں سے گندم کی خریداری کرے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا گندم خریداری کا ہدف 14 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 18 لاکھ میٹرک ٹن کردیا گیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے پاسکو کو احکامات جاری کیے کہ فوری طور کسانوں سے گندم کی خریداری کی جائے اور بڑھائے گئے ہدف کے مطابق گندم کی خرید کی جانی چاہیے ۔ محکمہ خوراک پنجاب کا کہنا ہے کہ ہمارے گوداموں میں 23 لاکھ ٹن گندم پہلے سے ہی موجود ہے۔ تاہم وزرا کی 3 رکنی کمیٹی گندم کی خریداری کے حوالے سے پالیسی کا اعلان کرے گی۔ جمعہ 3 مئی 2024 کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے کسانوں سے گندم کی خریداری کے حوالے سے حکومتی ٹیم کو خصوصی ہدایات جاری کیں ۔ ایک خصوصی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے قریبی دیرینہ ساتھیوں اور ارکانِ اسمبلی نے ان کو کسانوں کی جانب سے گندم خریداری بحران پر کسانوں کی مختلف تنظیموں کے تحفظات کے بارے بھی آگاہ کیا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ گندم اسکینڈل پر نواز شریف سخت برہم ھوئے ھیں اور انہوں نے موجودہ وزیراعظم پاکستان کو اس مسلہ پر 6 مئی کو لاہور میں طلب کیا ھے ۔ مسلم لیگ ن کے بعض ارکان اسمبلی کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اجلاس کے بعد محکمہ خوراک و محکمہ زراعت سمیت حکام کے ساتھ فالو اپ میٹنگ بھی کریں گے۔ یہاں پر یہ اھم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت گندم پر سبسڈی دے سکے گی ۔ صوبہ پنجاب میں کیا روٹی کی قیمت 16 روپیہ برقرار رھے سکے گی ؟ ان اھم سوالوں کا جواب بھی آنے والے دنوں میں بہت جلد مل جائے گا ۔ گندم کا بحران آخر پیدا کیوں ھوا ؟ اس کا اصل ذمے دار کون ہے ۔ واضح رہے کہ سابق وفاقی اور صوبہ پنجاب کی نگران حکومت پی ڈی ایم کی سابق حکومت کی معاشی پالیسیوں کا تسلسل تھی ۔ ان نگران حکومتوں نے وھی کیا جو پی ڈی ایم کی 16 ماہ کی حکومت نے اس کی ذمے داری لگائی تھی ۔ صوبہ پنجاب میں گندم بحران جاننے کے ھمیں ایک نظر ماضی قریب پر ڈالنی پڑے گی ۔ 4 مارچ 2023 کو سابق صوبائی نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا ، جس میں گندم خریداری پالیسی برائے 2023-24 کی منظوری دے دی گئی تھی ۔ اس کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت 35 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدے گی جبکہ صوبہ بھر میں گندم خریداری کے لیے 395 سنٹرز بھی بنائے جائیں گے۔ سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کابینہ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے گندم کو روزانہ کی بنیاد پر گندم خریداری مہم کاجائزہ لینے کی بھی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ صوبائی کابینہ کے اس اجلاس میں محکمہ خوراک کے فوڈ آپریشن کے حوالے سے سرکلر ڈیٹ میں 300 ارب روپے کمی کے پلان کی منظوری بھی دی گئی تھی۔ ن لیگ کی پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز جو کہ اپنی سیاسی جماعت کی سیاسی ساکھ کا آخری چراغ سحری بھی ھیں اگر انہوں نے صوبہ میں گندم کے بحران کو فوری طور حل کرنے کی طرف توجہ نہ دی، مقررہ کردہ نرخوں پر گندم کی فوری خریداری ناں کی گئی ، مظلوم کسان طبقہ کو فوری ریلیف فراہم ناں کیا گیا تو عوام الناس کے ووٹرز کو بھی اس بات پر مجبورا یقین کرنا پڑ جائے گا کہ ن لیگ کی موجودہ صوبائی حکومت فارم 45 کی نہیں بلکہ فارم 47 کے نتیجے میں برسرِ اقتدار آئی ہے ۔مستقبل کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ کیونکہ حالات واقعات اور قبولیت کے عمل کو ھمارے ھاں بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔ یہاں موسم کی طرح سب کچھ پل بھر میں بدل جاتا ہے ۔
نوٹ: ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


