قومی

زرعی یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈاکٹراقرار احمد کو وی سی ہاؤس پرپریس کانفرنس کرنے سے منع کر دیا اور وی سی ہاؤس فوری خالی کرنے کا نوٹس دیدیا

فیصل آباد (94 نیوز) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی انتظامیہ نے سابق وائس چانسلر اقرار احمد خاں کو سرکاری رہائش گاہ وی سی ہاؤس پرپریس کانفرنس کرنے سے منع کر دیا اور وی سی ہاؤس کو فوری خالی کرنے کا نوٹس بھی دیدیا۔ اس سے قبل گورنر پنجاب /چانسلرزرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے ریٹائرمنٹ سے قبل یکے بعد دیگرے سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ اجلاس کرتے ہوئے خلاف ضابطہ یونیورسٹی میں پروفیسر زسمیت 228بھرتیاں کو غیرقانونی قرار دیتے ہو منسوخ کردیا تھا جبکہ سابق گورنر پنجاب بیلغ الرحمان نے سابق وائس چانسلر اقرار احمد کو اپنے بیٹے نہال احمد کو سکالرشپ کیلئے بیرون ملک بھجوانے،بھائی ڈاکٹر اظہار خاں اور دیگر رشتے داروں کو نوازنے سمیت اختیارات کا ناجائز، مبینہ کرپشن، اقرباء پروری سمیت 608ملازمین کو بھرتی کرنے کے سنگین الزامات کے خلاف تحقیقات کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں گذشتہ 15سال تک وائس چانسلر رہے،اور وہ سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کے کار خاص سمجھے جاتے ہیں۔زرعی یونیورسٹی کے قانون کے مطابق کسی بھی وائس چانسلر کو ریٹائرمنٹ کے بعد وی سی ہاؤس ایک ہفتہ میں خالی کرنا ہوتا ہے مگر ڈاکٹر اقرار احمد خاں ریٹائرمنٹ کے بعد ابھی تک وی سی ہاؤس خالی نہیں کیا گذشتہ روز وی سی ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کی میڈیا کو اطلاع دی گئی جس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سابق وائس چانسلر کو پریس کانفرنس کرنے سے منع کردیا اور فوری وی سی ہاؤس بھی خالی کرنے کا نوٹس دیدیا۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل جولائی تا اکتوبر 2024ء کے دوران اپنے منظور نظر پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر کو نوازنے کیلئے یکے بعد دیگرے سلیکشن بورڈ کے 14اجلاس بلا کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 606افراد کو بھرتی کیا گیا جن میں 103 نئے اور 125یونیورسٹی میں کام کرنیوالے سمیت دیگر ملازمین شامل تھے اور انٹرویو کے خلاف من پسند افراد کو نوازنے کیلئے ٹیسٹ کے حاصل کردہ نمبرز میں ہیراپھیری کی گئی اور اہل امیدواروں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اکثر امیدواروں کے ٹیکنیکل تجربے کے اضافی نمبرز دیئے گئے اور تھرڈ پارٹی کی خدمات بھی حاصل نہ کی گئیں جس پر گورنر پنجاب نے سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ اجلاس کے فیصلوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 608افراد کی بھرتیوں کو قوائد وضوابط کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کرد یا۔انہوں نے سنڈیکیٹ کمیٹی کوحکم جاری کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر تمام معاملات کی مکمل چھان بین کرتے ہوئے جامع رپورٹ پیش کریں اور مذکورہ نشستوں کو قانون کے مطابق تشہیر کر کے دوبارہ بھرتیاں کی جائیں۔ڈاکٹر اقرار احمد خان نے زرعی یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے پریس کانفرنس کی اجازت نہ ملنے پر پریس کلب فیصل آباد میں پریس کانفرنس کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button