قومی

ایف ڈی اے کی سروسز کو مزید بہتراور مستعد بنایا جائے، آصف چوہدری ڈائریکٹر جنرل

فیصل آباد (94 نیوز) ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے حکم دیا ہے کہ ایف ڈی اے کی سروسز کو مزید بہتراور مستعد بنایا جائے اس سلسلے میں درخواست گزاروں کے لئے ہر ممکن سہولت و آسانی میسر آنی چاہیے۔ انہوں نے یہ حکم اپنے دفتر میں شہریوں کے بعض مسائل سنتے ہوئے جاری کیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے دلاور خاں چدھڑ، ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ جنید حسن منج، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ/پی ایس او شبیر ساجد گجر ودیگر دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے تیزرفتار اقدامات کو اولین ترجیحات میں رکھیں اور افسران کو چاہیے کہ وہ کسی بھی درخواست گزار کی شکایت کا فوری نوٹس لیکر اسے شکایت کنندہ کی تسلی و اطمینان کے مطابق ازالہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہریوں کے مسائل پر توجہ نہ دینے والے سٹاف کا سخت محاسبہ ہوگا لہذا سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کوئی رخنہ اندازی نہیں ہونی چاہیے اور کام چور اہلکار اپنا قبلہ درست کرلیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے بعض شکایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور افسران سے کہا کہ کسی بھی شعبہ میں لوگوں کے کاموں سے متعلق کوئی فائل بلاجواز زیر التواء نہیں ہونی چاہیے اس سلسلے میں ماتحت سٹاف کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں اور کام میں تاخیر یا درخواست گزار کو پریشان کرنے والے اہلکار کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائیں۔ انہوں نے شہریوں کو بتایا کہ تجاوزات اور غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف بھرپور آپریشن تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے ایک شہری کی شکایت پر گلفشاں کالونی جھنگ روڈ کے بازاروں سے تجاوزات کو ترجیحی بنیادوں پر فوری ہٹانے کا حکم دیا اور کہا کہ بار بار نوٹسز کے باوجود عوامی راستوں کو روکنے سے باز نہ آنے والے دکانداروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں۔ بعض شکایات پر ڈی جی ایف ڈی اے نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاہم شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ خریدنے یا سرمایہ کاری کرنے سے قبل اس کی قانونی حیثیت کی اچھی طرح چھان بین کر لیں تاکہ بعد میں انہیں کسی قسم کی دقت یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button