سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود بری،عدالت وکالت کے کھیل اور بحث ومباحثہ نے قوم کو بےحس بےخبر کردیا


تجزیاتی رپورٹ ( 94 نیوز، طارق محمود جہانگیری کامریڈ) گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں نامزد ملزمان کو بری کردیا ہے۔عدالت کی جانب سے بریت کا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹ کے 30 جنوری 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت الزامات سے بھی بری کیا گیا ہے ۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک ناحق اور بے بنیاد کیس کا خاتمہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے۔ ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک بھی سامنے آئی تھی۔ جس میں عمران خان کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اب ہم نے صرف کھیلنا ہے۔ امریکا کا نام نہیں لینا۔ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔ جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے27 مارچ 2022 کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں ایک سائفر لہراتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔واضح رہے کہ سائفر ایک سفارتی سرکاری دستاویز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ عمران خان کے خلاف یہ کیس اس بنیاد پر بنایا گیا تھا کہ انہوں نے امریکہ میں اس وقت تعینات پاکستان کے سابق سفارت کار اسد مجید کی طرف سے بھیجے گئے سفارتی مراسلے کے مواد کو افشا کیا۔ سائفر سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ اپریل 2022 میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور بطور وزیراعظم بے دخلی امریکی سازش کا حصہ تھی۔امریکی حکام اس کی بارہا تردید کر چکے ہیں۔ جبکہ پاکستانی حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ پاکستان کے خلاف امریکہ نے کسی طرح کی سازش کی ہو۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ 1947 میں آزادی ملی ، لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو بنایا گیا ، جب سے ملک بننا ھے تب سے یہاں پر عدل وانصاف اور قانون کے نام پر مداری پن کا کھیل کھیلا جارہا ھے ۔ اس بندر تماشا میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا ۔ یہاں پہلے مقدمہ دائر کیا جاتا ہے ۔ پھر تاریخ پہ تاریخ دی جاتی ہے ، سماعتیں ھوتی ھیں ۔ اور پھر عدم ثبوت اور شواھد کی بنا پر ملزمان ، مجرموں کی رھائئ ، بریت کا حکم دیا جاتا ہے ۔ تحریری فیصلہ میں بری کردیا جاتا ہے ۔ آصف علی زرداری 14 تک جیل میں قید و بند رہے ھیں ۔ شہباز شریف ، مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے بیشتر سیاسی راہنما مختلف الزامات کے تحت مقدمات کی ذرد میں رھے ھیں ۔ نواز شریف کے خلاف 2016 سے لیکر 2019 تک پانامہ پیپرز لیکس کا مقدمہ جاری رہا ۔ ان مقدمات کا نتیجہ کیا نکلا ۔ تمام نامزد ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا ۔ والیم نمبر 10 کا بہت شور شرابہ رھا ۔ کہاں گیا والیم 10. اکتوبر 2023 میں نواز شریف کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات میں بری کردیا گیا ۔ نواز شریف جوکہ ایک ارب کھرب پتی سیاست دان ھیں انہوں نے پاناما کیس کے دوران ایک خوبصورت بات کہی تھی کہ ھمارے عدالتی نظام میں کڑوروں روپے خرچ اور ضائع ھوتے ھیں ۔ امریکی اخبار نے بڑی زبردست شہ سرخی لگائی تھی ، جس میں لکھا تھا کہ پاکستان کا عدالتی نظام امیروں کی کتیا ھے ۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی ، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمے کا کیا ھوا۔ کیا متاثرین کو فوری سستا انصاف مل سکا ۔ کیا بےنظیر بھٹو کےاندھے قتل کے مجرم بے نقاب ھوسکیں ھیں ۔ سانحہ پشاور کے دھشت گرد ماسٹر مائنڈ پھانسی کو پھانسی دی جا سکی ہے ۔ عمران خان کی بریت کا تحریک انصاف کو بہت سیاسی فائدہ پہنچے گا ۔ جبکہ اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر ن لیگ کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ھوگا۔ عدالت و وکالت کے بحث ومباحثہ نے پاکستانی قوم کو خارجی حالات سے بالکل بےخبر ، لاعلم ، اور بیگانہ کردیا ھے ۔ ان خامیوں کو زوال پزیری کی علامت، اخلاقی اور ذھنی پسماندگی کی بڑی نشانی سمجھا جاتا ھے ۔ ھمارے ھاں جس کو شعور کی بیداری اور تبدیلی کہا جا رہا درحقیقت وہ بہت بڑی برائی اور نفسیاتی بیماری ھے ۔ سچ پوچھیے تو ھم جہالت اور پسماندگی کے آخری دھانے پر پہنچ گئے ھیں ۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ "ھماری داستان بھی نہ ھوگی داستانوں میں ” شروع ھوجاتا ھے ۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں احتساب کرنا ممکن نہیں رھا ھے ۔ احتساب کا ڈھونگ رچانا اب بند ھوجانا چاہیے ۔ بندر کھیل تماشا بہت کھیلاجاچکا ھے ۔
نوٹ۔ یہ تحریر کالم نگار کی اپنی ہے۔ ادارہ کا کالم سے متفق ہونا ضروری نہیں۔



