ادب

جرم کا بوجھ اترجاتا ہے یہ جزا بھی ہے سزا کے اندر

شاعرہ: یاسمین حمید

جرم کا بوجھ اتر جاتا ہے یہ جزا بھی ہے سزا کے اندر

زخم کی آنکھ کھلی رہتی ہے زہر ملتا ہے دوا کے اندر

چاہتیں کارِ وضو کرتی ہیں ڈوب کر جوئے وفا کے اندر

روح کے شہر میں سناٹا ہے جیسے ماتم ہو صدا کے اندر

خشک موسم کی فراوانی بھی ہے مری آب و ہوا کے اندر

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close