National

The Army Act Amendment Bill was also approved by the National Assembly

Islam Abad(94 news) Pakistan Army Amendment Bill 2023 سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی منظور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق بل میں کہا گیا ہے کہ سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا انکشاف کرنے والے شخص کو پانچ سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی۔ آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہوگی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔ بل کے مسودے کے مطابق اس قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، علاوہ ازیں عام عہدے پر تعینات افسر ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

بل میں مزید کہا گیا ہے کہ حساس ڈیوٹی پر تعینات اعلی افسران ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک سخت سزا ہو گی۔ آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکٹرانک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ بل کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت اگر کوئی شخص فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگریزی پھیلائے تو اسے دو سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button