جامعات کو ہراسمنٹ فری بنانا ترجیح ہے،طالبات پرسکون ماحول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں، گورنر پنجاب سردار سلیم خان


فیصل آباد (94 نیوز) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ جامعات کو ہراسمنٹ فری بنانا ترجیح ہے تاکہ طالبات پرسکون ماحول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہوا جس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ منشیات فروشی ناسور ہے جس کا قلع قمع ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات دی یونیورسٹی آف فیصل آباد کے گیارھویں کانووکیشن کے موقع پر تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی اور کانووکیشن کے دوران شہید زوہیب الدین کے درجات کی بلندی کی دعاکرائی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان گراؤنڈمیں منعقدہ کاونوکیشن میں مدینہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین میاں محمد حنیف،یونیورسٹی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز محمد حیدر امین،ممبران بورڈ آف گورنرز میاں خالد ریاض اور حسن رشید، ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک،ریکٹر گرین انٹرنیشنل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سید عامر گیلانی،رجسٹرارڈاکٹر زاہدہ مقبول مختلف شعبوں کے ہیڈز، فیکلٹی ممبران اور گریجوایٹس کے والدین تقریب میں شریک تھے۔ اس موقع پر مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ٹیچرعائشہ بتول اور طالبات نے خصوصی نظم پڑھی اس موقع پریونیورسٹی میں زیر تعلیم فلسطینی طلبہ بھی ہمراہ تھے۔گورنرز پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے اپنے خطاب میں تمام گریجو ا یٹس،انکے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی۔ گریجوایٹس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کے والدین نے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آپ کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کیلئے جو قربانیوں دیں آج آپ نے ان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔آپ کا تعلیمی سفر ختم ہوا لیکن آپ پر اصل ذمہ داری اب شروع ہوئی جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھنے جار ہے ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ اپنے معاشرے اور وطن کی خدمت کا عہد کریں تاکہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے مثبت کردار ادا کرسکیں۔گورنر پنجاب نے خاص طور پر ہیلتھ سائنسز کے گریجوایٹس کو نصیحت کی کہ وہ طب کے شعبہ سے وابستہ ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو اندرونی و بیرونی سطح پر بے شمار چیلنجز درپیش ہیں۔ہمارے نوجوان بہت با صلاحیت ہیں ملک کا مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے۔مجھے امید ہے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن کی ترقی و استحکام کیلئے مثبت کردار ادا کریں گے۔گورنر پنجاب نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے مدینہ فاؤنڈیشن کی خدمات کو بے حد سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف فیصل آباد میں میرٹ کے ساتھ ساتھ مستحق طلبہ کیلئے بھی خصوصی سکالر شپس دیئے جارہے ہیں۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ دی یونیورسٹی آف فیصل آباد کو یہ امتیاز حاصل ہے یہاں اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کی دینی و اصلاحی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ یہاں اسلامی سیمینارز و پروگرامز کا باقاعدگی سے انعقا د کیا جاتا ہے جس سے ہماری نوجوان نسل کو دین اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے اس ضمن میں انہوں نے مدینہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین میاں محمد حنیف کو بالخصوص خراج تحسین پیش کیا۔چیئرمین بورڈ آف گورنرز محمد حیدر امین نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گریجوایٹس کی تعلیمی کامیابیوں کو ادارے کے لئے قابل فخر بیان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں سے طلباء کا اصل امتحان شروع ہو گا جس میں وہ اپنی تمام قابلیت کو بروئے کار لاتے ہوئے عملی زندگی میں اپنا مقام حاصل کریں گے۔انہوں نے ادارے کے بانی حاجی محمد سلیم مرحوم کے نظریات اور فکر کی روشنی میں اس علمی اور تحقیقی سفر کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک اور پروفیسر ڈاکٹر عامر گیلانی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کی اور گورنر پنجاب کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ یونیورسٹی کے اس گیارھویں کانووکیشن میں 1794 کامیاب طلباء و طالبات نے اسناد وصول کیں۔ جن میں 17 پی ایچ ڈی گریجوایٹس بھی شامل ہیں۔ان میں یونیورسٹی کے فیکلٹی آف میڈیسن اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز، فیکلٹی آف فارما سیوٹیکل سائنسز، فیکلٹی آف سائنسز، فیکلٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، فیکلٹی آف مینجمنٹ سٹڈیز، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف آرٹس اینڈسوشل سائنسز کے گریجوایٹس شامل ہیں۔اس موقع پر تمام شعبوں کے کامیاب گریجوایٹس سے اپنے شعبہ کے ساتھ مخلص رہنے اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کا حلف بھی لیا گیا۔ مختلف شعبوں میں پوزیشنز حاصل کرنے والے 20 ہونہار گرایجوایٹس کو سلیم گولڈ میڈلز،47 گرا یجو ایٹس کو مختار سلور میڈلز جبکہ20 گریجو ایٹس کو امین برونز میڈلز سے نوازا گیا۔گورنر پنجاب نے ہونہار گریجوایٹس میں میڈلز و اسناد تقسیم کیں۔کانووکیشن کے اختتام پر والدین کی جانب سے جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے جو اپنے بچوں کی کامیابی پر خوشی سے نہال تھے۔




