قومی

منہاج القرآن کی مسجد،مدرسہ اور سکول پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں، انتظامیہ نے نوٹس نہ لیا تو ملک بھر میں احتجاج ہوگا، سید آفتاب،مفتی باغ علی کی پریس کانفرنس

فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر) اتحاد اہلسنت فیصل آباد کے ذمہ داران سید آفتاب عظیم بخاری ،علامہ مفتی باغ علی رضوی،سید شفاعت رسول قادری،علامہ عزیزالحسن،علامہ محمد عرفان چھٹہ،قاسم وقار سیالوی،علامہ عبدالحنان سیالوی،علامہ عبدالرشید رضوی ،محمد ایوب اعوان،علامہ عابدقمر نورانی،قاری عاشق علی نعیمی،مفتی منور حسین قادری،علامہ ممتاز نعیمی،قاری شمشیر قادری، صاحبزادہ محمد سلیم رضا و دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ FDA فیصل آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے گلفشاں کالونی بلاک سی میں ایک پلاٹ سنی مسلک کی مسجد کے لیے وقف کیا اور اسے انجمن فدایان رسول صلی اللہ علیہ وسلم جھنگ بازار کے سپرد کر دیا 1986 میں انجمن فدایان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پلاٹ پر مسجد کی تعمیر کیلئے ذمہ داری منہاج القرآن فیصل آباد کے عہدیداران حاجی محمد عنایت اللہ، حاجی عبدالعزیز ، حاجی محمد رشید قادری پر مشتمل کمیٹی کو سونپ دی ۔ اس کمیٹی نے منہاج القرآن کے رفقا اور مخیر حضرات کے تعاون سے تعمیر کا آغاز کر دیا اس احاطہ میں ایک عدد مسجد، تحفیظ القرآن انسٹیٹیوٹ مدرسہ منہاج القرآن بوائز سکول اور منہاج القرآن فری ڈسپنسری تعمیر کی گئی۔ مسجد کا افتتاح بانی تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کیا اور مسجد کا نام منہاج القرآن نوری جامع مسجد رکھا ۔ بعد ازاں مسجد اور ملحقہ اداروں کی تعمیر جاری رہی ، ہر مرحلہ و شعبہ کی تعمیر پر ڈاکٹر طاہر القادری اس کا افتتاح کرتے رہے۔1993 میں منہاج القرآن ماڈل سکینڈری سکول بوائز کا اغاز کیا گیا اور محکمہ تعلیم میں اس کی رجسٹریشن منہاج القرآن کی ملکیت سے کروائی گئی ۔ ان سب اداروں کی نگرانی منہاج القرآن کے اس وقت کے صدر اور لائف ممبران حاجی محمد رشید قادری اور حاجی محمد عنایت قادری کرتے رہے۔ 2012 میں حاجی عنایت قادری کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حاجی محمد اشرف ( لائف ممبر تحریک) اور حاجی محمد رشید کے بیٹے اسعد رشید نے منہاج القرآن اسلامک سینٹر کے معاملات بطور نمائندہ منہاج القرآن دیکھنا شروع کر دیے۔ اس دوران منہاج القرآن تنظیم نے منہاج القرآن ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجنس ایجو کیشن حکومت پاکستان سے باقاعدہ رجسٹرڈ کروایا، (DGRE) نوری جامع مسجد اور تحفیظ القرآن انسٹیوٹ کو 1986 سے 2023 تک منہاج القرآن نوری مسجد، تحفیظ القرآن انسٹیٹیوٹ اور منہاج القرآن ماڈل بوائز سکول میں بلا تعطل و بیرونی مداخلت مذہبی تعلیمی و تنظیمی پروگرام تحریک منہاج القرآن فیصل آباد کے زیر انتظام تسلسل سے ہوتے رہے ۔ اس دوران ادارے میں بجلی گیس اور ٹیلی فون کے کنکشن بھی ادارہ منہاج القرآن کے نام پر لگائے گئے۔2023 میں تحریک منہاج القرآن کے ذمہ داران کے علم میں آیا کہ کسی نے محکمہ تعلیم میں منہاج القرآن ماڈل بوائز سکینڈری سکول کی ملکیت تبدیل کروانی ہے۔ منہاج القرآن ویلفیر سوسائٹی فیصل آباد کے ناظم رانا غضنفر علی نے محکمہ تعلیم میں شکایت درج کروائی۔ محکمہ تعلیم فیصل آباد نے اعلی سطحی انکوازی کمیٹی تشکیل دے کر سکول پرنسپل و دیگر ذمہ داران کو طلب کرلیا انکوائری کمیٹی نے فریقین کو سماعت کرنے اور ریکارڈکا تفصیلی جائزہ لے کر پر نسپل اور منہاج القرآن کے نمائندگان اور نگران حاجی محمد اشرف اور اسعد رشید کو جعلسازی، دھوکہ دہی کا ذمہ دار قرار دیا ۔ بعد ازاں انہیں افراد نے چوری مجھے اور تحریک کو اندھیرے میں رکھنے ، منہاج القرآن نوری مسجد کے نام سے منہاج القرآن کے لفظ کو حذف کرتے ہوئے فقط نوری مسجد کے نام سے این او سی لینے کی کوشش کی جسے ھوم ڈپارٹمنٹ پنجاب نے مسترد کر دیا۔تحریک منہاج القرآن مرکز لاہور نے دونوں ذمہ داران کو ان کی ذمہ داری سے معزول کر دیا اور ان تینوں افراد کے خلاف تھانہ جھنگ بازار میں ایف انی آر درج کروا دی ۔ تحریک منہاج القرآن فیصل آباد کے عہدیداران کے ساتھ ملزمان حاجی محمد اشرف اور محمد اسد رشید نے مذاکرات کئے اپنی غلطی تسلیم کی اور منہاج القرآن اسلامک سنٹر و ملحقہ اداروں کو تحریک منہاج القرآن کی ملکیت وزیر انتظام تسلیم کرتے ہوئے باہمی معاہدہ پر 22 جون 2025 کو معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد حاجی محمد اشرف نے سکول پرنسپل و جملہ سٹاف ممبران کی موجودگی میں روبرو گواہان دستخط کیے۔ ادارہ کی چابیاں اور مکمل چارج مرکزی ناظم اعلی خرم نواز گنڈا پور صاحب کے حوالے کیاچند ہفتہ بعد حاجی محمد اشرف اور اسعد رشید نے منہاج القرآن اسلامک سینٹر پر قبضہ کرنے کے لیے ایم پی اے رانا عبد الرزاق کی مدد سے کھلم کھلا غنڈہ گردی شروع کر دی ۔ رانا رزاق نے نماز جمعہ کے اجتماع میں تنظیم کے ذمہ داران کا نام لیکر بد زبانی کی اور دھمکیاں دیں۔تنظیم نے متعلقہ پولیس افسران اور ڈپٹی کمشنر صاحب کو حالات سے آگاہ کیا ، جس پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملہ کو رکھا ، تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں نے 100 فیصد متفقہ رپورٹ پیش کی کہ یہ منہاج القرآن اسلامک سنٹر ، مسجد و سکول و غیرہ اول روز سے منہاج القرآن کے زیر انتظام و زیر قبضہ ہیں۔ چند افراد مقامی سیاستدان کے اثر و رسوخ سے ناجائز قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس کی پیش بندی ضروری ہے۔ ڈی ائی سی کے اجلاس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے سی پی او کو واضح احکامات دیئے اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے کہا۔ اسکے باوجود رانا عبد الرزاق ایم پی اے مسلسل منہاج القرآن اسلامک سینٹر پر قبضہ کی کوشش کر رہا ھے۔اہلسنت کے یہ تمام اکابرین ، علما اور قائدین واضح طور پر یہ پیغام ضلعی انتظامیہ تک پہچانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ اہلسنت کے ادارے جو کسی بھی سنی تنظیم کے نام رجسٹرڈھوں ہم انکا تحفظ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔اہلسنت اپنی مساجد ، مدارس اور اداروں کے تحفظ کیلیئے متحد ہیں ضلعی انتظامیہ ڈی آئی سی میں ھونے والے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرواتے ھوئے رانا عبدالرزاق اوراسکے حواریوں کیخلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ ہم امن پسند ، محب وطن اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں۔ اداروں کے زیر انتظام مساجد و مدارس پر قبضے کی اس روایت پر اگر فوری بند نہ باندھا گیا تو شہر میں مذہبی انتشار پھیلے گا۔ آج منہاج القرآن کے اداروں پر قبضے کی کوشش کو قانونی طور پر پوری طاقت سے نہ روکا گیا تو قبضہ مافیا آنے والے وقت میں ہر ادارے کی مساجد اور مدارس پر قبضے کی راہ ہموار کرے گا۔ اسوقت عوام اہلسنت میں شدید اضطراب پایا جاتا ھے۔ ہم ریاستی اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے بھر پور مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے فیصلے پر عمل درآمد کروایا جائے۔ بصورت دیگر ہم شہر بھر میں ہر مسجد اور مدرسے سے احتجاجی تحریک کے آغاز کا قانونی اور جمہوری حق محفوظ رکھتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button