پنجاب کے کاشتکاروں کی خوشحالی، زرعی ترقی اور خود کفالت کے میگا زرعی پراجیکٹس کا آغاز کر دیا گیا ہے، بریگیڈیئر(ر) بابر علاؤالدین


فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کی خوشحالی، زرعی ترقی اور خود کفالت کے خواب کی تعبیر کے لئے پنجاب بھر میں میگا زرعی پراجیکٹس کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بات چیئرپرسن وزیر اعلیٰ پنجاب انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین (ستارہ امتیاز ملٹری) نے ایوب ریسرچ کے دورہ کے دوران ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نئے منصوبوں میں ایگریکلچران پوٹھوار اور سٹرس بحالی ٹاسک فورس کا قیام شامل ہے تاکہ مخصوص علاقوں میں موزوں فصلوں کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔کسان کارڈ سکیم کے تحت100،ارب روپے کی خطیر رقم سے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے فراہم کئے جا چکے ہیں جبکہ ویٹ سپورٹ پروگرام کے تحت12،ارب روپے کاشتکاروں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سولرائزیشن آف ایگری ٹیوب ویلز پروگرام کے تحت 8 ہزار کسانوں کو سبسڈی دی جائے گی۔بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے کہا کہ گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت 10 ہزار کاشتکاروں کو 5 سے 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی فراہم کی گئی ہے جبکہ ساڑھے12،ایکڑ سے زائد گندم اگاؤ مہم کے کامیاب کسانوں میں 1 ہزار فری گرین ٹریکٹرز بھی تقسیم کئے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر خطہ پوٹھوار، تھل اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں فصلوں کی کامیاب کاشت کے لیے میگا پراجیکٹس شروع کئے جا رہے ہیں۔ ہائی ٹیک فنانسنگ پروگرام کے تحت11،اقسام کے جدید زرعی آلات کسانوں کو سبسڈی پر فراہم کئے جائیں گے۔چیئرپرسن سی ایم آئی ایس ایم نے زور دیا کہ زرعی تحقیق کے ثمرات سے کاشتکار استفادہ حاصل کر کے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں زرعی تحقیق، تعلیم اور توسیع کے شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر کے جدید کاشتکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مشینی کاشت کے فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے محکمہ زراعت کے تمام شعبوں کو مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی۔ بابر علاؤالدین نے اس موقع پر کہا کہ ”ریسرچ میں پاکستانیوں نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے” اور ملکی ترقی میں زراعت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔مزید برآں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب دالوں کی کاشت کے رقبہ میں اضافے پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ50 نئی زرعی اقسام کی تیاری پر کام کر رہا ہے جبکہ2021 ء سے2025ء تک 106 نئی ورائٹی متعارف کرائی جا چکی ہیں۔ چیف سائنٹسٹ ساجد الرحمان کے مطابق ادارہ اس وقت پروڈکشن ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ کاشتکار زیادہ اور معیاری پیداوار حاصل کر سکیں۔



