قومی

فیصل آباد: آرٹس کونسل میں پاک افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کی تقریب معروف ماہر تعلیم کی تذلیل کے ساتھ بغیر مکمل ہوئے اختتام پذیر

اے ڈی سی جی ہال میں چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے میرا عہدہ بڑا ہے، فوری تقریب بند کی جائے، بچے خوفزدہ ہوکر گھروں کو واپس لوٹ آئے

سوشل میڈیا پر حافظ محمد شعیب کیساتھ عوام کا بھرپور اظہار یکجہتی، اے ڈی سی جی کے رویے کی نجی تعلیمی اداروں کی تنظیمات، اساتذہ، طلباء و سول سوسائٹی کی بھرپور مذمت

فیصل آباد (94 نیوز میاں ندیم احمد) فیصل آباد میں نئے تعینات ہونے والے اے ڈی سی جی فرعون بن گئے، اساتذہ اور طلباء و طالبات کے سامنے معروف ماہر تعلیم و استاد کی عزت کو اپنے بڑے عہدے سے خاک میں ملانے کی آخری کوشش کرڈالی، پاک افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے فنکشن میں گئے ہوئے بچے اور اساتذہ خوفزدہ ہو کر واپس آگئے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے خصوصی ہدایات پر پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کی جیت کی خوشی میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تقریبات اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے اعلان کے مطابق پوری قوم یوم تشکر منائے گی۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فیصل آباد آرٹس کونسل میں ایک تقریب کے انعقاد کا اہتمام کیا گیا۔ آرٹس کونسل انتظامیہ نے رات گئے معروف ماہر تعلیم اور پرنسپل ام المدارس ہائی سکول حافظ محمد شعیب عامر کو فون پر بچوں کے ہمراہ تقریب میں شامل ہونے کی پرزور دعوت دی جس کے نتیجہ میں حافظ شعیب عامر نے دعوت قبول کرتے ہوئے تفصیلات طلب کیں تو انکے سکول کے بچوں کی پرفارمنس بھی پرگروام میں شامل کی گئین جس پر بچے پروگرام کی تیاری کرتے ہوئے شامل ہوئے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بچے پرفارم کررہے تھے۔ اساتذہ اور بچے افواج پاکستان کے حق میں نعرے بھی لگا رہے تھے۔ کہ اچانک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے سر پر بھوت سوار ہوا اور انہوں نے بغیر کوئی وجہ بتائے تقریب کو فوری ختم کرنے کا حکم صادر فرما دیا شائد ان سے پاکستان کی جیت برداشت نہیں ہوئی یا وہ ملی نغموں سے خوفزدہ ہو گئے کہ پاکستان بچے اتنی اچھی پرفارمنس کیوں دے رہے؟ اس اثناء میں حافظ محمد شعیب عامر نے آرٹس کونسل کی انتظامیہ سے وجہ پوچھی اور کہا کہ بچے اتنی گرمی میں آئے ہیں بچوں نے تیاری کی ہے اگر بچوں کو اسٹیج پر پرفارم کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو بچے دلبرداشتہ ہو جائنگے اور ہم آپ کے کہنے اور آپکی دعوت پر آئے ہیں۔ جس پر آرٹس کونسل انتظامیہ نے کہا کہ اے ڈی سی جی صاحب بہادر نے فرمان جاری کردیا ہے کہ اب کوئی پرفارمنس نہیں ہوگی۔ جس پر حافظ محمد شعیب نہائت ادب کیساتھ اے ڈی سی جنرل (صاحب بہادر) کے پاس گزارش کرنے لگے۔ لیکن انہوں نے اسکو اپنی توہین سمجھتے ہوئے انکو ڈانٹ پلا دی، حافظ شعیب نے کہا کہ آپ اپنا لہجہ تو درست رکھیں تقریب کا ہونا یا نہ ہونا بعد کی بات ہے انہوں نے آمرانہ لہجے میں حکم جاری کیا کہ آپکو نہیں پتہ میرا عہدہ کیا ہے؟ میرا عہدہ بڑا ہے اور چیخ کر پولیس بلا کر تمام اساتذہ، والدین اور بچوں کے سامنے ہال سے نکال دیا گیا۔ جس پر والدین، اساتذہ اور بچوں میں ایک خوف کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ آج ہم اپنی افواج کو خراج تحسین پیش کرنے آئے ہیں اور یہ موصوف ہماری تذلیل کرنے ہمارے بچوں کے استاد کی تذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جس کے بعد تقریب ایک استاد کی تذلیل کیساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

فیصل آباد کی تمام اساتذہ کی تنظیمیں، سول سوسائٹی، فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک، نجی تعلیمی اداروں کی تنظیمات کی طرف سے اس عمل پر شدید غصہ پایا جا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر حافظ محمد شعیب کیساتھ اظہار ہمدردی، اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے خلاف مذمتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی تنظیمات کے ذمہ داران نے کہا ہے کہ ایسے اوچھے اقدامات سے حکومت کے گڈ گورننس پر سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے کہ کیا ایسے افسر نے کیوں افواج پاکستان کے حق میں تقریب کو سبورتاز کر نے کی کوشش کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button