ٹیکس قوانین میں ترمیمی آرڈیننس 2025 کو مسترد کرتے ہیں، الحاج نصیر یوسف وہرہ


فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) صدر زرداری نے ٹیکس قوانین میں ترمیمی آرڈیننس 2025 جاری کیا، جو کہ 2 مئی (جمعہ) سے نافذ العمل ہے۔ ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ نئے قانون نے ٹیکس شارٹ فال کے درمیان ایف بی آر کے دانت تیز کردیئے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر کلاتھ بورڈ اتحاد گروپ پاکستان الحاج نصیر یوسف وہرہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صدارتی آرڈیننس نے ایف بی آر کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ وفاقی یا صوبائی حکومت کے کسی بھی ملازم کو درست ٹیکس اسٹامپ، بار کوڈ، بینڈرول، اسٹیکرز، لیبل یا بار کوڈز چسپاں کیے بغیر فروخت کی جانے والی اشیا کو ضبط کر سکے اور ضبط کرنے کا اختیار دے گا۔ صدر زرداری نے ٹیکس قوانین میں ترمیمی آرڈیننس 2025 جاری کیا، جو کہ 2 مئی (جمعہ) سے نافذ العمل ہے۔ہم پاکستان کے تمام تاجر اور تاجر تنظیمیں اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ حکومت نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ایک نیا سیکشن داخل کیا ہے تاکہ وقت کی حد میں نرمی کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے اعلان کے بعد فوری طور پر ٹیکس کی وصولی کی جا سکے۔



