قومی

روزنامہ "اعلان” ملتان کے دفتر کو مسمار کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، پی ایف یوجے(ورکرز)

نصف صدی سے عوام کو باخبر رکھنے والا اخبار روزنامہ "اعلان ” درحقیقت پاکستان کا تاریخی ورثہ ہے، ڈاکٹر سعدیہ کمال، شاہد علی

ریکارڈ کا ضائع ہونا صرف روزنامہ "اعلان” کی انتظامیہ کا نقصان نہیں درحقیقت یہ پاکستان کی تاریخ کو ملبے تلے دبا کر ضائع کیا گیا ہے، مظہر اقبال، حمیداللہ

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پی ایف یو جے (ورکرز) اور راولپنڈی/ آسلام آباد یونین آف جرنلسٹس آر آئی یو جے (ورکرز ) نے روزنامہ "اعلان” ملتان کے دفتر کو مسمار کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صدر پی ایف یو جے (ورکرز ) ڈاکٹر سعدیہ کمال، سیکرٹری جنرل شاہد علی، صدر آر آئی یو جے (ورکرز ) مظہر اقبال اور جنرل سیکرٹری حمید اللہ عابد نے مشترکہ بیان میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ نصف صدی سے عوام کو باخبر رکھنے والا اخبار روزنامہ "اعلان ” درحقیقت پاکستان کا تاریخی ورثہ ہے۔ ملتان میں روزنامہ "اعلان” کے دفتر کو نشان دہی کیے بغیر اور پیشگی اطلاع دئیے بغیر مسمار کرنا پاکستان کے تاریخی ورثے کو مسمار کرنے کے مترادف ہے۔ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے (ورکرز) کی قیادت کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق ملتان دفتر میں ملتان، کراچی، لاہور، کوئٹہ اور راولپنڈی سمیت بیک وقت پانچ شہروں سے شائع ہونے والے روزنامہ "اعلان” کا سارا ریکارڈ بھی بلڈنگ مسمار کیے جانے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر ضائع ہو گیا ہے۔ ریکارڈ کا ضائع ہونا صرف روزنامہ "اعلان” کی انتظامیہ کا نقصان نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ پاکستان کی تاریخ کو ملبے تلے دبا کر ضائع کیا گیا ہے۔ اس ظلم کے خلاف نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تمام صحافتی تنظیموں کو آواز اٹھانی چاہیے۔ ڈاکٹر سعدیہ کمال، شاہد علی، مظہر اقبال اور حمید اللہ عابد نے روزنامہ "اعلان” کے گروپ ایڈیٹر ملک شکیل الرحمن حُر کے نام اپنے پیغام میں اس امر کا اظہار کیا کہ پی ایف یو جے (ورکرز) اور ملک بھر میں اس کی زیلی تنظیمیں روزنامہ "اعلان” کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھائیں گی۔ پی ایف یو جے اور آر ائی یو جے (ورکرز ) کی قیادت نے پنجاب بھر کے صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ تمام سرکاری پریس کانفرنسز کے دوران صوبائی وزرا سے روزنامہ "اعلان” کے ساتھ ہونے والے ظلم پر سوالات اٹھائیں۔ صدر آر ائی یو جے (ورکرز) مظہر اقبال نے روزنامہ "اعلان” کے گروپ ایڈیٹر ملک شکیل الرحمن حُر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف روزنامہ "اعلان” کی انتظامیہ اور کارکنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظہر اقبال کا کہنا تھا کہ روزنامہ "اعلان” کے ملتان دفتر کو مسمار کیا جانا نہ صرف کروڑوں روپے کا نقصان ہے بلکہ اخبار کے اسٹرکچر کو برباد کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ مظہر اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر کے عوام یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ آخر روزنامہ "اعلان” کا کیا قصور تھا۔ گروپ ایڈیٹر ملک شکیل الرحمن حُر کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں مظہر اقبال نے کہا کہ میں گزشتہ کئی سالوں سے روزنامہ "اعلان” کا مطالعہ کر رہا ہوں،میں نے ہمیشہ روزنامہ "اعلان” کی خبروں، کالمز اور اداریوں کو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے پایا ہے۔ روزنامہ "اعلان” کا طُرہ امتیاز ہے کہ اس کے صفحات ہمیشہ دفاع وطن کے لیے قربانیاں دینے والے مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستانیت کو فروغ دینے والے اس پلیٹ فارم کے ساتھ یہ ظلم سمجھ سے بالاتر ہے۔ مظہر اقبال نے گروپ ایڈیٹر روزنامہ "اعلان” ملک شکیل الرحمن حُر کو اگاہ کیا کہ صدر پی ایف یو جے (ورکرز) ڈاکٹر سعدیہ کمال کی ہدایت پر آر ائی یو جے (ورکرز) سے تعلق رکھنے والے تمام صحافی وفاقی دارالحکومت میں بھی وفاقی وزراء سے روزنامہ "اعلان” کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر سوالات اٹھائیں گے۔ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے (ورکرز ) کے قائدین نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیا کی زبان بندی کے بعد اب اخبارات کے خلاف ایف آئی آرز کے اندراج اور میڈیا ہاؤسز کو مسمار کرنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے (ورکرز) کی قیادت نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت روزنامہ "اعلان” کا ملتان دفتر مسمار کیے جانے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے، بصورت دیگر پنجاب حکومت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی عالمی تنظیمیں روزنامہ "اعلان” سمیت دیگر میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بھی نوٹس لیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button