جی سی ویمن یونیورسٹی میں ہراسمنٹ ایکٹ بارے سیمینار کا انعقاد


فیصل آباد(94 نیوز)ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ہراسمنٹ کے خلاف جاری پالیسی پر شعبہ قانون کے زیر اہتمام گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں سیمینار منعقد ہوا۔سیمینار میں خاتون صوبائی محتسب نبیلہ حاکم علی مہمان خصوصی تھیں۔خاتون محتسب نے ہراسمنٹ ایکٹ،ہائر ایجوکیشن پالیسی،شکایات کے اندراج اور طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی لیکچر دیا۔صوبائی محتسب نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج خواتین کو ان کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ خواتین کو اپنے حقوق سے آگاہی حاصل ہو گی تو وہ اپنا تحفظ خود بھی کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھریلو،ورکنگ خواتین ہوں یا طالبات، تحفظ فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں کوڈ آف کنڈکٹ برائے انسداد ہراساں کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔سیمینار کے فوکل پرسن ڈاکٹر محمد عمران اور ڈاکٹر سلیمان اکبر تھے۔وائس چانسلر ڈاکٹر رؤف اعظم نے سیمینار کی صدارت کی۔پنجاب یونیورسٹی سے چیئرپرسن شعبہ جینڈر سٹڈیز ڈاکٹر رعنا ملک بھی شریک تھیں۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ خواتین کو یونیورسٹی میں پر امن اور سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جس سے ان کی استعداد کار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں قائم ہراسمنٹ کمیٹی اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار بارے بریفنگ پیش کی۔پروفیسر ڈاکٹر رعنا ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گھر کے بعد تعلیمی ادارے سب سے پر امن اور محفوظ مقام سمجھے جانے چاہیں۔چیئرمین شعبہ قانون ڈاکٹر غلام مرتضی کا کہنا تھا کہ ادارہ خاتون محتسب خواتین کیلئے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر مستحکم کرنے سے ہی پاکستان مضبوط ہوگا۔صوبائی محتسب نبیلہ حاکم علی خان نے وائس چانسلر ڈاکٹر رؤف اعظم کے ہمراہ یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ آویزاں کیا اور یونیورسٹی میں پودے بھی لگائے۔



