کالم

وٹہ سٹہ کی شادی واقعی عذاب ہے؟

وٹہ سٹہ کی شادی (تحریر: کشف رانا)

وٹہ سٹہ کی شادی ایک عذاب مسلسل ایک لعنت شادی بیاہ ہماری روایات کا ایک اہم حصہ ہے۔ مگر ہمارے معاشرے کا ایک مزاج وٹہ سٹہ کی شادی بھی ہے۔بظاہر تو اس شادی میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی بلکہ ہم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چلو اچھا ہے کہ دونوں بہن بھائی ایک ہی گھر میں بیاہے جائیں تاکہ ایک طاقت بن جائیں مگر ایسا ہوتا نہیں ۔در حقیقت یہ شادی ایک عذاب مسلسل ہوا کرتی ہے۔
جس میں ایک فریق کے خوش رہنے کیلئے دوسرے فریق کی خوشی مشروط ہوتی ہے۔ مگر صاحب: رشتے شرطوں پر تھوڑی نبھائے جاتے ہیں ایک ایسا ہی قصہ اک ہوا کی بیٹی کا ہے جو کہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی گنہگار ٹھہرا دی گئی۔اس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس کے بھائی کی کسی بات پر بھابھی کی دل آزاری ہوئی اور اس جرم کی پاداش میں اس کے شوہر نے(جو کہ بھابھی کا بھائی تھا) اسے اتنا مارا کہ وہ مجرم بن گئی لاکھ وضاحتوں لاکھ قسموں کے بعد بھی اس کی بات کا کسی کو یقین نہ آیا مار کھانے کی وجہ سے بظاہر جسم پر تو کوئی زخم کا نشان نہ تھا مگر روح _روح تو اندر تک گھائل ہو چکی تھی مگر روح کے زخم ، انا کے زخم کون دیکھتا ہے ہم تو ظاہر دیکھنے والی دنیا کے باسی ہیں ۔ یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں بلکہ ہر اس گھرانے ،ہر اس خاندان کی ہے جو اس فرسودہ راواج کی چکی میں پستے ہیں۔
قارئین میرا آپ سے سوال صرف یہ ہے کہ ہمارے معاشرے سے انصاف کیا بالکل ناپید ہو چکا ہے؟
ہم اس نبی ﷺ کے امتی ہونے کے دعویدار ہیں جنکے انصاف کا معیار تو یہ تھا کہ اگر کوئی عورت چوری کرتی تو اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے "خدا کی قسم” اگر میری اپنی بیٹی سیدہ فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔
قارئین ہم اس ہستی کے دربار کی حاضری کے لیے تو دن رات روتے ہیں مگر کیا ہم ان کی تعلیمات پر عمل پیراہیں؟
جب ہمارا اپنا کسی بے گناہ پر ظلم کرتا ہے تو ہم احتجاج کیوں نہیں کرتے پھر ہمارے ہونٹوں پر کیوں قفل پڑ جاتے ہیں؟میری آپ سے التماس ہے کہ اپنی بہنوں ، بیٹیوں کو اس "سو کالڈ "وٹہ سٹہ کی شادی کی بھینٹ مت چڑھائیے جہاں بے خطا ہوتے ہوئے بھی وہ خطا وار گردانی جاتی ہے،
بلکہ عہد حاضر کے حکمرانوں سے میری اپیل ہے کہ اس وٹہ سٹہ کی شادی کو بین کیا جائے تاکہ بے قصور ، اور بے گناہ طلاقوں کی شرح کم ہو سکے۔

 

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close