تقریبات/سیمینارز

معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن و آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو کے اشتراک سے جنرل بس سٹینڈ میں آئیں پاکستان کو تمبا کو فری بنائیں سیمینار کا انعقاد

فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر)معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو (اے آر آئی) کے اشتراک سے جنرل بس سٹینڈ ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے ساتھ آگاہی میٹنگ با عنوان آئیں پاکستان کو تمبا کو فری بنائیں کا اہتمام کیا، اس موقع پر رانا حبیب اللہ ایڈمنسٹریٹ، میاں شہباز احمد، میاں ندیم احمد چئیرمین فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک، سٹی ٹریفک پولیس انسپکٹرہادیہ عرفان، ایم ایس اعجاز اختر بھٹی، ایڈووکیٹ چوہدری ذوالفقار علی،فاروق ایوب چیئرمین معمار ڈ و یلپمنٹ آرگنا ئزیشن ،یوسف عدنان ، رانا آصف ارشد، وقاص لیاقت، وسیم امتیاز ،شمعون گل، محمد سلیم، محمد غیور ودیگر نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ترکِ تمباکونوشی کو ٹوبیکو کنٹرول پالیسی کا محور بنایا جائے۔ کئی دہائیوں تک انسداد تمباکونوشی کیلئے مہم چلانے، گرافک وارننگز کا سہارا لینے اور ٹیکس میں اضافے کے باوجود پاکستان کو تمباکو کے استعمال کے پھیلاؤ کا سامنا ہے۔ اس وقت ملک میں تین کروڑ دس لاکھ سے زیادہ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جس سے ہونے والی بیماریوں سے ایک سال میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار (160,000) سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں تمباکو نوشی ترک کرنے کی کوششوں کو ٹوبیکو کنٹرول کی پالیسی میں نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بالغ تمباکو نوش بالکل بے یار ومددگار رہ جاتے ہیں جو اپنی اس عادت کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد صرف صحت عامہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس سے انسان کی جسمانی صحت، مالی حالت اور معیار زندگی میں بہتری آتی ہے کیونکہ یہ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کا فوری طور پر قابل عمل اور سب سے سستا طریقہ ہے۔ تمباکو کے استعمال سے بچانے کیلئے چلائی جانے والی مہمات لوگوں کو مستقبل میں سگریٹ نوشی سے روکتی ہیں مگر بچاؤ کی ان مہمات کے برعکس ترک کرنے کی کوششیں موجودہ تمباکونوشوں کو اپنی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ صلاح مشورے کی چھوٹی موٹی مداخلتیں بھی سگریٹ نوشی چھوڑنے کی شرح میں نمایاں طور پر اضافہ کرتی ہیں مگر نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی (این آر ٹی) اور ویرینیکلین جیسی فارماسیوٹیکل مصنوعات کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔برطانیہ، آسٹریلیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں تمباکونوشی ترک کرنے کی خدمات و سہولیات کو نہ صرف صحت کے نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے بلکہ تمباکونوشوں کی رہنمائی کیلئے قومی ہیلپ لائنز، سستی دوائیوں اور آگہی مہمات سے ترک کرنے کی ان کوششوں کو زیادہ موثر بنایا جاتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے ابھی تک تمباکونوشی چھوڑنے کی کوششوں کو ٹوبیکو کنٹرول کی پالیسی کے ایک جزو کے طور پر ادارہ جاتی شکل تک نہیں دی۔گو کہ پاکستان نے 2004 میں ٹوبیکو کنٹرول پر عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن کی توثیق کی ہے مگر اس کے باوجود پاکستان نے اس کنونشن کے آرٹیکل 14 کے تحت عملی اقدامات اٹھانے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں دکھائی۔ ٹوبیکو کنٹرول کی حکمت عملی میں تمباکونوشی ترک کرنے کی کوششوں کو اہمیت دینے کے بجائے ٹیکس لگانے اور پیکیجنگ پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ بیشتر ڈاکٹروں کو ترک تمباکو نوشی کرنے کے حوالے سے کوئی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور نہ اپنی اس عادت کو چھوڑنے میں لوگوں کی مدد کرنے کیلئے طبی مراکز موجود ہیں۔ زیادہ تر تمباکونوشوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ رہنمائی اور مدد سے سگریٹ کا استعمال چھوڑنا ممکن ہے اور مدد کا سامان بھی موجود ہے۔ پاکستان میں تمباکونوشی ترک کرنے کیلئے قومی ہیلپ لائن کا فقدان ہے حالاں کہ یہ بیشتر ممالک میں ان کوششوں کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔اس صورت حال میں تبدیلی لانے کیلئے پاکستان کو تمباکونوشی ترک کرنے کی ایسی قومی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو شواہد اور ہمدردی پر مبنی ہو۔ تربیت یافتہ صلاح کاروں اور مختلف زبانوں میں خدمات کے ساتھ تمباکونوشی ترک کرنے کی ایک قومی ہیلپ لائن بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک ہیلپ لائن2017 میں بنائی گئی تھی لیکن اب یہ فعال نہیں ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی ترک کرنے کی کوششوں کو نظام صحت میں ضم کیا جانا چاہئے۔ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھی اس سلسلے میں تربیت کی جانی چاہیے۔ پاکستان جیسے ملک میں تمباکونوشی چھوڑنے میں مددگار ادویات سستے داموں دستیاب ہونی چاہیئں۔ جب تک یہ ادویات سستی اور قابل رسائی نہیں ہوں گی تب تک غریب بالغ سگریٹ نوش انہیں استعمال نہیں کریں گے۔ماضی میں ٹوبیکو کنٹرول کی مہمات باقاعدگی سے چلائی جاتی تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فوری رابطے کا ذریعہ بنے ہیں تو ایسی کسی مہم کی منصوبہ بندی کی گئی ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button