Commerce

2020Inflation in Pakistan rises to worldwide level, SBP releases alarming figures

Islam Abad(94 news) 2020 پاکستانیوں کے لیے مالی لحاظ سے بدترین ثابت ہوا جس میں انہوں نے دنیا کی سب سے بلند سطح پر مہنگائی کا مشاہدہ کیا اور پالیسی ساز شرح سود میں اضافے پر مجبور ہوگئے۔

ڈان نیوز نے اپریل میں مہنگائی سے متعلق اپنے جائزے میں کہا کہ اس دوران پاکستان میں نہ صرف دنیا کے ترقی پذیر بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بھی بلند ترین افراط زر کا مشاہدہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران سٹیٹ بینک نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا لیکن بلند شرح سود کا الٹا اثر ہوا اور اسے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوا بلکہ نجی شعبے نے صنعتی نمو اور خدمات میں رکاوٹ بننے والی مہنگی رقم کا قرض لینا بند کردیا۔

رپورٹ کے مطابق جنوری میں دوران میں افراطِ زر کی شرح 12 سال کی بلند ترین سطح پر یعنی 14.6 فیصد تھی اور قیمتوں میں اضافے کے ردِ عمل میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود 13.25 فیصد تک بڑھا دی تھی۔

تاہم کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب پورا معاشی منظر نامہ الٹ گیا اور طلب میں کمی کے باعث اسٹیٹ بینک صرف 3 ماہ کے دورن شرح سود کو 5.25 فیصد تک کم کرنے پر مجبور ہوگیا۔

شرح سود میں کمی کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب مئی کے دوران مہنگائی کم ہو کر 8.2 فیصد ہوگئی جو اسٹیٹ بینک کے اندازے سے بھی کم تھی۔

اسٹیٹ بینک کے مہنگائی کے جائزے کے تفصیلی گراف کو دیکھا جائے تو ترقی پذیر معیشتوں مثلاً چین، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا کے مقابلے پاکستان کی افراطِ زر میں عالمی وبا کے بعد سے کمی واقع ہوئی ہے۔

رواں مالی سال کے جولائی سے لے کر مئی تک کے عرصے میں مہنگائی اسٹیٹ بینک کے 1.94 تا 11 فیصد کے تخمینے سے بھی کم رہی جس میں جون کے دوران مزید کمی کا امکان ہے۔

گزشتہ 2 ماہ کے دوران حکومت نے 2 مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی جس سے پیدواری لاگت اور نقل و حمل کی لاگت کم ہوئی اور اس سے افراطِ زر بھی کم ہوگئی۔

More

Related news

Leave a Reply

Close