قومی

میڈیسن کے نام پر کاروبار،اوورسیز پاکستانی سمیت کئی شہری لٹ گئے، بڑا فراڈ سامنے آگیا

چک جھمرہ کے رہائشی خالد محمو د اور جاوید مسعود اپنے بیٹوں اور داماد کیساتھ ملکر لوگوں سے فراڈ کرنے لگے، فیصل ۤآباد سے 10 کروڑ سے زائد رقم اکٹھی کرکےسرگودھا میں کاروبار شروع کیا، اب غائب ہوگئے، انویسٹمنٹ کرنے والے رل گئے


فیصل آباد (94 نیوز) فیصل آباد میں کاروباری فراڈ کا سلسلہ جاری اوور سیز پاکستانی ایک بار پھر اعتماد کے ہاتھوں لٹ گیا، کروڑوں روپے انویسٹمنٹ کئے مگر رقم بٹورنے والے روپوش ہوگئے، دوسرے ذرائع سے قتل کی دھمکیوں اور دھونس پر اتر آیا۔ اوورسیز کیساتھ کئی دوسرے پاکستانی بھی انہی کے ہاتھوں لٹ گئے، ادویات کا کاروبار مہنگا پڑگیا۔

تفصیلات کے مطابق محمد نواز ولد محمد اکرم سکنہ چک نمبر 24 ج ب، لاہوریاں والا، تحصیل چک جھمرہ، ضلع فیصل آباد نے ڈپٹی کمشنر کے نام ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مارچ2019 میں فیملی سمیت امریکی ریاست ورجینیا شفٹ ہوگیا۔2022 میں وہ پاکستان آیا تو اسے خالد محمود ولد چوہدری سراج دین اور جاوید مسعود ولد چوہدری سراج دین کا فون آیا کہ وہ ملنا چاہتے، ملاقات میں جاوید مسعودنے جھانسہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ40سال سے ہول سیل میڈیسن کا کاروبار کر تے ہیں۔پچھلے دنوں انکے شراکت دار کا انتقال ہو گیااب اس کے ورثا ء شراکت جاری نہیں رکھنا چاہتے۔ لہذا آپ کاروبار میں شریک ہو جائیں۔اس مقصد کے لیے محمد نواز نے ایک کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے کی انویسٹمنٹ کی اور مزیدوقتاََ فوقتاََرقم بجھواتا رہا۔جبکہ کچھ رقم حسن خالد کو ڈالرز میں بھی اداکی۔ کچھ عرصہ بعد خالدمحمونے کہا کہ میرا بھتیجا فیصل منصورفیملی سمیت برطانیہ شفٹ ہو رہا ہے اور آپ مکمل کاروبار خرید لیں۔ ہم آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے بزنس کی دیکھ بھال کرتے رہیں گے۔ اس کے لیے انھوں نے باقاعدہ تحریری معاہدہ کرلیا۔کچھ عرصہ تک کاروبار کی تفصیلات اور معقول منافع بھی بذریعہ فلک شیر ناگرہ اور آن لائن ملتا رہا۔مارچ 2024 میں خالد محمود نے اچانک مجھ سے رابطہ منقطع کر لیا سرگودھا میں ان کے دفتر رابطہ کرنے پرمعلوم ہوا کہ کمپنی کے اکاؤنٹس ایف بی آر نے بند کر دیے ہیں۔ان لوگوں سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ کاروبار کومستقل طور پر بند کر کے روپوش ہو گئے ہیں۔ درخواست گزار نے لکھا ہے کہ وہ امریکہ میں ٹیکسی چلاتا ہے اور اپنی تمام جمع پونجی ان لوگوں کے حوالے کردی۔ اب یہ لوگ میری رقم تین کروڑ پندرہ لاکھ روپے خرد برد کرکے رقم واپس کرنے سے انکاری ہو گئے ہیں۔لہذا میری رقم اِن فراڈیوں سے واپس دلوائی جائے۔مزید معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اسی طرح مختلف لوگوں سے دس کروڑ روپے سے زائد رقم اکٹھی کی تھی جو اب ان تمام شراکت داروں کو دینے سے انکار ہو گئے ہیں۔ خالد محمود کے بھائی جاوید سے رابطہ کرنے پر اس نے کہا کہ میرا ان کیساتھ کسی قسم کا کوئی لین دین نہیں میں الگ کاروبار کرتا ہوں ایک ہی پلازے میں ہمارے دفاتر ہیں لیکن کاروبار الگ ہیں، جب تحریری دستاویزات دیکھی گئیں تو ان میں جاوید کے دستخط بھی موجود ہیں اور بنکوں کے چیک بھی اس نے وصول کئے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ گروپ بڑی پلاننگ کیساتھ لوگوں کو لالچ دیکر کاروبار کیلئے رقم بٹورتے ہیں اور اسی طرح کچھ عرصہ منافع دینے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ فیصل آباد میں اس قسم کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے رقم بٹورنے والے بھاری منافع کا جھانسہ دیتے ہیں۔مختلف کاروباری شخصیات نے بھی اس حوالے سے کہا کہ ایسے کرداروں کو سخت سزا دی جائے تاکہ اس قسم کے فراڈ اور رقم ہتھیانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button