ڈپٹی کمشنر کا چیمبر آف کامرس کا دورہ، کینال روڈ کو شاہراہ ایوان صنعت و تجارت کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز،10روزمیں 25ہزار ٹن سالڈ ویسٹ اٹھوا چکے، ڈی سی ندیم ناصر


فیصل آباد(94 نیوز) فیصل آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی جدید سائنسی خطوط پر کولیکشن کا کام بین الاقوامی معیار کی فرموں کو سونپا جا رہا ہے جبکہ جائیکا کے 2038ء تک کے ماسٹر پلان کے دوسرے مرحلے کیلئے 12ارب کی منظوری ملنے کے ساتھ ہی نئی سیور لائنیں ڈالنے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ یہ بات ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد ملک کا دوسرا بڑا ضلع ہے جس کے مسائل بھی بڑے اور پیچیدہ ہیں جن کے پائیدار حل کیلئے انتظامیہ اور سوسائٹی کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 10روز کے دوران 25ہزار ٹن سالڈ ویسٹ اٹھوا چکے ہیں یہ ویسٹ گزشتہ کئی سالوں سے شہر کے پلاٹوں میں گل سڑ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ باقی ویسٹ کو اٹھوانے میں مزید دس سے 15روز لگیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چک جھمرہ کے علاوہ فیصل آباد کی باقی تمام تحصیلوں سے سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے معروف کمپنیوں سے معاہدے ہو چکے ہیں جن کی موبلائزیشن کا کام آئندہ 15دنوں میں شروع ہو جائے گا۔ واسا کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ موجودہ ٹرنک سیور 1983ء میں ڈالا گیا تھا جو اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جائیکا نے 2038ء تک کیلئے جو ماسٹر پلان تیار کیا ہے اس کے دوسرے مرحلہ کیلئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیزائننگ کی طرف سے 12 ارب کی منظوری جلد مل جائے گی جس کے بعد نئی سیور لائنیں ڈالنے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کینال روڈ کو شاہراہ ایوان صنعت و تجارت کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ چیمبر کو اس کی دیکھ بھال اور خوبصورتی کی ذمہ داری قبول کر لینی چاہیے جس پر زیادہ اخراجات نہیں آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جرمانوں اور وصولیوں کیلئے فیصل آباد میں بہت جلد الیکٹرانک سسٹم متعارف کرادیا جائے گا جس کے ذریعے ہر ادائیگی کی الیکٹرانک رسید ملے گی۔ اسلحہ لائسنسوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر لائسنس جاری کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ملنے والی تمام درخواستوں کو آئندہ ڈی پی سی میں نمٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبہ کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کو نجی شعبہ کے تعلق سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے فیصل آباد کو سائبر آباد بنانے کے سلسلہ میں فیصل آباد چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور اس سلسلہ میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر خرم طارق نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر ملک کا تیسرا بڑااور دوسرا اہم ترین چیمبر ہے جس کے ممبروں کی تعداد 9ہزار سے زائد ہے اور وہ قومی معیشت کے سوسے زائد سیکٹرز اور سب سیکٹرز سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ملک کا انتہائی مربوط شہر ہے جہاں صنعت و تجارت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں مگر ابھی تک اِن سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے فیصل آباد کے سرکاری ہسپتالوں کی اَپ گریڈیشن کے علاوہ الائیڈ ہسپتال میں سائبر نائف کی سہولت مہیا کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور بتایا کہ انہو ں نے لیبر کے تمام سکولوں کو اڈاپٹ کر رکھاہے مگر سرکاری طور پر اُن کو ہمارے سپرد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر کی کوششوں سے یہاں نیشنل انکوبیشن سنٹر قائم ہے جس کا چھٹا گروپ بہت جلد فارغ التحصیل ہو رہا ہے اسی طرح کے سنٹر نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں بھی قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ان کے دورے کی بھی دعوت دی تاکہ انھیں فیصل آباد چیمبر کے سائبر آباد منصوبے کے اصل خدو خال کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ ایگزیکٹو ممبر محمد اظہر چوہدری نے سائبر آباد منصوبے کے بارے میں مختصراًآگاہ کیا اور بتایا کہ اس ماہ کے آخر تک اس کو لانچ کر دیا جائے گا جس کے تحت آئی ٹی گریجویٹس کو مختصر شعبوں کے بارے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی عملی تربیت دی جائے گی۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں نائب صدر حاجی محمد اسلم بھلی، میاں عبدالوحید، شاہد ممتاز باجوہ اور شفیق حسین شاہ نے حصہ لیا۔ آخر میں سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجاد ارشد نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر ڈاکٹر خرم طارق نے انھیں فیصل آباد چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ ڈپٹی کمشنر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے اور گروپ فوٹو بھی بنوایا۔




