پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ڈھڈی والا میں صوفی نائٹ کا اہتمام، بچوں اور قوالوں نے عارفانہ کلام پیش کرکے حاضرین کے دل موہ لئے

صوفیا نے ہمیشہ پیار، محبت کا درس دیا، آج ہمیں اس پر عمل کرکے ملک میں روداری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، چوہدری پرویز اقبال کموکا، ڈاکٹر عبدالحفیظ، نعمان یونس

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اجتماعی معاشرے کیلئے مشترکہ سماجی اور ثقافتی اقدام کے موضوع پر پروگرامز، سیمینارز، کلچرل فیسٹیول اور مطالعاتی دوروں کا سلسلہ جاری ہے، اسی سلسلے میں ڈھڈی والا کی یونین کونسل 220میں دی چناب ایجوکیشنل کمپلیکس میں "صوفی نائٹ”کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد لوگوں کو صوفی ازم کے فروغ اور انکے کردار بارے آگاہی دینا تھا۔ اس موقع پر مرد و خواتین کثیر تعداد نے شرکت کی جس میں فیصل آباد کی معروف سماجی و سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں۔ پروگرام میں چوہدری پرویز اقبال کموکا صدر انجمن تاجران و سابق چئیرمین یونین کونسل، میاں ندیم احمد چئیرمین فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک و صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس، ڈاکٹر عبدالحفیظ، یوسف عدنان، نعمان یونس (پی ڈی ایف)،ثمن آرا، میاں حمزہ،بابا لطیف انصاری صدر پاکستان قومی لیبر موومنٹ، شاہد انور ایڈووکیٹ، محمد سلیم بلندیا، ستارہ رانا، وسیم احمد، چوہدری محمد سلیم سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر،اویس پراچہ(این جے اے)اصغر سہیل کموکا، فاروق ایوب، ریحانہ شاہد، محمد عثمان، اعجاز احمد، رانا اعجاز، کالم نگار رانا زاہد، سجاد احمد، چوہدری عرفان اشرف، امجد نوید،ڈاکٹر ریحان کے علاوہ ڈومیسٹک ورکرز نے بھی شرکت کی۔ نعمان یونس نے پی ڈی ایف کا تعارف اور کاکردگی بارے آگاہ کیا، دیگرمقررین نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوفیا کرام نے ہمیشہ انسانیت پر زور دیا انہوں نے بغیر کسی رنگ و نسل، کسی امتیازی تفریق کے انسانیت کی خدمت کی اور اپنے اپنے کلام میں انسانی ہمدردی پر زور دیا، آج اس دور میں ہمیں صوفیا کرام کے افکار کے مطابق کام کرنا چاہئیے انکے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنانا چاہئیے تاکہ معاشرہ تشدد سے پاک ہو اور آپس میں اتفاق و اتحاد پیدا ہو۔ پاکستان میں تنوع کے فروغ کیلئے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جس میں کئی مذاہب اور کئی مسالک کے لوگ بستے ہیں، لیکن ہم ایکدوسرے کو نہچا دکھانے کے چکروں میں ملک میں افراتفری پیدا کررہے ہیں، اگر ہم صوفیا کرام کی زندگیوں کو پڑھیں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر انسانوں کیساتھ پیار کرتے تھے۔ اس موقع پر بچوں نے صوفی کلام پر پرفارم بھی کیا،معروف قوالوں نے قوالیاں اور عارفانہ کلام پیش کرکے حاضرین کے دل موہ لئے۔



