پاکستانی ٹک ٹاکرز، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کا حج بارے جھوٹا پروپیگینڈا، ایک فنی سرکس مسخرہ کو عالمی سطح کا لیڈر ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش


رپورٹ ( طارق محمود جہانگیری کامریڈ) پاکستان میں ایک ایسی نام نہاد نطریاتی تحریک اور غیر سیاسی جماعت ھے۔ جس نے ابھی تک کسی قسم کا کوئی سیاسی کارنامہ انجام نہیں دیا ھے۔ شیخ چلی اور نظام سقہ کے علاؤہ کسی قسم کا معاشی و اقتصادی منصوبہ پیش نہیں کرسکی ھے ۔ اندھے اعتقاد یقین ، اندھی تقلید اور شخصیت پرستی جیسے مشرکانہ عقائد، شرک کو تقویت دینے والی بدعات کا شکار بہت سے پاکستانی لوگ اسے امیر المومنین ، امام عالی ، اوتار اور اپنا دیوتا سمجھتے ہیں ۔ سوشل میڈیا اور سوشل ایکٹوسٹ دروغ گوئی میں اپنی مثال آپ ہیں جھوٹی اشتہاری پوسٹوں کے ذریعے ایک مداری اور فنی سرکس کے مسخرے کو قوم کا مسیحا اور آخری نجات دہندہ ثابت کرنے کے مشن پر جوھٹے ھوئے ھیں ۔ سینکڑوں ٹک ٹاکرز ایک مسخرے ، ایک سیاسی اداکار کو ملک کا ھی نہیں بلکہ عالم اسلام کا سب سے مقبول ترین حکمران اور رانما ثابت کرنے کے لیے خودساختہ فلمی کمرشل ایڈوٹزنگ میں ھمہ تن مصروف عمل ہیں ۔ اس مقصد کے لیے ایک غیر سیاسی ، غیر جمہوری ذھن کے حامل شخص کی بڑے مؤثر طریقے سے اشاعت و ترویج کی جارھی ھے ۔ ایک سامری ،جادوگر کی الف لیلہ اور ھزار داستان جیسی من گھڑت کہانیوں جیسی جھوٹی تشہیر کی جارھی ھے ۔ اس ملک کی بھیڑ بکریاں ایک مصنوعی انقلابی مداری کو حقیقی انقلابی لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کر رھی ھیں۔ ٹاکرز اور سوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ کی جانب سے اس سال ادا ھونے والےحج اور مناسکِ حج کے دوران پیش آنے والے محمولی نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی پوسٹیں سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں ۔ یہود ونصار کے ڈالرز پر اپنا پاپی پیٹ بھرنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ٹک ٹاکرز کی جوٹھی پوسٹوں کی من گھڑت اطلاعات کے مطابق اس سال جج کے دوران سعودی عرب میں شدید گرمی سے 19 پاکستانی حاجی صاحبان جان بحق ہوئے ہیں۔ ایک خبر رساں ایجنسی کے حوالے یہ خبر بھی خوب پھیلائی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ میں گرمی سے کم از کم 577 حاجی جاں بحق ہوئے ہیں ۔ جہاں پر 14 سے 18 لاکھ تک ھجوم موجود ھو۔ جہاں پر نفسا نفسی کا عالم ھو۔ تینوں علامتی شیطانوں کے پتھروں کو کنکریاں مارنے کیلئے افراتفری پھیلانی ھو۔ ھرایک اپنے ٹواب حاصل کرنے کے چکر میں ، جنت الفردوس میں اعلی مقام کی طمع کی خاطر بھاگ دوڑ ، دھکا دھمک کررھا ھو۔ یہ حیران کن ، حیرت انگیز بات نہیں اس قسم کے ھجوم کے اندر بھگڈر میں کئی کچلے اور روند جاتے ہیں۔ اتنے بڑے ھجوم میں اس طرح کے چھوٹے موٹے واقعات کا رونما ھونے کوئی انہونی اور اچھمنے کی بات نہیں ہے ۔ یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ھے ،گزشتہ 40 سالوں کے دوران دوران اس جیسے سینکڑوں حادثات پیش اچکے ھیں ۔ سوال ھے کہ رحمۃ للعالمین کے عہد میں شرعی اصولوں کے تحت مناسکِ حج ادا کئے جاتے تھے ۔ اس وقت کے ججاج حضرات پاؤں کے نیچے کمزور حاجی قدموں کے نیچے کچلے یا روندے کیوں نہیں جاتے تھے ۔ حالانکہ وہ تقوی ، پارسائی اور کردار کے لحاظ سے پاکستانیوں سے لاکھوں نہیں کروڑوں گنا کہیں زیادہ بہتر مطیع اللہ اور اھل قرآن ، پرھزگار، عبادت گزار مومن تھے یہ جواب طلب ھر سال لاکھوں پاکستانی عمرے اور حج کرنے کس مقصد کے لیے جاتے ہیں ۔ کیونکہ سارا سال تو یہ صاحب ایمان دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا میں خوب ملاوٹ کرتے ہیں، ذخیرہ اندوزی جیسے جرم کے مرتکب ہوتے۔ منافع خور کبعہ کس منہ سے جاتے ہیں ۔ خانہ کبعہ دیکھنے کے لیے زیادہ تر بوڑھے ، ناتواں اور بیمار پاکستانی جاتے ہیں ۔ اکثر وھاں مرنے اور جنت البقیع میں مدفن کی خواہش لے کر جاتے ہیں ۔ افسوس کہ غلاظت اور گندہ پانی کے جوھر چھپڑ میں ڈوبے ھوئے ٹک ٹاکرز، فنی سرکس کے پرستار سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں نے اس مرتبہ سعودی عرب کی حکومت اور بین الاقوامی شہرت کے حامل حکمران سلطان ولی عہد سلطان محمد بن سلمان کے خلاف جو جھوٹا پروپیگینڈا کیا ھے ، اور جس منظم طریقے سے ان کے خلاف زھر اگلا گیا وہ افسوسناک ھی نہیں بلکہ انہتائی شرمناک فعل اور قابل مذمت گھٹیا حرکت بھی ہے ۔ سعودیہ کے اعلیٰ احکام اور عربی میڈیا میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔ ھماری حرکتیں یہی رھیں تو آئندہ چند برسوں کے دوران پاکستانیوں پر جج کی سنت ابراھیمی ادا کرنے پر سخت پابندی عائد ھو سکتی ھے ۔ گزشتہ روز شہزادہ سعود بن مشعل کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ حج کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا ھے۔ بہترین انتظامات پر سعودی حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ نائب امیر مکہ مکرمہ اور نائب صدر حج مرکزی کمیٹی شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز کا اس سال 1445 ھجری حج کے کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم اللہ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے عازمینِ حج کو مناسک حج آسانی، اطمینان اور امن کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق دی ھے ۔ اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوا ھے۔

سعودی عرب کی قیادت کی جانب سے فراہم کی جانے والی متنوع سروسز اور دیکھ بھال کی بدولت ممکن ہوا۔ خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے حج مہمانوں کے لیے قربانی کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا ۔ منیٰ میں واقع امارت کے دفتر سے جاری بیان میں شہزادہ سعود کا کہنا تھا کہ حج کی کامیابی کے ساتھ تکمیل مختلف متعلقہ اداروں کے اجتماعی اور مشترکہ کام کا نتیجہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں عازمینِ حج کی خدمت کرنے اور انہیں آسانی کے ساتھ فریضہ حج ادا کرنے کی توفیق دی۔انہوں نے سعودی ولی عہد شاہ سلمان بن عبدالعزیز، وزیر اعظم، عظیم بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلم حکمران شہزادہ محمد بن سلمان کو ان کی مستقل نگرانی، ہدایات پر مبارکباد اور تہنیت پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے وزیر داخلہ اور حج اعلیٰ کمیٹی کے صدر، شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ان کی معاونت اور نگرانی اور حج کے حفاظتی منصوبوں کی منظوری کی بدولت یہ کامیابی ممکن ہوئی۔ خادم الحرمین شریفین کے مشیر اور مکہ مکرمہ کے امیر، شہزادہ خالد الفیصل، کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے حج سے متعلق تمام امور کی نگرانی کی۔ شہزادہ سعود نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ اگلے سال کے حج کی تیاری اور منصوبہ بندی فوراً شروع ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کامیابیاں حاصل ہوئیں وہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔ جو عازمینِ حج کی بہتر خدمت کے لیے بڑے مقاصد حاصل کرنے کی راہ ہموار کیں ۔ انہوں نے اپنے بیان میں اختتام پر عازمینِ حج اور اس سال حج میں شامل تمام کارکنان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ وزارتِ حج وعمرہ کی بنیاد 1381 ہجری سن 1962 میں رکھی گئی تھی، اور یہ کابینہ کی سطح پر واحد وزارت ہے جس کا مرکزی دفتر مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔ حجاج کرام کی آمد کے انتظامات کا آغاز بانی سعودی عرب شاہ عبدالعزیز بن عبد الرحمن آل سعود کے دور سے ہوا۔ جنہوں نے محکمہ عمومی حج کے قیام کا حکم دیا۔ کعبہ شریف کا غلاف بیت اللہ کے نائب متولی شیخ عبدالملک الشیبی کے سپرد ھے ۔ وزارت حج وعمرہ ادارہ ترقی کرتا ہوا عمومی حج انتظامیہ، پھر وزارت حج اوقاف، اور آخر کار وزارت حج اور عمرہ کی صورت اختیار کر گیا۔ 1993 میں۔ایک شاہی فرمان کے ذریعے اوقاف کے شعبے کو وزارت حج سے الگ کر دیا گیا۔ اور 2016 میں اس وزارت کا نام تبدیل کرکے وزارتِ حج وعمر رکھا گیا۔ وزارت حج وعمرہ حجاج کے امور کو منظم کرتی ہے۔ جس میں پالیسیوں کا تعین ان کے اثرات کا جائزہ منصوبہ بندی اور نگرانی شامل ہے۔ حج کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے سروسز کی تشکیل کرتی ہے۔ حجاج کے حقوق کا تحفظ اور ان کو فراہم کی جانے والی سروسز کی نگرانی کرتی ہیں۔ وزارت کا مقصد حجاج کرام کی خدمت اور ان کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔ تاکہ وہ اپنے مقدس فریضے کو آسانی اور سکون سے ادا کرسکیں ۔ واضح رہے کہ ہر سال حج کے موقع پر سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال اوسطاً 12 لاکھ سے زیادہ جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ جن میں دنبے، بکرے، بیل اور اونٹ شامل ہیں۔ ہر حاجی ایک بھیڑ یا بکرے کی قربانی کر سکتا ہے جب کہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی 7 حجاج کرام مل کر قربان کر سکتے ہیں۔ قربان کیے جانے والے جانوروں کی تعداد میں سالانہ 2 لاکھ کا اضافہ دیکھنے میں آ رھا ھے ۔ 2020 میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے حج کی ادائیگی محدود ہونے کی وجہ سے صرف ایک لاکھ جانور قربان کیے گئے تھے۔ 2021 میں بھی کورونا سے جڑی پابندیاں عائد رہیں۔سعودی وزارتِ حج کے مطابق اس سال حج کے موقع پر 23 لاکھ سے زیادہ حجاج کرام نے کم و بیش 16 لاکھ جانور قربان کئے. قربانی صرف حج قران یا حج تمتع کرنے والوں پر واجب ہوتی ہے۔ حج کی تیسری قسم حج افراد ہے جو کہ زیادہ تر سعودی عرب کے مقامی مسلمان ادا کرتے ہیں اور اس میں قربانی واجب نہیں ہوتی۔ حج قران اور حج تمتع کرنے والے حاجیوں کو 10، 11، اور 12 ذی الحج میں سرمنڈوانے یا بال کٹوانے (حلق ) سے پہلے منیٰ یا حدودِ حرم میں دمِ شکرکے طور پر قربانی کرنا ہوتی ہے۔ قربانی صاحبِ استطاعت حاجیوں پر واجب ہوتی ہے۔ مگر مسافر ہونے کے باعث انہیں استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ عظیم مسلمان حکمران اور اپنی قوم سے مخلص حقیقی امیر المومنین ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں عازمینِ حج کے لیے قربانی کے جانور وں کا بندوبست کرنے کے 3 طریقے رائج کئے ہیں ۔ 1. ٹریول ایجنٹ کے ذریعے۔ 2. لائسنس یافتہ مذبح خانے میں۔ 3۔ اسلامی ترقیاتی بینک کے ذریعے۔ اس کے علاوہ اسلامی ترقیاتی بینک نے مکہ مکرمہ اور منیٰ کے اطراف میں بوتھ بنا رکھے تھے ۔ جہاں سے حجاج کرام قربانی کے جانور خریدنے، ذبح کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے کوپن خرید سکتے تھے۔ واضح رہے کہ حاجی ہوں یا عام آدمی، مکہ مکرمہ ہو یا کوئی اور شہر، سعودی عرب میں اپنے طور سے قربانی کرنا منع ہے۔ہر قربانی کرنے والے حاجی کو بذریعہ ایس ایم ایس ان کے جانور کی قربانی کے بارے مطلع کر دیا جاتاہے۔ یہ پیغام موصول ہونے کے بعد حاجی حلق یعنی بال کٹواتے ہیں۔ حجاج کرام اپنے قربان کیے گئے جانور کے گوشت کو غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی مسلم ممالک کے سب سے بڑے مسلم حکمران ولی عہد سلطان محمد بن سلمان کی جدید ترقی یافتہ حکومت نے قربانی کا گوشت غریبوں اور ضرورت مندوں تک پہنچانے کے لیے بہترین اقدامات کر رکھے تھے۔ عظیم الشان مسلمان ریاست سعودی حکومت کی نگرانی میں رسم قربانی ادا کی گئی۔ یہ سارا عمل حفظان ِصحت کے اصولوں کے عین مطابق اور گوشت کی تقسیم منصفانہ گئی۔ ملکی سطح پر گوشت ضرورت مند خاندانوں، یتیم خانوں اور دیگر خیراتی اداروں میں تقسیم کیا گیا۔ قربانی کا گوشت ان حاجیوں کو کھانا کھلانے کے لیے بھی کیا جاتا گیا جو اپنا گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ۔ ترقی یافتہ مسلمان ریاست مدینہ کے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے قربانی کے گوشت کو دنیا بھر کے ممالک میں تقسیم کرنے کا عمل بھی شروع کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ’اضاحی‘ کے نام سے ایک خصوصی پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ اس کا مقصد حج کے دوران کی گئی قربانی کے گوشت کو مختلف مسلم ممالک کے ضرورت مند لوگوں بالخصوص مظلوم فلسطینیوں تک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظام کیا گیا۔’اضاحی‘ پراجیکٹ کے تحت افغانستان، بنگلہ دیش، ایتھوپیا، انڈیا، لبنان، نائجریا، پاکستان ، صومالیہ، سوڈان بھی قربانی کے گوشت بھیجنے کا انتظام کیا گیا ۔اس پراجیکٹ کی نگرانی اسلامی ترقیاتی بینک نے کی تھی۔ پاکستان میں ایک میوزیکل نائٹ شو ، ڈانس پارٹی کے فحش ویڈیوز ٹک ٹاکرز ، ایک غیر حقیقی منصوعی انقلابی اداکار کو مسلمانوں کا بین الاقوامی مسلم حکمران ثابت کرنے کے لیے اربوں روپے ہڑپ کرنے والے ضمیر فروش سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اس سال حج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر حاجیوں اور ناقص انتظامات کے حوالے سے جو ویڈیوز اپلوڈ کر رہے ہیں ، جو زھریلا پروپیگنڈا کررھے ھیں ، یہ سب جھوٹا پروپیگینڈا ھے ۔ جسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلمان کو رسوا کرنے کی ایک ناپاک کوشش ھے ۔ یاد رہے کہ ایک سیاسی اداکار ،ایک مسخرہ ایک خود ساختہ مصنوعی انقلابی لیڈر کبھی بھی عالم اسلام کا مقبول ترین راہ نما، لیڈر یا بین الاقوامی شہرت یافتہ حکمران نہیں بنا سکتا ہے ۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی موجودگی میں تو یہ اور بھی مشکل بلکہ ناممکن ہےکہ کو اور سیاسی اداکار اپنی کوئی جگہ بنا سکے ۔پاکستانی ثک ٹاکرز ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کا حج کے بارے میں جھوٹا پروپیگینڈا کررھے ھیں ۔ ایک فنی سرکس مسخرہ کو عالمی سطح کا لیڈر ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی جارہی ھے.
نوٹ: ادارہ کا راقم سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


