قومی

پاک افغان مذاکرات: افغان وفد کے بعض ارکان نے مذاکرات کے دوران اشتعال انگیز اور غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا

اسلام آباد (94 نیوز)  ترکی اور قطری ثالثی میں استنبول میں منعقد ہونے والے پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان حالیہ مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہوگئے۔

معروف صحافی محمد عاصم نصیر کی جانب سے سوشل میڈیا کے ’’ ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر لکھا گیا ہے کہ افغان وفد کی غیر تعاون پر مبنی اور رکاوٹ ڈالنے والی روش کے باعث بات چیت کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکی۔ افغان وفد کے بعض ارکان نے مذاکرات کے دوران اشتعال انگیز اور غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا، واضح سوالات کے جوابات سے گریز کیا اور بعض مواقع پر نامناسب زبان استعمال کی۔ اس رویے پر قطری اور ترک ثالثوں نے حیرت کا اظہار کیا۔

دوسری جانب پاکستان نے واضح مؤقف کیا اور  پاکستانی وفد نے زور دیا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملے کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ افغان وفد اس اہم سیکیورٹی نکتے پر گریز کرتا رہا اور عملی یقین دہانیوں کے بجائے مبہم وعدے اور قانونی تاویلات پیش کرتا رہا۔

مذاکرات کے دوران پاکستان نے ٹھوس شواہد — بشمول وقت و مقام کے ساتھ — پیش کیے جو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی نشاندہی کرتے تھے۔ تاہم افغان نمائندوں نے شواہد کو تسلیم کرنے کے بجائے ان پر سوال اٹھائے اور بات کو سیاسی و طریقہ کار کی بحث کی طرف موڑ دیا۔

مذاکرات میں پاکستان وفد کی جانب سے  واضح کیا گیا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی تو اسلام آباد اپنی عوام اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق3 روزہ مذاکرات میں پہلا دن 19 گھنٹے، دوسرا 11 گھنٹے اور تیسرا 18 گھنٹے جاری رہا۔ 3 مرتبہ مسودہ دونوں فریقوں نے حتمی طور پر منظور کیا لیکن ہر بار افغان وفد نے کابل سے ہدایات ملنے کے بعد دستخط سے انکار کر دیا۔ اس رویے پر قطری اور ترک ثالثوں نے افسوس اور حیرت کا اظہار کیا۔

پاکستان نے ایک بار پھر ثالث ممالک کی درخواست پر مذاکرات کو موقع دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے جو اس کے خلوص، سنجیدگی اور امن کے جذبے کا ثبوت ہے۔ پاکستان کا مقصد خطے میں پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ کسی بھی دہشت گرد خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button