قومی

عوامی تحریک کا مہنگائی اوربجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

فیصل آباد (94 نیوز) پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام ضلع کونسل سے گھنٹہ گھرتک ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اوربجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے میں کثیر تعداد میں مردوخواتین نے شرکت کی۔حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شرکاء نے کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر بجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافہ نامنظور،مہنگائی کاعذاب غریب پر کیوں،عوام دشمن پالیسی نامنظور کے نعرے درج تھے۔ریلی کی قیاوت مرکزی سیکرٹری جنرل PAT خرم نوازگنڈاپور،صوبائی صدرPATمیاں ریحان مقبول،ڈویژن صدرPATرانارب نوازانجم،ڈویژن جنرل سیکرٹری راناغضنفرعلی،ضلعی صدرمیاں کاشف محمود،جنرل سیکرٹری چوہدری سہیل شوکت،ضلعی صدرTMQخالدمحمودرندھاوا، ناظم خالدرمصطفوی ایڈووکیٹ،قیصرعباس علامہ اخترحسین،باجی کلثوم اختر،فرحت دلبر،مصباح افتخار،عمران مبارک،رانا،ادریس،میاں ارسلان قادری،میاں عمرغریب نواز،نعلین مصطفی،وجملہ فورمزکے ضلعی عہدیداران نے کی۔مرکزیسیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجلی اورگیس کی قیمتوںمیں اضافے سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اسمبلیوں کے اندر بے رحم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو جانتے ہیں کہ عام آدمی فاقوں اور خودکشیوں پر مجبور ہے مگر یہ لوگ غریب کے حق میں نہیں بولتے۔ بجلی کے موجودہ بلوں کے ساتھ انسانی زندگی کا برقرار رہنا پاکستان میں ناممکن ہو چکا ہے۔ بجلی کا بل دینے کے بعد کسی غریب اور مزدور کے پاس کھانے، پینے کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ غریب آدمی کے لئے ہسپتالوں میںعلاج ہے نہ سکولوں میں تعلیم۔ پاکستان کی ایسی بری حالت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی جو آج دیکھ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف والے بجلی، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا حکم دیتے ہیں تو فوری مان لیا جاتا ہے مگر وہ اراکین اسمبلی اور بیوروکریٹس کی اثاثوں کی فہرست مانگیں اور انہیں مشتہر کرنے کی بات کریں تو یہ سارے ڈٹ جاتے ہیں۔ یہ لوگ عام آدمی کے مفاد کے لئے نہیں بولتے۔صدرسنٹرل پنجاب میاں ریحان مقبول نے کہاکہ آئی پی پیز کے ساتھ ظالمانہ معاہدے ختم کئے جائیں ۔ ملی بھگت کے ساتھ کیپیسٹی پیمنٹ کے نام پر بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔ریاست 25 کروڑ عوام سے جینے کا حق چھیننے والے آئی پی پیز مالکان کا محاسبہ کیوں نہیں کرتی؟بجلی کے ظالمانہ بلوں کی وجہ سے بھائی، بھائی کا گلہ کاٹ رہا ہے، کروڑوں غریب خاندانوں کی گھریلو زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ایک پنکھا اور فریج استعمال کرنے والوں کو بیس، بیس ہزار روپے کا بل آرہا ہے۔ لوگ کب تک گھریلو اشیاء بیچ کر، ادھار مانگ کر بجلی کے بل ادا کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button