عظمت فردوس کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے، اپنے ہی دفتر کا عملہ خلاف کیوں ہوگیا؟


تحریر۔ میاں ندیم احمد
فیصل آباد میں تجاوزات کیخلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر عملدرآمد بھی کروارہی ہے۔ مرکزی شہر کے آٹھوں بازار میں باربار تجاوزات بھی ہو رہی ہے اور میونسپل کارپوریشن کا عملہ بھی ان تجاوزات کو ہٹانے کیلئے اپناکام کررہا ہے۔ پختہ تجاوزات کو مین بازاروں سے تو ختم کردیا گیا ہے لیکن ابھی ان آٹھ بازاروں کی ملحقہ سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں پختہ اور عارضی تجاوزات موجود ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی سی ای او عظمت فردوس اس خصوصی مہم میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ ان کے خلاف کئی محاذ بھی کھولے گئے انہی کے دفتر میں انکے مخالفین مختلف طریقوں کیساتھ نہ صرف جھوٹی خبریں پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں بلکہ انکے تبادلے اور انکو ہٹائے جانے کے حوالے سے بھی کبھی سوشل میڈیا پر خبریں پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک سروے کی مطابق مختلف شہریوں نے حکومت کے اس اقدام کو بہت سراہا ہے اور کہا ہے کہ قبضہ مافیا نے سڑکوں، بازاروں اور گلیوں پر قبضہ جمایا ہوا تھا۔ انکی دکانوں کے آگے کوئی بھی شریف شہری اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی پارک نہیں کرسکتا تھا، جس سے اکثر لڑائیاں بھی ہوجاتی تھیں۔ کئی بار یہ مہم شروع ہوئی لیکن سیاسی مداخلت کی بنا پر مہم ادھوری رہ جاتی تھی اور دوبارہ تجاوزات قائم ہو جاتی تھیں۔ لیکن اس بار پنجاب حکومت کے واضح احکامات اور میونسپل کارپوریشن کے افسران، ڈپٹی کمشنر، کمشنر کی سربراہی میں اس مہم پر کامیابی کیساتھ کام جاری ہے، باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عظمت فردوس کے انکے سی ای او بھی پسند نہیں کرتے وہ اپنے دفتر کم ہی پائے جاتے ہیں اکثر وہ غائب ہی رہتے ہیں۔ جب بھی ان سے رابطے کو کوشش کی جائے تو ان سے رابطہ ممکن ہی نہیں ہوتا۔ انکی بھی خواہش ہے کہ جلد از جلد عظمت فردوس کا کہیں اور تبادلہ ہو جائے اور کچھ لوگوں کے راستے آسان ہو جائیں۔ میونسپل کارپوریشن کا وہ عملہ جن پر دکاندار حضرات اکثر الزامات عائد کرتے تھے کہ یہ منتھلیاں وصول کرتے ہیں اور اگر کوئی بڑا افسر کبھی خود تجاوزات کے خاتمے کیلئے بازاروں میں آجائے تو وقتی طور پر انکا سامان دفتر لے جاتے اور مک مکا کرکے ان دکانداروں کو سامان واپس کردیا جاتا تھا۔ وہ عملہ بھی ابھی تک پریشان ہے کہ کسی طرح عظمت فردوس کو یہاں سے ٹرانسفر ہو جانا چاہئیے۔ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ابھی بھی کہیں کہیں کارپوریشن کا عملہ ریڑھی والوں اور دکانداروں کوسامان واپس کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور اپنے تعلقات بحال رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ڈپٹی سی ای او کے علم میں یہ بات آتی ہے تو اس انسپکٹر یا دیگر عملے کا تبادلہ دوسری برانچ میں کردیا جاتا ہے۔نذرانوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوا لیکن پہلے سے بہت کم ہوگیا ہے اب ایک خوف ضرور ہے کہ شکایت ہوگئی تو شامت آجائے گی۔ شہریوں کا یہ کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف مہم کو اب دیہاتوں اور محلوں کی جانب بھی وسیع کردینا چاہئیے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے گھروں کے تھڑے، واش روم، کمرے، دکانیں، برآمدے وغیرہ بازاروں میں بنا کر راستے بند کردئیے ہیں وہ راستے بحال ہونے چاہئیں۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلی محلوں میں سیکیورٹی کے نام پر ناجائز گیٹ لگائے گئے ہیں انکو بھی ختم کرنا چاہئے۔ انہوں نے عظمت فردوس کی کاوشوں کو خوب سراہا ہے اور کہا ہے کہ فیصل آباد میں نسیم صادق کے بعد عظمت فردوس ہی ہے جس نے اس مافیا کا سامنا کیا ہے اور ابھی تک اپنی سیٹ پر براجمان ہیں،اور خدمت خلق کررہی ہیں۔ شہر کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ لوگوں کی اکثریت نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس اقدام کو خوب سراہا ہے اور کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ شاید یہ وقتی طور پر ہوگا اور پھر دوبارہ تجاوزات قائم ہو جائیں گی لیکن ہمارا یہ اندازہ غلط نکلا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے جہاں اور اچھے کام کئے وہاں یہ کریڈٹ بھی انہی کو جاتا ہے کہ انہوں نے کسی سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا۔


