ریڈیوپاکستان ایف ایم 93 کے پروگرام "رابطہ” میں انچارج دارالامان لبنیٰ صدیق "عورتوں پر تشدد کیخلاف عالمی دن” کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے


فیصل آباد(94 نیوز) مہذب معاشرے میں عورت کو خاص مقام دیا جاتا ہے، دین اسلام بھی عورت کی عزت و احترام کا درس دیتا ہے۔ عورت پر تشدد کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوتا، عورت ماں ہے، بیٹی ہے، بہن ہے، بیوی ہے۔ جسمانی تشدد ہی صرف تشدد نہیں ذہنی ٹارچر بھی تشدد میں ہی آتا ہے۔ اس کو کوئی تشدد ہی نہیں سمجھتا۔ ذہنی ٹارچر زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ یہ گفتگو میڈم لبنیٰ صدیق انچارج دارالامان فیصل آباد و سوشل ویلفئیر آفیسر نے خواتین پر تشدد کیخلاف عالمی دن کے موقع پر ریڈیو پاکستان ایف ایم93کے حالات حاضرہ پر مبنی پروگرام رابطہ میں میزبان میاں ندیم احمد کو ایک انٹرویو دیتے ہوئی کہی۔ انہوں نے کہا کہ مردوں کے اس معاشرے میں عورت کو آج بھی وہ مقام حاصل نہیں جو اسے حاصل ہونا چاہئے، اس ترقی کرتے اور تعلیم یافتہ دور میں بھی خواتین پر نہ صرف جسمانی تشدد کیا جاتا ہے بلکہ ذہنی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ حکومت نے بہت سارے قوانین بھی بنا دئیے ہیں جو عورت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جس سے بہتری آئی ہے۔ میڈم لبنیٰ صدیق نے کہا کہ اسلام عورت کو ترقی سے منع نہیں کرتا، اسلام عورت کو تعلیم سے منع نہیں کرتا۔ عورت کو کاروبار کرنے سے منع نہیں کرتا پھر ہم کیوں عورت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ آج ہمارے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بھی اک خاتون ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ عورت کے بغیر ترقی نا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی دارالامان میں اپنے ہی گھر والوں، اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین دارلامان میں موجود ہیں۔ اگر حکومت یہ ادارہ نہ بناتی تو ان بے گھر خواتین کو کوئی پرسان حال نہ ہوتا۔ حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے دارلامان جیسے ادارے بنا کر عام عورت کی دادرسی کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں عورت پر تشدد ہورہا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ سب کو ملکر نہ صرف مردوں کو بلکہ خواتین کو بھی آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ عورت پر تشدد کسی بھی صورت قبول نہیں۔ کیونکہ ایک عورت نے پورے کنبے کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ بچوں کی تربیت کرنا ہوتی ہے اگر عورت ہی ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہوگی تو وہ نئی نسل کی پرورش اور تربیت بہتر انداز سے نہیں کرسکتی۔ میڈم لبنیٰ نے کالرز کے سوالوں کے جواب بھی دئیے، انہوں نے این جی اوز اور فلاحی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور کمیونٹی میں آگاہی سیمینارز اور لیکچرز کا اہتمام کریں تاکہ لوگوں کو اس بارے آگاہی مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے تحفظ کیلئے سوشل ویلفئیر کے دیگر ادارے بھی موجود ہیں۔



