حامد میر بھی آزادی مارچ میں پہنچ گئے، کیا کہا؟ سب حیران رہ گئے۔


اسلام آباد (94 نیوز) جمیعت علماء اسلام (ف) کا آزادی مارچ وفاقی دارالحکومت میں پہنچ چکاہے جہاں پر ن لیگ کی قیادت شہبازشریف سمیت دیگر قائدین بھی پہنچ گئے ہیں میاں شہباز شریف نے مارچ سے خطاب بھی کیا تاہم اس سے کچھ دیر قبل آزادی مارچ میں معروف اور سینئر صحافی حامد میر بھی پہنچے جن کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حامد میر نے جلسے کا دورہ کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی ایف کی قیادت نے اعلان کیا کہ آپ سب خواتین کا احترام کریں اور جو میڈیا سے تعلق رکھنے والی بہنیں اور بیٹیاں آزادی مارچ کی کوریج کرنے آ رہی ہیں انہیں آنے دیا جائے ، ان پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے ۔
حامد میر نے کہا کہ جے یو آئی ایف کی جانب سے اس اعلان نے تمام صحافی برادری کو مجبور کیا کہ ہم آپ کا یہاں آ کر شکریہ ادا کریں تو میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ اور یہاں آکر کام کرنے والی میڈیا کی خواتین کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتاہوں۔
انہوں نے کہا کہ 2014 کے دھرنے میں خواتین صحافیوں پر پابندی نہیں لگائی گئی لیکن بہت سی خواتین صحافی ایسی تھیں جنہیں براہ راست پروگرام کے دوران پتھر اور بوتلیں ماری گئیں، ہماری صحافی خاتون ثناءمرزا کو لائیو پروگرام کے دوران پتھر لگا اور وہ رو پڑیں لیکن ان کی شکایت نہ کسی نے سنی اور نہ ہی معافی مانگی گئی لیکن جب ہم نے اپنی شکایت مولانا فضل الرحمان تک پہنچائی تو کچھ ہی دیر میں انہوں نے ہماری شکایت دور کر دی ۔
حامد میر کا کہناتھا کہ میں ایک صحافی ہوں کیونکہ آج کل صحافت بہت سی پابندیوں کی زد میں ہے ، پابندیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں تو یہ گزار ش ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں جو آزادی صحافت کا نعرہ لگاتی ہیں وہ ہم پر کوئی پابندی نہیں لگائیں گے ، آپ اپنے مطالبات میں یہ مطالبہ بھی شامل کریں کہ پاکستان کی صحافت پر جو غیر اعلانیہ سنسر شپ عائد کی گئی ہے اسے ختم کیاجائے کیونکہ یہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی صحافی برادری کی جانب سے حبیب جالب کی نظم پڑھوں گا
میرے ہاتھ میں قلم ہے
میرے ذہن میں اجالا
مجھے کیا دبا سکے گا
کوئی ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امن عالم
تجھے اپنے ذات کا غم
میں طلوع ہونے والا
تو غروب ہونے والا
اس سے قبل "سینئر صحافی حامد میر نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ” میں پاکستان فیڈریل یونین آف جرنلسٹ اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کی جانب سے جے یو آئی ایف کی قیادت کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے سٹیج پر خواتین رپورٹرز پر رپورٹنگ کرنے پر پابندی نہ ہونے کا اعلان کیا ۔“

یادرہے کہ حامد میر کی مارچ میں شرکت اور خطاب پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جارہی تھی کہ ایک ایسے مارچ میں وہ شریک ہورہے ہیں جو خالصتاً حکومت کے خلاف ہے لیکن اب انہوں نے خود واضح کیا کہ وہ صحافی تنظیموں کی طرف سے شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔



