انسانی اسمگلرز نے ظلم کی انتہا کردی، بیٹے کے قتل کے باوجود باپ سے رقم وصول کرلی


گجرات (94 نیوز) کشتی حادثے کے ملزمان انسانی اسمگلرز کا گجرات کے محنت کش پر دہرا ظلم بیٹے کے اسپین پہنچنے کی جھوٹی اطلاع دے کر مزید رقم وصول کی، بعد میں معلوم ہوا کہ حسن علی تو مراکش کے سمندر میں ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گجرات کے علاقے کنجاہ کے ٹیکسی ڈرائیور آفتاب نے پلاٹ بیچ کر اپنے 17 سالہ بیٹے حسن علی کو یورپ بھجوانے کا فیصلہ کیا، کشتی حادثے کے بعد ایجنٹ نے کہا کہ آپ کا بیٹا جہاز کے ذریعے اسپین پہنچے گا لیکن یہ بات جھوٹ نکلی۔ ایجنٹوں نے حسن علی کے اسپین پہنچنے کا بتا کر طے شدہ تمام رقم بھی وصول کر لی، تاہم اسوقت 17 سالہ نوجوان کشتی میں بیٹھا مراکو کے سمندر میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔ 17 سالہ حسن علی کا 7 ماہ کا سفر اسپین پہنچنے کی خوشی میں مٹھائیوں کی تقسیم سے ہوتا ہوا غائبانہ نماز جنازہ پر ختم ہوگیا۔
مراکش کشتی حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں نے ہولناک انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مراکش میں کشتی حادثہ نہیں قتل عام ہوا۔ کشتی حادثے میں بچنے والوں کے ابتدائی بیانات ریکارڈ کرلیے گئے، اسمگلروں نے تاوان دینے والوں کو چھوڑ دیا اور نہ دینے والوں کو ہتھوڑے مار کر سمندر میں پھینک دیا۔ ذرائع کے مطابق مراکش کشتی حادثہ کی تحقیقات سے متعلق اہم پیشرفت ہوئی ہے، کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں سے مراکش میں موجود 4 رکنی کمیٹی نے ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مراکش کے لیے حکومتی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (نارتھ) منیر مارتھ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری اور وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔
زندہ بچ چانے والے پاکستانیوں نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ مراکش کشتی حادثہ نہیں بلکہ قتل عام تھا، ملزمان نے کشتی کھلے سمندر میں کھڑی کی اور تاوان مانگا، تاوان دینے والے 21 پاکستانیوں کو چھوڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشتی میں سوار بیشتر لوگ سرد موسم اور تشدد کے باعث جاں بحق ہوئے، کشتی میں موجود افراد کو خوراک کی قلت کا بھی سامنا تھا۔ذرائع کے مطابق کشتی انٹرنیشنل ہیومن ٹریفکنگ ریکٹ کی نگرانی میں تھی، اس ریکٹ میں سنیگال، موریطانیہ اور مراکش کے اسمگلر شامل ہیں۔



