اسماعیل ہنیہ کی شہادت،اسرائیل جنگ کو بات چیت سے حل کرنا نہیں چاہتا،عبدالسلام اعوان


کراچی(94 نیوز) انجمن طلبہ اسلام پاکستان کے مرکزی صدر عبدالسلام اعوان نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت انجمن کی اپنی قیادت کی شہادت کی طرح سے ہے، ان سے پہلے صالح العروری کو شہید کیا گیا، ہم نے حماس کی قیادت سے مل کر انہیں اپنے احساسات و جذبات سے آگاہ کیا، ایک دن پہلے لبنان میں اسرائیل کے بدترین حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے کمانڈر سید فرخ کو نشانہ بنایا گیا، ہم ان کی بھی تعزیت کرتے ہیں، لیکن یہ ساری صورتحال عرب ملکوں کے منہ پر طمانچہ ہے، جنہوں نے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے ساتھ تجارت کو زندہ رکھنے کے لئے اپنے ضمیر کو مار دیا ہے، لیکن تیل کی تجارت کا رجحان جلد ختم ہوجائے گا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ ان عرب ممالک میں طاقتور لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم OIC خاموش تماشائی ہے، ہم نے دیکھ لیا کہ عالمی عدالت برائے انصاف بھی برائے نام انصاف کی علمبردار ہے، طاقتور کو لگام کوئی نہیں دے پا رہا ہے،اسرائیل امریکہ کی پشت پناہی میں انسانیت کے تمام درجات سے نیچے جا چکا ہے، ہم عالمی تنظیمات اور تمام مما لک کے خارجہ دفاتر کو خط لکھیں گے اور مسلم امت کے طلبہ کے احتجاج اور ان کے احساسات کو پہنچائیں گے۔ ہم مسلم نوجوانوں کو فلسطین میں جاری مظالم یاد دلاتے رہیں گے تاکہ ان کے دلوں میں یہود و نصاریٰ کے لئے نفرت قائم رہے اور ہم شہداء کا انتقام لینے والوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔انجمن طلبہ اسلام پاکستان کے مرکزی نائب صدر اول نبیل مصطفائی نے کہا کہ ہم حکومت ایران سے اس کوتاہی پر وضاحت چاہتے ہیں، ایران کی فوج اور انٹیلی جنس ادارے مسلسل ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں، صالح العروری اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایرانی فوجی کی سیکورٹی میں ہوئی۔ خود ایرانی صدر بھی ایسے ہی حملے کا شکار ہوئے۔یہ سب کچھ ناقابل تلافی نقصان ہے اور ایران کو امت مسلمہ کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ ملک بھر میں انجمن طلبہ اسلام کی ریجنل و ضلعی تنظیمات عشرہ شہداء فلسطین منائیں گی اور حماس کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا جائے، انجمن کے طلبہ اسکول، کالجز اور جامعات میں جنگ کے حوالے سے آگہی مہم کو ایک بار پھر بھرپور انداز میں چلائیں گے۔



