تقریبات/سیمینارز

کاتھولک کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی کے ز یر اہتمام امن و رواداری کے فروغ میں مذہبی و سماجی رہنمائوں کا کردار کے موضوع پر امن کانفرنس کا انعقاد

بشپ اندریاس رحمت، فادر خالد رشید عاصی،توفیق یونس ،یعقوب یوسف، شاہد انورایڈووکیٹ، علامہ ریاض کھرل، پیر خرم سیفی، علامہ غلام اکبر ساقی، سید حسنین شیرازی، مولانا سکندر حیات ذکی، بشپ شمس پرویز، علامہ منشا سالک، صاعقہ کور، شاہین انتھنی، میاں ندیم احمد، ڈاکٹر عبدالحفیظ، پروفیسر انجم پال، فادراکرم گل کی خصوصی شرکت

فیصل آباد (94 نیوز) کاتھولک کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی فیصل آباد کے ز یر اہتمام فیصل آباد کے مقامی ریسٹورنٹ میں” امن و رواداری کے فروغ میں مذہبی و سماجی رہنمائوں کا کردار” کے موضوع پر بین المذاہب امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس کا مقصد امن رواداری ، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی بھائی چارے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا پیار محبت اور اخوت کے پیغام کو پاکستانی معاشرے میں فروغ دینا تھا۔اس امن کانفرنس میںمختلف مسالک کے مسلم و مسیحی مذہبی رہنما، سیاسی و سماجی کارکناں کے علاوہ ،تاجران، اساتذہ ، طلبہ اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔امن کانفرنس میں بشپ اندریاس رحمت ، فادر خالد رشید عاصی،پادری توفیق یونس ،پادری یعقوب یوسف، شاہد انورایڈووکیٹ، علامہ ریاض کھرل، پیر خرم سیفی، علامہ غلام اکبر ساقی، سید حسنین شیرازی، مولانا سکندر حیات ذکی، بشپ شمس پرویز، علامہ منشا سالک، صاعقہ کور، شاہین انتھنی، میاں ندیم احمد چئیرمین فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک و صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس فاؤنڈرز، ڈاکٹر عبدالحفیظ، پروفیسر انجم پال، پادری اکرم گل و دیگر نے شرکاء سے خطاب کیا۔ مقررین امن کانفرنس نے کہا کہ ہمیں اپنے منفی رویے یعنی بے راہروی ، کینہ پروری ،حسد ، لالچ، غضب ، تفرقے ، جدائیاں اور بدعتوں کو ترک کرکے امن و سلامتی،پیا رو محبت اور ترقی و خوشحالی کے روشن پہلوؤںکو اجاگرکرنا چاہیے اور معاشرے میں ان مثبت پہلوئوں کا پرچارکرنا چاہیے۔ ہمیںہرپلیٹ فارم پر انسانوں کی عظمت ، بھائی چارہ ، اخوت اور امن و ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ عوامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ جاری رکھتے ہوئے ہر اُس ذرائع کا استعمال کریں گے جس سے امن کے ایک نئے دور کی ابتداء ہوسکے۔ مزید انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی اورتشددکے خاتمے کیلئے بین المذاہب و بین العقائد مکالمہ ، رواداری اورقبولیت کے کلچر کو فروغ دیا جائے تاکہ مذہبی گروہوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء ختم ہوسکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button