Column

اسلام آباد پر لانگ مارچ کی یلغاریں، پنٹاگون کا گیم پلان

کالم نگار ۔ طارق محمود جہانگیری کامریڈ لاھور 94 news
اب تک کی اطلاعات کے مطابق کراچی سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں روانہ ہونے والا مرکزی ٹرین قافلہ سپر لانگ مارچ بھی وفاقی دارالحکومت کی جانب بھرپور جوش و خروش کے ساتھ رواں دواں ہے۔ سپر لانگ مارچ کا آغاز اتوار 20 ستمبر کو کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے ہوا تھا۔ 23 ستمبر کو لاہور سے جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد کی طرف مارچ کا آخری بڑا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔ مرکزی مارچ کے شرکاء 23 And 24 ستمبر کے دوران اسلام آباد پہنچیں گے۔جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں مستقل ریلیف فراہم کرنا ہے۔حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اب تک مذاکرات کے 5 ادوار ہوچکے ہیں، تاہم پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حتمی اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔ کسان اتحاد نے 25ستمبر کو اسلام آباد میں ملین مارچ کا اعلان کر رکھا ھے۔ کسان اتحاد نے پنجاب حکومت کی زرعی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز سے استعفے کا مطالبہ کردیا ھے ۔ کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ کسانوں کے معاشی مسائل کے حل کے لیے 25 ستمبر کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملین مارچ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران گندم کے کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ پہلے سال کسانوں نے تقریباً 2200 ارب روپے کا نقصان برداشت کیا۔ خیال رہے کہ آزاد کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جون 2026 سے احتجاجی مظاہرے، ہڑتالیں اور ریلیاں جاری ھوئیں ۔عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتِ آزاد کشمیر کے سامنے حقوق اور مطالبات کا 38 نکاتی منشور پیش کئے تھے ۔ قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کی مخالفت کی گئی تھی۔ جن کے بارے میں کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس سے سیاسی معاملات متاثر ہوتے ہیں۔ علاؤہ ازیں مہنگی بجلی، آٹے پر سبسڈی اور بنیادی حقوق کی فراہمی بھی مطالبات میں شامل ہیں ۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ آزاد کشمیر کے احتجاج کے ڈانڈے بھارت سے ملتے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو اس حوالے سے شواہد ملے ہیں۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں کشیدگی اور فورسز کے مبینہ رویے کے خلاف لندن میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ آزاد کشمیر میں 7 June 2026 کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں، ہڑتالوں اور جھڑپوں کا ایک سلسلہ مبنیہ اطلاعات کے مطابق اب بھی مختلف مضافاتی علاقوں میں اب بھی جاری ہے ۔ آزاد کشمیر میں کمیونسٹوں، سوشلسٹوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لیکن کیمونزم سوشلزم نے آزاد کشمیر کی تحریک میں جان ڈال دی ۔ مٹھی بھر سوشلسٹوں کا کہنا ھے کہ موجودہ نااھل حکمرانوں سے کوئی امید نہیں ۔ مبنیہ اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کے متاثرین بھی ستمبر کے آخری عشرے کے دوران اپنے جائز حقوق و مطالبات کے لیے اسلام آباد کی جانب رخ کرنے کی تیاریاں کررھے ھیں ۔ تحریک انصاف نے 27 Sep 2026 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا حتمی اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر صورت اسلام آباد پہنچیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس بار اسلام آباد پہنچنے کے لیے متعدد اور متبادل راستے استعمال کیے جائیں گے تاکہ پچھلی بار جیسی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔ حکومتی ارکان کا الزام لگایا ہے کہ تحریک انصاف 27 ستمبر کو ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب ایک مبینہ پُرتشدد اور انتشاری مارچ کا آغاز کرنے جا رہی ہے ۔ جبکہ پی ٹی آئی کے راہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ میں گزشتہ احتجاج جیسی صورتحال نہیں ہوگی۔ لیکن ہم اسلام آباد کو سومنات بنائیں گے ۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے آزادی مارچ کا مقصد و نصب العین جماعت اسلامی کے سپر لانگ مارچ، کشمیر ریلی کاز اور کسان اتحاد کے احتجاج سے بالکل مختلف ہے ۔ تحریک انصاف کے آزادی مارچ کا مقصد مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بےجا، بےتحاشا اضافہ نہیں بلکہ بانی تحریک انصاف، روحانی پیشوا مرشد کامل اور انکی اھلیہ پیرنی بشری بی بی کی رھائئ ھے ۔ مختلف اسمبلیوں میں پی ٹی آئی اراکین کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے لیکن ان ارکان اسمبلی نے درپیش عوامی مسائل اور پی پی پی ن لیگی اتحادی حکومت کے عوام الناس دوشمن معاشی حکمت عملیوں کے خلاف ایک مرتبہ بھی ایوانوں میں آواز بلند نہیں کی ۔ تحریک انصاف کی قیادت اور بانی جماعت کی جانب سے سری نگر پر بھارتی اور غزہ فلسطین پر اسرائیلی مظالم، اسرائیل امریکہ کھلی جارحیت کے خلاف ایک مرتبہ بھی احتجاجی مظاہرے کی کال نہیں دی گئی ۔ غزہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں اور ایران کے ساتھ یک جہتی کا اظہار تک نہیں کیا گیا ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں آئندہ چند روز کے دوران مختلف سیاسی و احتجاجی مارچوں کے پیشِ نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔ جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے اطراف مختلف مقامات پر کنٹینرز بھی رکھے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے داخلی راستوں کی نگرانی اور اضافی نفری کی تعیناتی کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مارچ اور دھرنوں کے پیش نظر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے قیام کے لیے 54 سرکاری سکولوں سمیت مختلف سرکاری عمارتوں، کالجز، سپورٹس کمپلیکس اور دیگر مقامات کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خون، ادویات، ایمبولینسز اور ایمرجنسی بیڈز کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف سمیت مختلف گروہوں کی جانب سے اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں کے علاؤہ ریڈ زون اور ہائی سکیورٹی زون کو بھی خصوصی سکیورٹی حصار میں رکھا گیا ہے۔ شہر کے اہم راستوں اور شاہراہوں پر مزید رکاوٹیں لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں تقریباً ایک ہزار کنٹینرز، ٹرک، ٹریلرز اور بھاری گاڑیاں تحویل میں لیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اسلام آباد میں 23 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات اہلکاروں کی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز، 40 ایس پیز اور 58 ڈی ایس پیز شامل ہیں۔راولپنڈی پولیس نے مقامی نفری کی معاونت کے لیے مزید نو ہزار اہلکار طلب کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے پنجاب آنے والے اہم راستے میں 30 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ راولپنڈی میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں بھی یکم اکتوبر تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے 54 سرکاری سکولوں اور تعلیمی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ پولیس اور ایف سی اہلکاروں کے لئے سرکاری عمارتوں، کالجز، سپورٹس کمپلیکس، میرج ہالز اور پولیس اسٹیشنز میں بھی قیام کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف داخلی راستوں پر سکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ پرامن شہریوں اور معمول کی شہری سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ تحریک انصاف کے کارکنان سیکورٹی کے انتظامات کو حکومت کی بوکھلاہٹ گھبراہٹ قرار دے رھے ھیں ۔ جبکہ صورتحال اس سے بالکل ھی مختلف ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز نے شر پسند عناصر کی پرتشدد کاروائیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی جانب سے پوری تیاریاں کر رکھی ہیں ۔ شہباز شریف اور مریم نواز کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ سیکورٹی انتظامات کا فیصلہ اس مرتبہ اوپر سے کیا گیا ہے۔ بڑے لوگوں کی جانب سے احکامات جاری کیے جائیں گے ۔ اور حافظ جی خود نگرانی کریں گے۔ مبنیہ اطلاعات کے مطابق جس طرح تخریب کاروں دھشت گردوں کے ساتھ پاک سیکورٹی فورسز کارروائیاں کرتی ہے ۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل شر پسند عناصر کے خلاف بھی ایسا ھی آپریشن کیا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے اس بار اسلام آباد میں دما دم مست قلندر ھوگا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ ٹیسٹ میچ ہوگا اور ہم ہی جیتیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن احتجاج میں فائرنگ کا فورسز جواب دیں گی ۔ پی ٹی آئی بند گلی میں نہ جائے جہاں سے واپسی نہ ہو۔ تل ابیب پنٹاگون دنیا میں محلاتی سازشوں کا سب سے بڑا محور و مرکز سمجھا جاتا ھے ۔ پاکستان میں جتنے بھی احتجاجی مظاہرے، تحریکیں چلائی گئی ھیں ۔ سی آئی اے کے ھیڈ کوارٹر میں ان سب کا گیم پلان اور ڈیزائن تیار کیا جاتا ہے۔ اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتیں پنٹاگون کے اشاروں پر کام کرتی ہیں۔ حققی تبدیلی حقیقی آزادی کا دلفریب بیانیہ عوام الناس کو بےوقوف بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ھماری بشتر جماعتیں چار بڑی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جہدوجہد کرتی ھیں ۔ ھمارا ماضی حال بےشمار مثالوں سے بھرا پڑا ہے ۔ تحریک انصاف بھی پنٹاگون ونگ کی ایک بٹالین ھے ۔ یہ وہ کڑوا کھرا سچ ہے جو اندھی تقلید، شخصیت پرستی میں مبتلا روحانی پیشوا کے مریدین و معتقدین سے ھضم نہیں ھوگا ۔ یاد رہے کہ پاکستان تو کیا کسی مسلم ملک میں چائنہ کی خفیہ ایجنسی ایم ایم ایس، روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کبھی کسی شر پسندی میں ملوث نہیں رھی ۔ عظیم الشان کیمونسٹ ریاست روس، عظیم الشان سوشلسٹ جمہوریہ چین نے کبھی کسی مسلم ملک کو توسیع پسندانہ عزائم کا نشانہ نہیں بنایا ۔ ھمارے ملک میں جتنی بھی محلاتی سازشیں ھوئی ھیں یا اب تک ھورھی ھیں ۔ ھمارے ملک وقوم کے بیرونی آقا امریکہ صاحب بہادر کی جانب سے کی جا رہی ھیں

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button