قومی

آگاہی مہم سے ہی پاکستان کو پولیو فری بنایا جا سکتا ہے، عظمیٰ کاردار

فیصل آباد(94 نیوز)حکومت اورشہری بالخصوص والدین مل کر پولیو وائرس کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ٹک ٹاکرز،کرکٹرزاور علماء کے ساتھ مل کو موثر آگاہی مہم چلائی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پولیو کے دو قطروں کی اہمیت سے آگاہ کرکے پاکستان کو پولیو فری بنایا جاسکے۔یہ بات وزیراعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عظمیٰ کاردارنے ڈپٹی کمشنر آفس فیصل آباد کے کمیٹی روم میں ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔سی ای او ہیلتھ اسفند یار نے آئندہ انسداد پولیو مہم کے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ سال کی پہلی پولیو مہم3 فروری سے شروع ہو رہی ہے جس کا باقاعدہ افتتاح ہفتہ کے روز ڈپٹی کمشنر کرینگے۔7 روزہ مہم 9 فروری تک جاری رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ16 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ٹارگٹ ہے۔عظمی کاردار نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر فیصل آبادکیپٹن(ر) ندیم ناصر کی قیادت میں ہیلتھ اتھارٹی کی طرف سے پولیو کے خاتمہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ پر فوکس رکھیں اورایریا انچارجز،یوسیز وٹرانزٹ ٹیموں کی بھرپور ٹریننگ کریں اور ہر ٹیم میں ایک خاتون ورکر کو لازمی شامل کریں تاکہ مائیں سہولت اور اطمینان کیساتھ بچوں کو قطرے پلاسکیں۔انہوں نے فنگر مارکنگ اور مائیکرو پلان کے مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ علماء سمیت ہر کمیونٹی کا تعاون پولیو کے خاتمہ کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ علماء کا پولیو کے خاتمہ کیلئے کلیدی کردار ہے اور جمعہ کے خطبات میں بھی پولیو کے قطرے پلانے کا پیغام دیں۔انہوں نے ایک پولیو ورکر کی وفات پر لواحقین کو امدادی چیک بھی دیا۔عظمی کاردار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ایسا چیلنج ہے جو دوبارہ درپیش ہے۔پاکستان اور افغانستان پولیو سے متاثرہ ملکوں میں شامل ہیں۔تین سال پہلے پاکستان پولیو فری تھا۔ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر پولیو سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو پولیو ورکرز کی سکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت کی ہے۔پنجاب کے جن علاقوں سے پولیو سیمپل ملتے وہاں فوری ویکسین پلائی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بار بار پولیو مہم کا مقصد بچوں کو معذوری سے بچانا اور پاکستان کو پولیو فری بنانا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button