قومی

یونیورسٹی سے اٹھائے گئے طالبعلم کو رشوت نہ ملنے پر پولیس نے مبینہ جعلی مقابلے میں پار کردیا

سکھر (94 نیوز) سندھ پولیس  نے تین ہفتے قبل یونیورسٹی سے اٹھائے گئے طالبعلم  عرفان جتوئی کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں پار کردیا۔

ٹوئٹر پر ’جسٹس فار عرفان جتوئی‘ کے نام سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے قاتل پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ عرفان جتوئی کو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے انٹرنیشنل ہاسٹل سے 10 فروری کو پولیس نے گرفتار کیا جس کے بعد پیر کو اسے مبینہ جعلی مقابلے میں ڈاکو قرار دے کر پار کردیا۔ 

صحافی امتیاز چانڈیو کے مطابق عرفان جتوئی کو سکھر پولیس نے مقابلے میں قتل کیا ہے۔طالبعلم کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ایس پی سکھر نے رشوت مانگی جو نہ ملنے پر ان کے بیٹے کو قتل کردیا گیا ۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close