National

نیب کے بے لگام ہونے کا تاثر غلط ہے، چیئرمین نیب

Karachi(94 news) NAB chairman Justice (T) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا آج وہ جیل میں ہیں، نیب کے بے لگام ہونے کا تاثر غلط ہے، کہا جاتاہے کہ نیب کا احتساب نہیں، کیس کو طول دیا جاتاہے تاہم ریفرنس فائل ہونے کے بعد نیب کا کوئی کردار نہیں رہتا، نیب کو زیرحراست کو24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کرنا ہوتاہے،مقدمات کے جلد فیصلے کیلئے کوشاں ہیں، جج صاحبان کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ریفرنس کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔

نیب سکھر کے دورہ کے موقع پر افسران کے اجلاس اور بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (T) جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور لوٹی گئی رقوم کی واپسی اولین ترجیح ہے،نیب نے 23 ماہ میں بدعنوان افراد کے خلاف600ریفرنس عدالتوں میں دائر کئے اور 71 ارب قومی خزانے میں جمع کرائے، نیب احتساب کی سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے،جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا آج وہ جیل میں ہیں،جب سے چیئرمین آیا ہوں اسکا ذمہ دار ہوں جبکہ نیب نے کبھی کسی کے چہرے کو نہیں دیکھا، ہمیشہ کیس کو دیکھا ہے، ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ہر فائل خود دیکھتاہوں، جب بھی کوئی چیز میرے پاس آتی ہے اسکا مکمل مطالعہ کرتا ہوں،نیب سکھر کے حوالے سے شکایات ہیں جن کی تحقیقات ہورہی ہیں، نیب کا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں تاہم ملکی مفاد پر کسی کے مفاد کو ترجیح نہیں دے سکتے، کسی افسر کی وجہ سے نیب کی ساکھ پر حرف نہیں آنا چاہئے، کسی کے برا بھلا کہنے سے نیب کی کارروائیاں بند نہیں ہوںگی۔انہوں نے کہا کہ تمام ڈی جیز سے کہہ دیاہے ہر سفارش اور پریشر نیب آفس کے باہر ختم ہوجانا چاہئے، کام صرف قانون کے مطابق ہونا چاہئے، نیب احتساب سب کا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،بد دیانتی برداشت نہیں کی جائیگی، محکمہ صحت میں کروڑوں روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود لوگوں کو کتے کے کاٹے کی ویکسین میسر نہیں، آخر یہ بجٹ کے پیسے کہاں گئے؟ایک بیٹا ویکسین نہ ملنے پر اپنی ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر مرگیا۔

قبل ازیں اجلاس کے دوران ڈی جی نیب سکھر عرفان بیگ و دیگر نیب افسران نے چیئرمین نیب کو مختلف سیاسی رہنماؤں اور افسران کے خلاف کیسز اور ان پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔

More

Related news

Leave a Reply

Close