مصطفیٰ عامر قتل کیس: اعترافی بیان کیلئے دباؤ ہے کہ اعتراف کرلو گے تو کم سزا ملے گی، ملزم شیراز کا بیان


کراچی (94 نیوز) کراچی میں مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں ملزم شیراز کو بیان دینے کے لئے عدالت میں پیش کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ملزم شیراز نے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کو بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ اعترافی بیان کے لئے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہےکہ اعتراف کرو گے تو کم سزا ملے گی، ملزم کے اس بیان پر عدالت نے تفتیشی افسر کی ملزم شیراز کے اعترافی بیان کی درخواست مسترد کردی۔
ملزم شیراز نے کہا کہ میں اس کیس کاگواہ ہوں، میرے سامنے ارمغان نے مصطفیٰ کو قتل کیا ہے، جن حالات میں قتل ہوا، میں مصطفیٰ کو بچانے کے لئے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم کو سوچنے کے لئے ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا، ملزم نے سوچ سمجھ کر اپنا بیان ریکارڈ کروادیا، جس کے بعد تفتیشی افسر کی ملزم کے اعترافی بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست مسترد کردی گئی۔
وقفے سے قبل فاضل جج نے ملزم کو کہا تھا کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے، آپ اچھی طرح سوچ لیں، پھر سوچ سمجھ کر ایک گھنٹے بعد بیان ریکارڈ کروادیں، بعد ازاں جج نے سماعت ایک گھنٹے کے لئے ملتوی کردی تھی۔
مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں ملزم شیراز کو ایک گھنٹے بعد بیان دینے کے لئے پیش کیا گیا تو اس نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ اعترافی بیان دینے کے لئے دباو ڈالا گیا تھا۔
کیس کا پس منظر:یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔بعد ازاں اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لئے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔
ملزم نے ابتدائی تفتیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لئے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔
دریں اثنا 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لئے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔



