کالم

ملک بھر میں گھمبیر صورتحال، بھارتی آبی جارحیت اور ھمارا فرسودہ نظام آبپاشی

کالم نگار ، طارق محمود جہانگیری کامریڈ
94 نیوز۔ اس وقت صوبہ پنجاب کے ندی نالوں میں طغیانی آئی ھوئی ھے ۔ تین بڑے دریا بپھر گئے ہیں ۔ مون سون کے پہلے دو سپیل کی موسلادھار بارشوں ، برساتی نالوں کے پانی، گلیشیرز کے پگھلنے ، کلاؤڈ برسٹ نے دو تین ہفتے قبل گلکت بلبستان اور خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں تباھی مچا دی ۔ جسکے نتیجے میں بھاری مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔ سینکڑوں افراد سیلابی ریلے کی نذر ھوئے۔ ن لیگ اور اتحادی حکومت کی جانب سے خبیر پختونخوا کی تحریک انصاف حکومت کے حفاظتی انتظامات اور امدادی کارروائیوں کو تنقید کا خوب نشانہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں امدادی کارروائیوں میں مدد بھی کی گئی ۔ پنجاب سے گزرنے والے تین بڑے دریا بپھر گئے ہیں ۔ جسکے نتیجے میں پنجاب کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں سیلابی ریلوں نے بری طرح سے تباھی مچا دی ۔ صوبہ سندھ جہاں پر پیپلز پارٹی کی حکومت ھے ، اب وہ اظہار ھمدردی کی آڑ میں پنجاب کی ن لیگ حکومت پر طنز و تنقید کے خوب تیر برسا رھی ھے ۔ پیپلز پارٹی کو شاید یہ احساس نہیں ھے کہ صوبہ سندھ کے علاقوں میں بھی سیلابی ریلے دستک دے رھے ھیں ۔ ستمبر 2022 میں سیلاب نے اندرون سندھ کے دیہاتوں اور نشینی علاقوں میں جو تباھی مچا دی تھی ۔ تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود سندھ کے متاثرین کی بحالی ابھی تک ممکن نہیں ھو سکی ۔ تازہ ترین مصدقہ اطلاعات و تفصیلات کے مطابق چناب، راوی اور ستلج میں غیرمعمولی سیلابی صورتحال برقرار ھے۔ صوبہ پنجاب میں اب تک 12 ہلاکتوں کی تصدیق ھوچکی ھے ۔ دوسری جانب دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام سے 1 لاکھ 80 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والی مون سون ہوائیں پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں۔ جس سے شدید بارشوں کا امکان ہے۔ ریسکیو پنجاب کا کہنا ہے کہ اب تک 2 لاکھ 25 ھزار افراد اور 2 لاکھ 75 ھزار مویشیوں کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ھے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں قادر آباد ہیڈ ورکس پر پانی کے دباؤ میں کمی ہو رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا یہ بھی کہنا تھا کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام سے آج بدھ کے روز تقریبا 2 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرے گا ۔ اس وقت صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ جس سے اب تک لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تینوں دریاؤں میں پانی کا شدید دباؤ بدستور موجود ہے۔ واضح رہے کہ دریائے چناب، راوی اور ستلج پر مجوموعی طور پر 12 ہیڈ ورکس ہیں ۔جہاں سے پانی کے بہاؤ کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے ۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب میں اس وقت قادرآباد ہیڈ ورکس کے مقام پر سب سے زیادہ پانی کا دباؤ ہے۔ جہاں 8 لاکھ 13 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ جبکہ قادرآباد سے 8 لاکھ 7 ہزار کیسوک پانی باآسانی گزر سکتا ہے۔ دریائے چناب پر قائم خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر اس وقت سپر فلڈ ہے۔ اس مقام سے 6 لاکھ 20 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ جبکہ خانکی ہیڈ ورکس 11 لاکھ کیسوک پانی ریگیولیٹ کرنے کے صلاحیت رکھتا ہے۔ مرالہ، تریموں اور پنجند پر بھی ہیڈ ورکس موجود ہیں ۔ مرالہ ہیڈ ورکس 11 لاکھ کیسوک پانی کو ریگیولیڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تریموں ہیڈ ورکس کی کپیسٹی 6 لاکھ 45 کیوسک ہے۔ پنج ند ہیڈ ورکس 7 لاکھ کیسوک پانی کو ریگیولیڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ واضح رھے کہ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس موجود ہیں۔ گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس کے مقام سے 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ دریائے ستلج پر بنے سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر اس وقت 1 لاکھ 9 ہزار کیوسک ہے۔ اس ہیڈ ورکس سے 3 لاکھ 25 ہزار کیوسک با آسانی گزر سکتا ہے۔ اسلام ہیڈ ورکس تین لاکھ کیسوک پانی کو ریگیولیڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دریائے راوی پر واقع شاہدرہ اور جسڑ وہ مقام ہے جہاں سے انڈیا سے پانی پاکستان مِں داخل ہوتا ہے۔ جبکہ شاہدرہ لاہور کے نزدیک واقع ہے۔ دریائے راوی پر بلوکی اور سدھنائی کے مقامات پر ہیڈ ورکس موجود ہیں۔ اب تک کی تفصیلات کے مطابق شاہدرہ سے اس وقت 1 لاکھ 88 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ ھیڈ بلوکی کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاو 94 ہزار کیوسک سے زائد ہے۔ جبکہ یہاں سے3 لاکھ 80 ہزار کیوسک پانی باآسانی گزر سکتا ہے۔ 8 اکتوبر 1988 کو آنے والے سپر فلڈ کا پانی لاھور کے راوی پل کے اوپر سے گزر گیا تھا ۔ ھائڈریک اریگیشن انجیرنگ کی ڈرائنگز و ڈیزائن کو مدنظر رکھتے ہوئے دریاؤں پر بنائے گئے بیراج پانی کے بہاؤ کے مطابق ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ ہر بیراج سے پانی گزرنے کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے۔ اگر دریا میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہو اور بیراج کے تمام دروازے کھولنے کے باوجود بھی پانی کا بہاؤ کم نہ ہو رہا ہو، تو پھر بیراج سے نکلنے والی نہروں کی پشتوں پر شگاف ڈالا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ کیوسک پانی کے بہاؤ کی مقدار ناپنے کا پیمانہ ہے۔ اگر دریا کا پانی کی اوسطاً ولاسٹی اور ڈسچارج ایک سیکنڈ میں ایک کیوبک فٹ ھو تو پانی کی وہ مقدار 1 کیوسک کہلائی گئی ۔ یاد رہے کہ ایک معکب فٹ یا ایک کیوبک فٹ میں 28 لیٹر پانی ھوتا ھے۔ 1 لاکھ کیوسک ریلے کا مطلب یہ ہے کہ دریا سے ایک سکینڈ میں 283170 لیٹر پانی گزر رہا ہے ۔ ھماری سول انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اریگیشن انجیرنگ شعبہ کی تھیوری کے مطابق ہر دریا میں سیلاب کا تعین دریا کی گنجائش، اس کی چوڑائی کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ جسکا فورمولا Q- AXV ھے دریائے راوی اور ستلج چھوٹے دریا ہیں۔ عمومًا ان میں پانی کم ہوتا ہے۔ گزشتہ رات دریائے سندھ چشمہ کے ہیڈ ورکس پر 2 لاکھ 84 ہزار کیوسک پانی گزر رہا تھا. اتنے ڈسچارج کے باوجود دریا معمول سے بھی کم سطح پر تھا۔ یاد رہے کہ چشمہ بیراج سے دریائے سندھ کا بڑھاپا شروع ھوجاتا ھے ۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے، این ڈی ایم اے، کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پنجاب کے تین دریاؤں، چناب، راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال بدستور جاری ہے۔
دریائے چناب میں سیلابی ریلے کے باعث ضلع گجرات، ضلع حافظ آباد، ضلع سرگودھا، ضلع چنیوٹ اور ضلع جھنگ کے مزید علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے راوی کے سیلابی ریلے سے شاہدرہ، نارووال، کوٹ منڈو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، ڈھیر اور کوٹ بیگم کے علاقے قدرے متاثر ہوئے ہیں ۔ ضلع شیخوپورہ میں فیض پور کھوہ، دھمیکی، ڈکا، برج اٹاری، کوٹ عبدلمالک، ضلع ننکانہ صاحب کا گنیش پور علاقہ کے ممکنہ طور پر متاثر ہونے کے خطرات موجود ہیں ۔
دریائے ستلج کے موجودہ سیلابی ریلے کے باعث گنڈا سنگھ والا کے نشیبی علاقوں میں بشمول ہیڈ سلمیانکی میں بھی پانی کے بہاؤ میں تیز ی آ چکی ہے۔ جہاں اس وقت تقریباً 1 لاکھ 9 ہزار کیوسک بہاؤ موجود ہے۔ سیلابی صورتحال کے باعث ضلع قصور میں پھول نگر، لمبے جاگیر، کوٹ سردار، اور نوشیرہگائے کے علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
دریائے راوی میں سیلابی صورتحال سے نارووال مکمل ڈوب چکا ہے۔ سیالکوٹ کا بھی بہت بُرا حال ہے۔ ن لیگ کی صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایک بڑے ریسکیو آپریشن کے تحت ستلج، راوی اور چناب کے کناروں پر واقع آبادیوں سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 25 افراد کا انخلا کر کے انھیں محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ 2 لاکھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ دور دراز کے علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے تاحال ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ متاثرہ اضلاع میں انتظامی افسران کے کاموں کے نگرانی 24 گھنٹے مرکزی فلڈ روم میں کی جا رہی ہے۔
پنجاب میں آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث گجرانوالہ ڈویژن کے بیشتر اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔گوجرانوالہ ڈویژن نارروال، سیالکوٹ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات اور منڈی بہاؤ الدین کے اضلاع پر مشتمل ہیں۔ اس ڈویژن کے تین اضلاع سیالکوٹ، نارووال اور حافظ آباد سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان تینوں اضلاع کی درجنوں تحصیلیں اس وقت بھی زیر آب ہیں۔ سیالکوٹ کےحالات بدستور مخدوش ہیں۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ کا رن وے زیر آب ہے۔ جس کے باعث ایئرپورٹ فلائیٹ آپریشن کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ لیکن سیالکوٹ انٹرنیشنل انتظامیہ رن وے سے سیلابی پانی کے بروقت اخراج کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالات کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب اور نالہ پلکھو میں طغیانی کے نتیجے میں لاہور، راولپنڈی ریلوے سیکشن پر ریلوے آپریشنز بھی معطل ہیں۔ لالہ موسی سے مسافر ٹرینوں کو متبادل راستے سے لاہور اور پھر خانیوال، حیدر آباد ،کراچی آمد و رفت کےلیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔جبکہ راولپنڈی سے لاہور اور کراچی جانے والی مسافر ٹرینیں لالہ موسی، ملکوال، سرگودھا، چک جھمرہ، فیصل آباد وے یا چک جھمرہ سے شیخوپورہ اور شاہدرہ سے لاہور پہنچ رہی ہیں۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق لاہور سے راولپنڈی کے لیے یہی روٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔ صوبائی محکمہ آبپاشی پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد بیراج کو محفوظ رکھنے کے لیے گذشتہ روز حفاظتی بند کو توڑا گیا تھا۔ جس کے باعث گوجرانوالہ ڈویژن کے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ۔ ریسکیو پنجاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 51 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ پنجاب بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 669 ریسکیو بوٹ کے ساتھ فلڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے 29 اگست سے دو ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ مون سون کے 9 سپیل کے دوران راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔ ریلیف کمشنر پنجاب نے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ بارشوں کے باعث بڑے شہروں میں ندی نالے بپھر سکتے ہیں۔ محکمہ آبپاشی سندھ کا کہنا ہے کہ تین ستمبر کو گڈو کے مقام پر 6 لاکھ 30 ہزار اور چار ستمبر کو سکھر کے مقام پر 5 لاکھ 60 ہزار کیوسکس پانی کی آمد متوقع ھے۔ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سندھ حکومت نے دریائے سندھ کے ساتھ موجود اضلاع میں ممکنہ خطرات کی نگرانی کے حوالے سے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ نامزد وزرا اپنے اپنے علاقوں میں دریا کے دائیں اور بائیں کنارے کی نگرانی کریں گے۔ نوٹیفکیشن میں نامزد وزرا کو محکمہ آبپاشی سندھ کے ساتھ مل کر سیلاب کے خطرات کا جائزہ لینے ، دریا کے پشتوں کے تحفظ اور نگرانی کے لیے ایم پی ایز کو شامل کرنے کی ھدایات جاری کی گئی ہیں ۔ واضح رہے کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز ہواؤں کے داخل ہونے سے نمی کے ساتھ وسیع بارشوں کا امکان ھے ۔ مون سون ہواؤں کا یہ نظام جمعہ کے روز تک برقرار رہے گا۔ شدید بارشیں متوقع ہیں۔ مون سون ہوأؤں کے اس نظام کے نتیجے میں ہونے والی بارشوں سے اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ موسم بدلنے یا سرحدی حالات خراب و کشیدہ ھونے کی صورت میں پاکستانی احکام کی جانب سے بھارتی آبی جارحیت کے خدشے کا بار بار اظہار کیا جاتا ہے ۔ دریائے راوی ، چناب ، جلہم یا ستلج دریا بھارت کے کسی ایک مقام سے نکل کر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں نہیں آتے۔ بلکہ مختلف قدرتی راستوں سے گزر کر پاکستان تک پہنچتے ھیں ۔ بھارت نے ان تینوں دریاؤں پر ایک ساتھ ڈیمز بھی تعمیر نہیں کرر کھے ھیں ۔ بھارتی آبی جارحیت نے ایک مرتبہ پھر پنجاب کے صوبائی محکمہ آبپاشی کے نظام کا بھرم توڑ دیا ھے ۔ خامیوں و کوتاہیوں کو ننگا کر دیا ۔ اریگیشن سسٹم کا سارا چٹاسٹا کھول دیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ ھمیں بھارتی آبی جارحیت کے خدشات ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آبپاشی نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی بھی سخت ضرورت ہے ۔ یاد رہے کہ سیلابی ریلوں کا سب سے زیادہ فاہدہ صوبائی محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ افسران کو پہنچتا ہے ۔ ہنگامی کاموں پر خرچ کی گئی رقوم کا کوئی حساب کتاب نہیں ھوتا ۔ پیمائشوں اور رقوم کی ادائیگی کی کتاب ایم ۔بی میں تمام تفصیلات بھی باقاعدہ طور طریقے سے درج نہیں کی جاتیں ۔ اسی طرح قدرتی ناگہانی آفات اور سیلابی صورتحال سے بیوروکریسی ، ضلعی انتظامیہ کے بھی خوب وارے نیارے ھو جاتے ھیں ۔ کیونکہ مخصوص ہنگامی فنڈز کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ھوتی ۔ ہنگامی حالات اور سیلابی صورتحال سے بھان متی کا پورا کنبہ مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ قومی خزانہ لوٹنے کا بھی بھرپور موقع ملتا ہے ۔ حسب معمول حسب روایت موجودہ حکومت نے بھی سیلابی صورتحال سے فایدہ اُٹھاتے ہوئے وھی مؤقف اختیار کیا۔ جو ھر برسرِ اقتدار جماعت اور حکومت اختیار کرتی ھے ۔ حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ انڈیا نے پانی کو ہتھیار کی صورت میں ریلے بنا کے چھوڑا۔ اگر سندھ طاس معاہدے کے تحت تعاون کرتے تو اس نقصان میں بہت حد تک کمی ہو سکتی تھی۔ موسم گرما کا جب بھی آغاز ھوتا ھے ھمارے ملک کے ناخدا اور حکمران طبقہ خشک سالی اور قحط کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے ۔ یکم اگست 2010 میں 50 لاکھ ملین ایکڑ فی فٹ سیلابی پانی سمندر میں گر کر جو ضائع ہو گیا ۔ اس قیمتی ضیاع کا جواب اور حساب کون دے گا ۔ 2022 اور 2025 کے سیلاب کی صورت میں جو پانی بغیر کسی استمعال اور مقصد کے ضائع ہو رھا ھے ۔ اس کا جواب کون دے گا ؟ سپر فلڈ ، فلش فلڈ اور سیلابی ریلے روکنے کے لیے ندی نالوں ، دریاؤں کے کنارے عمارات کی تعمیر روکنے ، ناجائز تجاوزات مسمار کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے ھونگے ۔ سخت قوانین و ضوابط تیار کرنے پڑیں گے ۔ خشک سالی ، قحط ، اور بھارتی آبی جارحیت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے دریاؤں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے کے لیے دانشمندانہ، جراتمندانہ اقدام اٹھانے ھونگے ۔ سیلابی پانی ، اربن فلڈنگ کے پانی کے ضیائع کو روکنے کے لیے منصوعی جھیلیں ، اور پانی جمع کرنے کے مناسب و موزوں انتظامات کرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ یاد رہے کہ کالا باغ ڈیم سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ٹیکنکل اور فنی معاملہ ہے ۔

نوٹ: ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں،

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button