کالم

قدر کی پہچان اور صحیح جگہ کا انتخاب

قدر کی پہچان اور صحیح جگہ کا انتخاب

94 نیوز تحریر ندیم راجپوت

زندگی میں انسان کی اصل قدر اس کی ذات سے کم اور اس جگہ سے زیادہ جڑی ہوتی ہے جہاں وہ موجود ہوتا ہے۔ یہ ایک تلخ مگر سچی حقیقت ہے کہ ہر جگہ ہر انسان کی قدر نہیں کی جاتی۔ اگر آپ کو کسی مقام پر بار بار نظر انداز کیا جا رہا ہو، آپ کی بات کی اہمیت نہ ہو اور آپ کی کوششوں کو سراہا نہ جائے تو اس پر ناراض ہونے کے بجائے رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے مسئلہ آپ میں نہیں بلکہ اس جگہ میں ہو جہاں آپ موجود ہیں۔وہ لوگ جو آپ کی قدر جانتے ہیں، وہی دراصل آپ کی اصل قیمت پہچانتے ہیں۔ ہر شخص سونے کی طرح قیمتی ہوتا ہے، مگر سونے کی پہچان بھی صرف جوہری کی دکان پر ہوتی ہے، لوہے کے ڈھیر میں نہیں۔ اسی طرح اگر آپ کو ایسی جگہ رکھا گیا ہے جہاں آپ کی صلاحیت، محنت اور عزت کو اہمیت نہیں دی جاتی تو وہاں ٹھہرے رہنا خود اپنی توہین کے مترادف ہے۔زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم خود کو کسی ایسی جگہ رہنے پر مجبور نہ کریں جہاں ہمارا احترام نہ کیا جاتا ہو۔ عزت مانگنے سے نہیں ملتی، بلکہ وہاں خود بخود ملتی ہے جہاں لوگ آپ کی موجودگی کو نعمت سمجھتے ہیں۔ خاموشی سے خود کو پیچھے کھینچ لینا کمزوری نہیں بلکہ دانائی کی علامت ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ انسان اپنی پہچان خود کرے اور یہ سمجھے کہ کہاں اس کی قدر ہے اور کہاں نہیں۔ جہاں آپ کی بات سنی جائے، آپ کی عزت کی جائے اور آپ کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے، وہی آپ کی اصل جگہ ہے۔ زندگی مختصر ہے، اسے ایسی جگہوں پر ضائع نہ کریں جہاں آپ کو کم تر سمجھا جائے۔ اپنی قدر پہچانیں اور وہیں رہیں جہاں آپ کی قدر ہو۔

نوٹ: یہ تحریر راقم کی اپنی سوچ اور اختراع ہو سکتی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button