Of Faisalabad 100 The maintenance of the parks will now be done by the people themselves, assisted by the PHA department, the commissioner


Faisalabad (94 News City Reporter) شہر کے پارکوں کو حقیقی معنوں میں تفریح گاہ بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔کمشنر فیصل آبادراجہ جہانگیر انور کی زیرصدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پارک اپنائیں پروگرام پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔پہلے مرحلہ میں 100 پبلک پارک آڈاپٹ ہورہے ہیں جن پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔کمشنر نے بتایا کہ ڈویژنل انتظامیہ بھی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی کی معاونت کرے گی۔اجلاس میں شہباز شریف پارک،سوساں روڈ گرین بیلٹ،لینیئرLinearپارک جڑانوالہ روڈ کی تزئین وبحالی کے لئے گرین سگنل دے دیا گیا جس کے تحت پارکوں میں واکنگ ٹریک،ہارٹیکلچرورک،جھولے،فوڈ کورٹ،چاردیواری ودیگر سہولیات دستیاب ہونگی۔کمشنر نے ایک دوسرے اجلاس کی صدارت کی اور کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات پرڈویژنل انتظامیہ اعلی نظم ونسق یقینی بنانے کے لئے سرگرم ہے۔انہوں نے ایڈیشنل کمشنر ریونیو کو سیل قائم کرنے اور محکمہ مال کے زیرالتواء کیسز نمٹانے کا ٹاسک تفویض کیا۔کمشنر نے جشن بہاراں کے انعقاد کے لئے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کو فوکل پرسن مقرر،ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن سے صنعتی یونٹس میں بوائلر اور پریشر ویسلز کی استعداد کار کی چیکنگ مہم پر بریفنگ لی۔علاوہ ازیں پنجاب انفورسمنٹ اینڈریگولیٹری اتھارٹی (Lightweight) اور ستھرا پنجاب کی میٹنگز کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن سے کہا کہ ”Hello Faisalabad”کی لانچنگ کے لئے اقدامات تیز کریں۔انہوں نے ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی کو پارکس مینجمنٹ پلان تیار کرنے اور وومن بازار کے قیام کا ٹاسک تفویض کیا۔ کمشنر نے انڈسٹری ری لوکیشن پر اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ بھی لی۔انہوں نے پارکنگ زونز کی ماسٹر پلاننگ،سرکٹ ہاؤس کی اپ گریڈیشن ودیگر اہداف کی تکمیل کیلئے افسران کو ہدایات جاری کیں۔کمشنر/ایڈمنسٹریٹرمیونسپل کارپوریشن راجہ جہانگیر انور نے کمپاؤنڈنگ کمیٹی برائے میونسپل کارپوریشن کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اجلاس میں کمرشل ورہائشی بلڈنگز بائی لاز کی خلاف ورزیوں کے کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر نے بلڈنگز بائی لاز پر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ شہر کے اندر نقشہ جات کے بغیر کوئی بلڈنگ تعمیر نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قوانین پر عملدرآمد کے لئے جرمانوں کی موجودہ رقوم کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔



