کم عمر بچیوں کی شادی سے جڑے تولیدی صحت کے مسائل اور انکے حل پرورکشاپ کا انعقاد


فیصل آباد (94 نیوز) ادارہ PODAپاکستان ٹیم نے بنیادی مرکز صحت میں کم عمر بچیوں کی شادی سے جڑے تولیدی صحت کے مسائل اور ان کا حل موضوع پر ورکشاپ کا انعقادکیا گزشتہ روز ادارہ پودا پاکستان لاہور ٹیم نے سفارتخانہ برائے ناروے اسلام آباد کے تعاون سے بنیادی مرکز صحت نوابا نوالہ یونین کونسل 258 میں کم عمر بچیوں کی شادی سے جڑے تولیدی صحت کے مسائل اور ان کا حل موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ پودا وویمن لیڈر پامیلا بھٹی نے ورکشاپ کو منعقد کرنے پر کلیدی کردار ادا کیا ورکشاپ میں 23 خواتین نے شرکت کی جن میں لیڈی ہیلتھ ورکرز،لیڈی ہیلتھ وزٹرز،مڈ وائف اور ڈاکٹر شامل ہوئی۔آمنہ بی بی نمائندہ پودا پاکستان نے بچیوں کی تولیدی صحت کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے شرکا سے تفصیلی گفتگو کی۔انہوں نے بتایا کہ مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں میں تولیدی صحت کے مسائل بڑھ جاتے ہے اس حوالے سے عوام میں شعور و آگاہی کے لیے آپ کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ آپ گھر گھر جاتی ہے آپ بچیوں کی تولیدی صحت سے جڑے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں والدین کو اگاہ کر یں تا کہ بچیاں ایسے مسائل سے بچ سکیں۔ لیڈی ڈاکٹر زرینہ خوشی نے بھی شرکا سے گفتگو کی اور کہا ادارہ پودا پاکستان اس حوالے سے بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری شادیوں کی وجہ سے بچیوں میں اینیمیا کی بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے کم عمر بچی صحت مند ماں نہیں بن سکتی ہم اس کووہ خوراک مہیا نہیں کر سکتے جو اس کی ضرورت ہوتی ہے اور بچیوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے ہمیں ہر سطح پر اس کی روک تھام کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے سہیل یوسف پراجیکٹ آفیسر پودا پاکستان نے شرکا سے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2015 کے بارے میں گفتگو کی بتایا کہ ایسے واقعات میں ملوث تمام لوگ سزا کے اہل ہوں گے آپ اپنے ارد گرد نظر رکھیں اور ایسے واقعات کی نشاندہی کریں ان کو بروقت رپورٹ کرے آپ کی ایک کوشش سے بچیاں ان تمام مسائل سے بچ سکیں گی بچیوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔اس اہم ورکشاپ کے انعقاد پر انچارج بنیادی مرکز صحت ڈاکٹر صالحہ اشتیاق نے ادارہ پودا پاکستان ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں بھی ایسے آگاہی پروگرام جاری رکھنے پر اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی



