عہد حاضر کی ملکہ نور جہاں, شہنشاہ جہانگیر کون ؟


آپ تو نزدیک سے نزدیک تر آتے گئے،
پہلے دل پھر دلربا پھر دل کے مہماں ھوگیے!!!
تحریر: طارق محمود جہانگیری کامریڈ ٹاؤن شپ لاھور

یہ وھی مغربی میڈیا اور ذرائع ابلاغ ھے جس نے اپنی نشر واشاعت اور اپنی تشہیری مہم سے بانی پی ٹی آئی امی خان کی عوامی مقبولیت اور شہرت کے لیے تارکین وطن پاکستانیوں اور پاکستانی قوم میں ھمدردیاں پیدا کیں۔ سیاسی ھمدردیاں پیدا کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کی ۔ فرنگی انگریزوں کی تشہیر سے پاکستانی قوم خوب متاثر اور مغروب ھو گئی ۔ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں انکی اھیلہ بشری بی بی اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں پراثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں۔ دی اکانومسٹ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کی بشری بی بی سے تیسری شادی نے ناصرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کئے۔سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم کے بشری بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں۔ جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر روحانی مشاورت کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی۔ بشری بی بی کی اجازت کے بغیر بانی پی ٹی آئی کا طیارہ اڑان نہیں بھر سکتا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حساس ادارے کے کچھ افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات بشری بی بی تک پہنچاتے تھے۔ جنہیں بشری بی بی عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں۔ یہ رپورٹ کسی پاکستانی لفافہ صحافی، کسی میڈیا پرسن نے شائع نہیں کی ۔بلکہ دی اکانومسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین 1843 نے ہوشربا انکشافات کیے کہ بانی پی ٹی آئی نے اقتدار اور طاقت کیلئے اپنی پیرنی بشری بی بی سے شادی کی۔جریدے کے مطابق بشری بی بی نے بانی کو بتایا کہ دونوں کی شادی یکم جنوری کو ھوگی تو وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔ یہ توھم پرستی ضعیف الاعقادی نہیں تو اور پھر کیا ھے ۔ اسی کمزور ایمانی فعل کے بارے میں شاعر اسلام حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ھے کہ "بتوں سے امیدی خدا سے نومیدی یہ کافری نہیں تو اور کیا ھے ۔ خودی کی موت ھو جسمیں وہ سروری کیا ہے ” ۔رپورٹ میں لکھا گیا کہ بانی تحریک انصاف (جو اب ایک دینی جماعت اور ایک روحانی تحریک بن چکی ہے ۔ اس روحانی تحریک کے بانی نے مرشد کامل اور روحانی پیشوا کا درجہ حاصل کرلیا ھے ۔ ایک مقامی معزز عدالت اپنے تحریری فیصلے میں لکھ چکی ہے کہ سپورٹرز ووٹرز خان کو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں) ۔ بانی پی ٹی آئی سیاست کے میدان میں نام بنانا چاہتے تھے۔ وہ سیاسی پارٹیاں جنہوں نے نوے کی دہائی میں بطور کرکٹر ان کی پذیرائی کی۔ بانی نے انہی سیاسی پارٹیوں کو بدعنوان ٹھہرایا۔ دعوی کیا کہ اقتدار ملنے کے بعد وہ ملک میں سیاست کو بدعنوانی سے پاک کر دیں گے۔میگزین کے مطابق بشری بی بی کے ملازمین نے انکشاف کیا کہ بشری بی بی گوشت، کالے جانور کے سر اور کلیجی منگواتی تھیں۔ میرٹ کے محض نعرے تھے۔ ریاستی امور میں بشری بی بی حرف آخر تھیں۔ بشری بی بی نے تقرریوں، فیصلوں، سفر کے اوقات پر بھی عملیات کارنگ چڑھایا۔بشری بی بی کے حکم پر دیرینہ اور وفادار ساتھیوں کو فارغ کیا گیا۔ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ون آن ون ملاقات میں بھی بشری بی بی موجود ہوتی تھیں۔ ملاقات کے دوران بشری بی بی ہی زیادہ بات چیت کرتی تھیں۔میگزین نے انکشاف کیا کہ بشری بی بی کی کرپشن سامنے لانے پر بانی پی ٹی آئی نے ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا ۔پھر مرشد اھلیہ اور روحانی دیوتا کو ریاستی تحائف اور ایک اسلامی یونیورسٹی کے منصوبے میں شامل بدعنوانی کے متعدد مقدمات میں جیل بھیج دیا گیا۔یہ سو فیصد درست رائے ھے کہ سابق خاتون اول سے متعلق معلومات پاکستان کے عوام اور میڈیا کیلئے کوئی نئی نہیں ہیں۔ پاکستانی میڈیا پر جو رپورٹ ہو رہا تھا اس سے زیادہ تفصیل دی گئی ہے۔ فحش گفتگو پر مبنی کئی آیڈیوز لیکس ھوئیں۔ مالی اور اخلاقی بدعنوانیوں کے کئی شرمناک اسیکنڈل منظر عام پر آئے ۔ سیکس اسکینڈل پر کتابیں لکھی گئیں۔ لیکن پاکستانی معاشرے پر اس کے کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ۔ روحانی پیشوا کی عوامی مقبولیت میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ ان تمام اسکینڈلز کا مخالف جماعتوں کو کوئی سیاسی فایدہ بھی حاصل نہیں ھوا ۔ خصوصی رپورٹ کی مصنفہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم خصوصی رپورٹ کا صرف 10 فیصد ہی شائع کر سکے ہیں۔ جبکہ جو پرنٹ نہیں کر پائے وہ بتا نہیں سکتے ہیں۔ برطانوی جریدے کی رپورٹ میں سابق انٹیلی جنس سربراہ فیض حمید پر بشریٰ بی بی کو استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی عمران خان کو فوج کے ساتھ مصالحت پر آمادہ کر سکتا ہے ۔تو وہ بشریٰ بی بی ہی ہیں جو فوج سے مصالحت کی جانب جھکاؤ رکھتی ہیں۔ لیکن عمران خان کے قریبی حلقوں کے مطابق ان کی بہن علیمہ خان سمیت پارٹی کے سخت گیر عناصر مصالحت کے خلاف ہیں۔ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کا یہ آرٹیکل اگر جھوٹ، شر انگیزی اور کردار کشی کے مترادف ہے ۔ تو پھر تحریک انصاف کے وکلاء کو قانونی چارہ جوئی کے لیے برطانیہ کی عدالتوں اور وھاں کے منصفانہ عدالتی نظام سے فوری طور پر رجوع کرنا چاہیے۔ خدا کرے کہ یہ اطلاعات درست ثابت ھوں اطلاع ھے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے برطانوی جریدہ دی اکانومسٹ کے خلاف عالمی فورم پر جانے کا اعلان کردیا ھے۔خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ کہانیوں ،گھریلو عملے کی افواہوں اور سیاسی مخالفین کے بیانات کو حقیقت بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جو صحافتی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ اس نوعیت کی داستانیں تراشنا غیرسنجیدہ صحافت ہے۔ بشری بی بی کی حکومتی معاملات میں مداخلت کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ مسلم لیگ (ن) والے خان سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ روز روز کوئی نہ کوئی ڈراما رچاتے ہیں۔ چوروں کا ٹولہ اب صحافت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ اوچھے ہتھکنڈوں سے کردار کشی کر رہے ہیں۔ فرض کیجئے کہ یہ رپورٹ جھوٹ پر مبنی ہے ۔ بشری بی بی اور خان کی شادی جن حالات میں طے پائی ۔ کیا وہ تمام واقعات بھی جھوٹے ہیں ۔ شادی سے جوڑی ھوئی تمام قصے کہانیاں بھی کیا جھوٹی اور من گھڑت ھیں۔ سوال یہ ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا ایک تعلیم یافتہ , ایک آزاد خیال لبرل ، ایک پلے بوائے جس کے عہد شباب کے دن رات مغربی ماحول کی رنگینیوں میں گزرے ھوں۔ جو دنیا کا ایک نامور اسٹائلش کرکٹر ھو وہ ایک معمولی سی پڑھی لکھی دیہاتی عورت سے شادی کیسے کرسکتا ہے ۔ایک 70 سالہ شادی شدہ شخص ایک شادی شدہ عورت ،پانچ جوان بچوں کی ماں کے عشق ممنوع میں گرفتار کیسے ھوسکتا ھے ۔ روحانیت کے چنگل میں کیسے پھنس گیا ۔ قرآنی دین اسلام و شریعت میں پیری مریدی کا ذکر تو بہت دور کی بات ہے ۔ اسکا تصور تک موجود نہیں ھے۔ قرآن مجید میں تعویذ گنڈے والی عورتوں سے سخت نفرت کا اظہار کیا گیا ہے ۔ جادو ٹونے کرنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ خلفائے کے تمام ادوار میں جادو ٹونہ اور علمیات کرنے والے جادوگروں اور عاملوں کا سرتن سے جدا کیا جاتا رہا۔

تاریخ اسلام یا مسلمانوں کی تاریخ میں کیا کوئی ایک بھی ایسی مثال موجود ہے جسمیں کسی خلیفہ یا کسی مسلمان حکمران نے کسی عورت کی روحانی طاقت یا اس کے وظائف و عملیات سے متاثر ہو کر اس کی بیعت کی ھو ۔ اس سے شادی کر لی ھو۔ کیا یہ کھلی حقیقت بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ روحانی تحریک کے روحانی پیشوا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو نانی کے طعنے دیتے چلے آرھے ھیں ۔ کیا پیرنی بشری بی بی نانی نہیں ھے ۔ کیا اس کے پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں نہیں ھیں ۔ روحانی تحریک کے مریدین و معتقدین اور یوٹیوب کے مداری بابو صابو ویلاگرز مریم نواز شریف کو سب کی ماں کہہ کر تمسخر اڑاتے رھتے ھیں ۔ کیا مرشد کامل نے روحانی تحریک کے مریدین کو پیرنی اھلیہ کو اپنی ماں کہنے کی ہدایت و تلقین نہیں کی ۔ کیا یہ سب باتیں بھی جھوٹی ھیں ۔ ھمارے دوھرے معیار کے معاشرے پر بھی یہاں ایک سوال اٹھتا ہے ۔ وہ یہ کہ اگر ایک شادی شدہ عورت اپنے بال بچوں کو چھوڑ کر، اپنے سابق شوہر سے طلاق لے کر کسی اجنبی سے ایک دو ملاقاتوں کے بعد عجلت میں شادی کر لے تو یہ اندھا سماج کیا ایسی عورت اور ایسے بوڑھے مرد کو برا نہیں سمجھے گا ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جلسے میں تقریر کے دوران صرف اتنا کہہ دیا تھا کہ ھاں میں کبھی کبھی تھوری پی لیتا ہوں ۔ اتنی سی بات پر اسلام کے ٹھیکیداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔ کفر کے فتوے لگا دئیے تھے ۔ اسلام میں عورت کی حکمرانی کو ناجائز قرار دے کر بےنظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے کی راہ میں طرح طرح کی روکاوٹیں کھڑی کی گئیں تھیں۔ ایک پیرنی کے ساتھ عشقِ ممنوع اور ریاست مدینہ کے دعویدار امیر المومنین کے دیگر جنسی تعلقات و واقعات پر شریعت فروش ، فتوے فروش آج خاموش کیوں ہیں ۔ پاکپتن کی پیرنی اور روحانی تحریک کے روحانی پیشوا کی پریم کہانی ، عشقِ جنوں دیکھ کر ھندوستان کی ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کی محبت کہانی یاد آنے لگتی ہے۔ ان دونوں کیظ پریم کہانی ، عشق جنوں ، اندھا اعتقاد و یقین اور حالات و واقعات میں بڑی مماثلت پائی جاتی ھے ۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر نے دوسرا جنم لے لیا ھے ۔ بشریٰ بی بی کو آج کی ملکہ نور جہاں اور روحانی پیشوا عمران خان کو دور حاضر کا شہنشاہ جہانگیر کہا جائے تو باکل غلط نہیں ہوگا ۔ نور جہاں پریم کہانی میں سابقہ شوھر کا کردار شیر افگن نے ادا کیا تھا۔ جبکہ پیرنی کی اس پریم کہانی میں وہ کردار خاور نامی شخص نے ادا کیا ہے ۔ مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے ہاں 27 سال کی عمر تک ان کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے ہاں دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے لیکن وہ صرف ایک ماہ ہی زندہ رہ سکے۔اکبر نے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر منت مانی کہ اگر ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ آگرہ سے اجمیر تک پیدل چل کر ان کی درگاہ پر حاضری دینے پہنچیں گے۔ درباری مورخین کے فسانہ عجائب کے افسانوں کے مطابق بالآخر خدا نے ان کی بات سن لی۔ مغل اعظم شہنشاہِ اکبر کے بیٹے جہانگیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتے تھے ۔ ان کی توجہ فوجی مہمات کی بجائے فنون لطیفہ اور زندگی کی لذتوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہونے پر زیادہ تھی۔جہانگیر ہمیشہ اپنی عقل اور دلائل کی بنیاد پر اپنے آس پاس کی دنیا کو جانچتے تھے۔ جہانگیر کے بارے میں مشہور تھا کہ انھیں عورتوں اور شراب کا شوق تھا۔ ان کی اپنی سوانح عمری ‘تزک جہانگیری” میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے ۔ شہنشاہ اکبر اور شہزادہ جہانگیر کے درمیان تعلقات کبھی ہموار نہیں رہے۔ ابوالفضل جہانگیر کو بادشاہ بنانے کے حق میں نہیں تھا۔ ابوالفضل کی نظر میں جہانگیر کی زیادہ وقعت نہیں تھی۔ شہنشاہ اکبر کی وفات کے بعد 17 اکتوبر 1605 کو جہانگیر مغل تخت پر جلوہ افروز ہوا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت گھمنڈی, ضدی، متکبر اور انا پرست مزاج کا بادشاہ تھا۔ کبھی بہت مہربان اور کبھی بہت ظالم بن جاتا تھا ۔ تاریخ کے اوراق سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ جہانگیر حسن پرست ھونے کے ساتھ ساتھ ایک وھمی توھم پرست ، اور ضیف الاعقاد شخص بھی تھا ۔ جہانگیر نے تخت سنبھالنے کے 6 سال بعد 42 سال کی عمر میں نور جہاں سے شادی کی۔ اس وقت نور جہاں کا پہلا شوہر شیر افگن مر چکا تھا۔ اور اس کی عمر 34 سال تھی۔ جب کہ حقیقت تو ھے کہ عشقِ نور جہاں میں اس کے سابقہ شوہر نامدار کو قتل کروا دیا گیا تھا۔جہانگیر کو ایک دن ان کے ایک جرنیل مہابت خان نے اغوا کر لیا۔ ملکہ نور جہاں بچانے آئی تو مہابت خان فرار ہوگیا۔ نورجہاں کی مدد سے جہانگیر ایک مرتبہ قید سے نکل آئے تھے۔ 28 اکتوبر 1627 کو راجوری اور بھمبر کے درمیان 58 سال کی عمر میں جہانگیر نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔جب نورجہاں اس دن انھیں جگانے کے لیے گئیں تو جہانگیر نے آنکھ نہیں کھولی۔ نور جہاں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جہانگیر کی لاش کو بیٹھی ہوئی شکل میں پالکی پر بٹھا کر لاہور لایا گیا تھا۔ شاہی اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی گئی۔ شاہدرہ لاہور میں ایک وسیع و عریض رقبے پر شہزادہ جہانگیر کا خوبصورت دلکش مقبرہ ہے ۔ سنا ہے کہ اس مقبرے میں جہانگیر کی قبر کے قریب سیفد لباس میں ملبوس ایک خوبصورت لڑکی اکثر شام کے وقت دیکھائی دیتی ہے۔جشن نو روز کے دوران مینابازار کی سیر کرتے ہوئے جہانگیر نے اچانک مہرالنساء کو دیکھا تھا۔ اس کی خوبصورتی رعنائی اور حاضر جوابی سے اتنا متاثر ہوا کہ مئی 1611میں اس سے شادی کر لی۔ نور محل کا خطاب ملا لیکن بعد میں نورجہاں کے تاریخی لقب سے مشہور ہوئی۔ مینا بازار میں شہزادہ سلیم اور مہرالنا کی پہلی ملاقات ھوئی تھی۔ مہرالنساء کے دلفریب انداز کو شہزادہ سلیم آخری دم تک نہ بھول سکا۔اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر نے جب تاج و تخت سنبھالا تو وہ لاہور ہی میں دریائے راوی کے کنارے اپنے تعمیر کردہ ایک محل میں موسم سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس نے ایک پردہ دار کشتی میں ایک انتہائی خوبصورت خاتون کو بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ جہانگیر دل پھینک عاشق مزاج تھا۔ جب اس خاتون کے بارے میں تفصیل جانیں تو معلوم ہوا کہ وہ خاتون اس کے بچپن کی پسند مہرالنساء تھی۔ جوکہ اس وقت شیرافگن کی زوجہ تھی ۔جہانگیر نے شیر افگن کو پیغام بھجوایا کہ وہ مہرالنساء کو طلاق دے ۔ شیرافگن نے نہ صرف انکار کردیا بلکہ قطب الدین کو قتل بھی کردیا۔ جہانگیر نے بعدازاں شیرافگن کو ایک سازش کے ذریعے پٹنہ میں قتل کرادیا۔ اور مہرالنساء کو گرفتار کرکے آگرہ بھجوا دیا گیا۔ مہر النساء سے شادی کے کچھ عرصہ بعد مہرالنساء کو نور محل کا خطاب عطا کیا گیا۔ بعد میں نور محل کو نور جہاں کا خطاب دیا گیا۔ اس کے نام کا سکہ بھی جاری کیا گیا۔ نور جہاں درباری اور محلاتی امور پر بھر پور دسترس رکھتی تھی۔ شہنشاہ جہانگیر کی زندگی کا مرکز محض نور جہاں تھی۔ عنان حکومت نور جہاں کے حوالے تھے ۔ شہزادہ جہانگیر نے سلطنت نور جہاں کو سونپ دی۔ نور جہاں جہانگیر کے دل ودماغ اور اس کے اعصاب پر پوری طرح سے چھا گئی تھی ۔وہ اپنی منصبی ،اپنی شان و شوکت ، اہنی ھر کامیابی اور ھر کارنامہ کا کریڈٹ اپنی اھیلہ نور جہاں کو دیتا تھا ۔ اپنی مقبولیت و شہرت کو ملکہ نور جہاں کے وظائف و عملیات کا نتیجہ سمجھتا تھا ۔جہانگیر کا خود کہنا تھا کہ مجھے صرف ایک سیر شراب، آدھ سیر گوشت کے سوا کوئی چیز درکار نہیں۔ ملکہ نور جہاں کا فخریہ انداز میں کہنا تھا کہ میں نے سارا لاہور خرید لیا ہے” ۔ ملکہ نورجہاں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کی خواتین میں ایک الگ حیثیت سے جانی جاتی ھے۔ شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں ان کے نام کا سکہ بھی جاری کیا گیا۔ اس سکے کی قیمت بادشاہ کے اپنے سکے سے بھی زائد تھی۔ عہد جہانگیری میں بادشاہ کے ہر اہم فیصلے کے پیچھے نور جہاں ہی کا ہاتھ ہوتا تھا۔ دربار کی سیاست میں نور جہاں کے اثرو رسوخ کے باعث ملکہ کے قریبی رشتے دار انتہائی اہم عہدوں پر فائز تھے۔ اور اہل ایران کا مغلیہ دربار میں بہت زیادہ عمل دخل جاری رہا۔ وزارت عظمیٰ، سپہ سالاری اور بنگال کی گورنری تک نور جہاں کے قریبی رشتے داروں کے قبضے میں تھی۔ یہاں تک کہ ملکہ کی دائی کو صدر النساء کا خطاب عطا کیا گیا ۔ نور جہاں اپنی خوبصورتی میں بھی بے مثال تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں بے پناہ عقلی اوصاف بھی موجود تھے۔ اپنی مادری زبان فارسی کے ساتھ ساتھ ترکی زبان کی بھی ماہر تھی ۔ فارسی میں شعر کہتی تھی ۔ فارسی کی کئی نظموں کی موسیقی خود ترتیب دی ۔ ملکہ نور جہاں کی شخصیت میں رومان کے ساتھ ساتھ شعر و ادب بھی ایک اہم موضوع سخن کے طور پر زندہ ہے۔ وہ خود بھی سخن فہم، معاملہ فہم، امور مملکت سے با خبر شاعرہ تھی۔ وہ مرزا غیاث الدین بیگ کی بیٹی تھی. جو صفوی عہد میں ایران سے ہندوستان تک کے سفر کے دوران قندھار کے مقام پر پیدا ہوئی۔ پیدائشی حقیقی نام مہرالنسا تھا۔ مرزا غیاث کی اکبر بادشاہ کے دربار تک رسائی ہوئی۔ وہیں مہرالنسا کی شہزادہ جہانگیر المعروف سلیم کے دل تک رسائی ہوئی۔ شہنشاہ اکبر کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اکبر نے اپنے ایک اہل کار علی قلی خان جس کو شیر افگن کا خطاب ملا تھا ۔ اس کے ساتھ مہر النساء کی شادی کر دی۔ شیر افگن بنگال میں ایک معرکے کے دوران مارا گیا۔ بعض مورخ اس کے قتل کا الزام جہانگیر کو دیتے ہیں۔ جہانگیر کے عہد میں مہر النسا کو واپس بلا لیا گیا۔ جہانگیر نے اس سے شادی کر لی۔ وہ مہر النسا سے نور جہاں بیگم ہو گئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ کس طرح امور مملکت میں شامل اور دخل ہوئی۔ بلکہ کہا جاتا ہے جہانگیر کے پردے میں اصل حکمران وہی تھی۔ خواتین کے ملبوسات اور زیورات کی تیاری میں نت نئے تجربات بھی کرتی تھی ۔ نور جہاں کو عطر گلاب کا موجد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ ملکہ نور جہاں شہزادہ جہانگیر کے ساتھ اکثر دلکشا باغ کے حوض میں عرق گلاب ڈلوا کر غسل کیا کرتی تھی ۔ نورجہاں ایک دلیر خاتون بھی تھیں ۔ کئی مہمات اور شکار پر وہ جہانگیر کے ہمراہ ہوتی تھیں ۔ اپنے شوہر جہانگیر اور داماد کی موت کے بعد نور جہاں نے امور مملکت سے مکمل طور پر کنارہ کشی کر لی۔ نور جہاں نے غریب اور یتیم لڑکیوں کی بہبود کے لیے بہت کام کیا اور سینکڑوں لڑکیاں اپنے ہاتھ سے بیاہیں۔ 1627 میں جہانگیر کی وفات کے ساتھ ہی ملکہ کے اقتدار کا ستارہ بھی زوال پذیر ہو گیا۔جہانگیر کی وفات کے بعد اٹھارہ سال تک شاہی قلعہ لاہور میں مقیم رہی۔ 1645 میں وفات پائی۔ عملی سیاست سے دستبرداری کے بعد یتیم لڑکیوں کی تعلیم اور شادی کا اہتمام کرنا اور ہر روز اپنے شوہر کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے جانا اس کا معمول تھا۔ جہانگیر کا مقبرہ ملکہ نور جہاں کی نگرانی میں تعمیر ھوا۔ 1645 میں ملکہ نور جہاں کی وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اسے لاہور میں دفن کیا گیا۔ راوی کنارے اس کا مزار اب بھی موجود ہے۔ اس کے قریب ہی جہانگیر کا مقبرہ ہے۔ ملکہ کو لاہور بہت پسند تھا۔ ملکہ نور جہاں کو کئی شعرا نے بھی موضوع سخن بنایا۔ شبلی نعمانی کی طویل نظم ”عدل جہانگیری“ دراصل نور جہاں ہی کی کہانی ہے۔ معروف شاعر ساحر لدھیانوی نے اپنی نظم ”نورجہاں کے مزار پر” میں نور جہاں کو دختر جمہور قرار دیا ہے ۔ کیونکہ اس کا تعلق کسی شاہی خانوادے سے نیں تھا۔ دختر جمہور کی قبر کا کتبہ گم گشتہ زمانوں کا پتہ دیتا ہے۔ ملکہ نورجہاں کا مزار نورجہاں کے ماضی کی عظمت و شوکت اور مرنے کے بعد کی کسمپرسی کی زندگی کی عکاسی پیش کرتی ہے۔ 1950 کی یا 1960 کی دہائی میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی لاہور آمد پر اس عمارت کی کچھ مرمت اور آرائش و زیبائش کی گئی ۔تلوک چند محروم نظم اور غزل دونوں کے شاعر تھے۔ وہ 1887 میں تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ملک کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے۔ ان کے صاحب زادے جگن ناتھ آزاد بھی معروف شاعر تھے۔ تلوک محروم کی نظم کا ایک بہت ھی خوبصورت شعر ھے۔ "دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے, کہتے ہیں یہ آرام گہ نور جہاں ہے،مدت ہوئی وہ شمع تہ خاک نہاں ہے،اٹھتا مگر اب تک سر مرقد سے دھواں ہے۔” نظم کا آخری بند اس داستان کا خلاصہ ہے۔ تلوک چند محروم کی یہ نظم 1940 سے 1960 تک پنجاب یونیورسٹی کے میٹرک کے اردو نصاب میں شامل رہی۔ شاہدرہ میں نورجہاں کے مقبرے میں ایک عجیب سی خاموشی ،اداسی اور عبرت کا احساس ہوتا ھے ۔ سنسان نخلستان میں اک اجڑی عمارت ہے۔ مغل تاریخ میں ملکہ نورجہاں کا کردار بہت پرُاثر ہے۔ وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دمکتی نظر آتی تھیں۔ ان میں سیاسی فراست، بلند حوصلگی کی خوبی بھی پائی جاتی تھی۔ وہ ایک دلفریف خاتون تھیں ۔جنھوں نے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ایک وسیع سلطنت پر حکومت کی۔ حقوق نسواں کی علمبردار کہلائيں۔ ملکہ نور جہاں کو شجر کاری ،درخت لگانے، مسافروں کے لئے سرائے تعمیر کرنے ، پناہ گاھیں ، لنگر خانے بنوائے اور دسترخوان قائم کرنے کا بہت شوق و اشتیاق تھا ۔ ملکہ نور جہاں وظائف و عملیات ،علم سحر سے بھی خوب واقف تھیں ۔ علم نجوم ،فال نامے نکالنے ، زائچہ بنانے اور تعویذ گنڈے کے فن سے بھی خوب آشنا تھیں۔ محبت و الفت ، دونوں کی پریم کہانی، یقین و اعتقاد کے اعتبار سے روحانی تحریک کی حقیقی بانی مرشد پیرنی بشری بی بی اور روحانی پیشوا عمران خان کو عہد حاضر کا شہزادہ جہانگیر اور پیرنی کو بلا کسی شک و شبہ ملکہ نور جہاں کہا جاسکتا ھے ۔ ھماری پاک فلمی صنعت میں ایک نامور گیت نگار تسلیم فاضلی گزرے ہیں ۔ ان کی ایک عمدہ خوبصورت ترین غزل بہت ھی مقبول ھوئی ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تسلیم فاضلی نے اپنی یہ غزل آج سے 50 سال پہلے 1975 میں خاتون اول پیرنی بشری بی بی اور روحانی تحریک کے روحانی پیشوا عمران خان کے رومان اور عشق جنوں کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھی تھی ۔ اس غزل کے سبھی اشعار بشری بی بی اور عمران خان کی پریم کہانی کی بھرپور ترجمانی اور عکاسی کرتے ہیں ۔
مہدی حسن کی گائی ہوئی شاعر تسلیم فاضلی کی یہ مشہور زمانہ غزل کے اشعار کچھ یوں ہیں ۔
"رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے
پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں ہو گئے۔
دن بدن بڑھتی گئیں اس حسن کی رعنائیاں
پہلے گل پھر گلبدن پھر گل بداماں ہو گئے
آپ تو نزدیک سے نزدیک تر آتے گئے
پہلے دل پھر دلربا پھر دل کے مہماں ہو گئے
پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے
آپ سے پھر تم ہوئے پھر تو کا عنواں ہو گئے۔”
نوٹ: ادارہ کا کام نگار کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ کالم نگار کی اپنی تحریر ہے جسکو ویسے ہی شائع کردیا گیا ہے۔




