طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سُنتا ہے،ھنگامہ ھے کیوں برپا؟


کالم نگار ، طارق محمود جہانگیری کامریڈ
94 نیوز۔ طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے ، اردؤ زبان کی یہ ایک بہت ھی مشہور کہاوت ہے ۔ اس ضرب المشل کو محاورے کے طور پر بھی بولا جاتا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طوطی کو نقار خانے میں بولنے کی ضرورت کیا ہے۔ نیوز چینل کے بہت سے ٹاک شوز میں عجیب و غریب تجزیے دیکھنے ، سننے ، قومی اخبارات میں کچھ قصہ خوانی طرز کے، کچھ فکر انگیز کالمز بھی پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ لیکن سنجیدہ فکری کالم نگاروں کو سمجھانے کی یہ جسارت کون کرے کہ جناب عالی اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ سچ پوچھئے تو اس وقت نقار خانے میں اتنا شور وغل ھے کہ نقارہ بجانے والا خود اپنی آواز نہیں سن رہا ہے ۔ برصغیر کے خوشامدی درباری قصہ گو فسانہ نگار مورخین کا اب دور نہیں رھا ۔ کہ جنہوں نے اپنی فسانہ عجائب تواریخ میں سلاطین ھند کے فرضی کرداروں ، جھوٹے حالات واقعات ، من گھڑت کہانیاں بیان کرکے یہاں کےخوابیدہ قارئین کو ایک دراز عرصہ تک اپنے سحر انگیز تحریروں میں گرفتار کئے رکھا ۔ سائنسی علوم سے آشنا مغربی مورخین جب برصغیر میں ابر رحمت بن کر آئے تو ھندوستان کے بازاری مورخین جن کی توطا کہانی تواریخ جسمیں ایک حقیقت ھزراوں فسانے ھوتے تھے ۔ ان قصہ گو مورخین کو اپنی دانشمندی کی دوکانداری کے لیے ویرانوں میں بھی جائے پناہ نہ ملی ۔ ھمارے پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی واحد ایسے قلمکار اور تجزیہ نگار باقی رہ گئے ہیں۔ جنکو مؤرخین کی تراشی گئی بھوت پریت کہانیاں سنانے میں ھی اپنی دانشمندی نظر آتی ہے ۔ پرستان کی دیو مالائی داستانوں کے شوقین انکی قصہ کہانیاں بڑے مزے سے پڑھتے اور سنتے ہیں ۔ پچھلی کئی دہائیوں سے صحافت نے مستند تاریخ کی حیثیت حاصل کرلی ھے ۔ ایک پیشہ ور ذمے دار صحافی نے مؤرخ کا درجہ لے لیا ھے ۔ سہیل وڑائچ ھمارے ملک کے ایک تجربہ کار تجزیہ نگار، صحافی اور معروف کالم نگار بھی ہیں ۔ اپنے سنسنی خیز کالمز کی بدولت کئی مرتبہ تہلکہ خیزی مچا چکے ہیں ۔ گزشتہ روز ایک مقامی روزنامہ میں شائع ہونے والے ایک کالم نے نقار خانے میں تہلکہ مچا دیا۔ ان کے متنازعہ کالم کی وجہ زاسکے بھونچال آگیا ۔ زور دار جھٹکوں سے بڑے بڑے ایوانوں اور مظبوط قلعوں کی اونچی اونچی دیواریں بھی لزرا اٹھی ھیں ۔ سہیل وڑائچ سے ذاتی رنجش اور پیشہ ورانہ صحافتی عناد رکھنے والے بعض اخبار نویس نے انکو درباری مؤرخ بھی قرار دے دیا ۔ لیکن مختلف مکاتب فکر کے اھل علم اور عام قارئین کی رائے نقادی حضرات سے بالکل مختلف اور الگ تھلگ ھے۔ یہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ عام پاکستانی شہری بھی سہیل وڑائچ کو زیادہ قابل اعتبار قرار دے رھے ہیں۔ یہ رائے عامہ نقار خانے میں نقارہ پیٹنے والوں کے لیے ایک دعوت لحمہ فکریہ بھی ہے ۔ بزرگ سیانے لوگ خلق خدا کی آواز کو نقارہ سمجھتے ہیں ۔ ان دنوں صحافی سہیل وڑائچ کا ایک کالم معافی و تلافی ، پاکستان آرمی چیف سے برسلز میں ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کی خبر ملک بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ جمرات کی شب ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے ۔ اب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آیا ھوا ھے ۔ ھمارے بہت سے کہنہ مشق صحافی حضرات کو بھی فیلڈ مارشل سے ملاقات پر شائع کردہ کالم کے مندرجات، بیان کئے گئے سوالات کی صحت پر بڑی تشویش اور اس بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ 11 اگست کی رات افواج پاکستان کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ٹی وی چینلز پر آکر پوری دنیا کے سامنے کھل کر واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے برسلز میں کسی سیاسی موضوع پر گفتگو نہیں کی اور نہ ہی کسی معافی کا ذکر کیا۔ ترجمان پاک فوج کا برملا طور پر کہنا تھا کہا کہ پاکستان فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تحریک انصاف اور نہ ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق کوئی بات کی۔ اس سلسلے میں آرمی چیف نے کسی صحافی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحآفی سہیل وڑائچ کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک من گھڑت کہانی ہے۔ جو ذاتی تشہیر اور مفاد کے لیے گھڑی گئی۔ جبکہ ایک نامور تجزیہ نگار نے ایک نجی نیوز چینل پر یہ انکشاف کیا کہ برسلز میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے خطاب کے وقت میں بھی وہاں موجود تھا۔ جس طرح سہیل وڑائچ کی تصویر سامنے آئی ہے۔ اسی طرح وہاں موجود سینکڑوں لوگوں نے تصویریں بنوائیں۔ برسلز کے خطاب کو ہی انٹرویو کی شکل دے دی گئی۔ اس کالم کے بہت سے معنی اخذ کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت جاری کی ہے۔ سوشل میڈیا جو مصنوعی مسٹر افلاطون اور یوٹیوب ویلاگرز جن کو ڈھونگی ، نوسر باز کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ڈیجٹل بھانڈ یا مسخرے محض چند ڈالرز کے عوض تحریک انصاف کے ووٹرز کو چونا لگا کرخوب بےوقوف اور الو بنا رہے ہیں ۔ دوسرے طرف یہ مداری ویلاگرز ، براڈکاسٹرز بانی جماعت عمران خان کے لیے بھی کئی مشکلات پیدا کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران جو سیاسی تناو پیدا ہوا ھے۔ بےچینی ، سیاسی افراتفری کا جو عالم اور بےیقنی کی جو فضا پائی جارھی ھے ۔ اس میں ڈجیٹل بازی گری مداریوں کا بڑا عمل دخل ہے ۔ جمرات کی رات ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ افواجِ پاکستان کا 9 مئی کے حوالے سے موقف اب بھی وہی ہے۔ جو یوم سیاہ باب کے موقع پر تھاکہ کسی کو کوئی معافی نہیں دی جائے گی۔ 9 مئی میں ملوث تمام افراد کو ہر صورت سزاؤں کا سامنا کرنا ہوگا۔ لیکن یہاں پر ایک اور بھی تلخ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نو مئی کو جو افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ یہ افسوسناک سانحہ کیونکر پیش آیا ؟ پرتشدد کارروائیوں ، جلاؤ گھیراؤ ٹکراؤ کے پیچھے کونسے ظاھری نفیس مزاج معصوم کی سوچ کار فرما تھی؟ یہ انارکی پھیلانے کا ماسٹر مائنڈ کون ھے؟ اس سوال کے بارے میں اب بھی کچھ تحفظات پائے جاتے ہیں۔ تشفی ، اور تشنگی پائی جاتی ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ 9 مئی کو ریاست اور ریاستی اداروں پر حملہ کیا گیا ۔ اس اعتبار سے اس عظیم سانحہ کو ریاست پاکستان کا مقدمہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ پاک فوج کا مقدمہ نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا مقدمہ ہے۔ جبکہ اندھی تقلید ، سیاسی دیوانگی اور عشقِ جنون مرض میں مبتلا بہت سے پاکستانی مریضوں کی رائے بالکل جدا گانہ ھے ۔ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے بہت سے شہریوں کا جھکاؤ ریاست مخالف بیانیہ کے طرف ھے ۔ پاکستان کے حساس ذی شعور شہریوں کے لیے نقار خانے کی موجودہ صورت حال بہت ھی پریشان کن ھے۔ یہ طبقہ اس وقت سخت اعصابی کشمکش میں مبتلا ھے کہ طوطی کی آواز یا پھر نقارہ خانے کی بات پر یقین کریں۔ یاد رہے کہ کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برسلز میں ہونے والی اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کیا۔ اس پر نا صرف تحریک انصاف کی جانب سے سخت ردعمل آیا بلکہ پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی خوب واویلا مچایا جارہا ہے ۔ اس وقت "ھنگامہ ھے کیوں برپا ، چوری تو نہیں کی ڈاکہ تو نہیں ڈالا” مصرعہ جیسی کیفیت طاری ہے۔ 16 اگست 2025 کو مقامی روزنامہ میں سہیل وڑائچ کا ایک کالم شائع ھوا جس کا عنوان فیلڈ مارشل سے ملاقات تھا۔ کالم نگار نے اس میں لکھا کہ انھوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ایک سوال کیا کہ کیا سیاسی مصالحت کے تحت سچے دل کے ساتھ معافی مانگنا ممکن ہے۔ جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سہیل وڑائچ کے ساتھ آرمی چیف کی کوئی خفیہ ملاقات نہیں ہوئی۔ سہیل وڑائچ کے کالم میں جس مصالحت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ سب من گھڑت ہے۔ اور ایسی کوئی مصالحت نہیں ہونے جا رہی۔ برسلز میں آرمی چیف نے نہ عمران خان کا نام لیا، نہ پی ٹی آئی کا، نہ ہی کسی معافی کا ذکر کیا۔ اور نہ ہی کسی انٹرویو میں حصہ لیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کا 9 مئی کے حوالے سے موقف پہلے دن سے واضح ہے کہ جو کوئی بھی اس میں ملوث ہے۔ اسے قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کار کسی صورت نہیں بچ سکیں گے۔ معافی مانگنے سے قانونی عمل نہیں رکے گا۔ سہولت کاروں اور ذمہ داروں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ فوج کا نہیں، قوم کا مسئلہ ہے۔ یاد رہے کہ اسی ماہ اگست کے تیسرے عشرے کے دوران فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ سچی معافی کے بغیر سیاسی مفاہمت ممکن نہیں ہے۔ حافظ جی نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ معافی مانگنے والے فرشتے اور معافی نہ مانگنے شیطان ہوتے ھیں۔ فیلڈ مارشل منیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں مفاہمت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب تمام فریقین کی جانب سے حقیقی معافی مانگی جائے۔ ھمارے اس نیک پارسا معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ یہاں ایک رھیڑی بان ، ایک عام دوکاندار سے لے کر ھوم اپلائنسز تیار کرنے والی بڑی فیکٹریاں تک ناقص و غیر معیاری مصنوعات فروخت کرنے کے باوجود خریداروں سے معافی مانگنا عار اور اپنی توھین و ھتک سمجھی جاتی ہے ۔ جو لوگ بانی تحریک انصاف کے جارج مزاج ، ضد اور خان کے خاندانی پس منظر سے واقف کار ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ضدی شخص اپنی ضد سے پیچھے نہیں ھٹ سکتا۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پی ٹی آئی کے لیے ھمدردیاں رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین ، یوٹیوب کے مداری ویلاگرز، افواج پاکستان میں تقسیمِ اور آرمی چیف کے خلاف بغاوت کا جھوٹا زھریلا پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں ۔ جب کہ زمینی حقائق اس کے بالکل ھی برعکس ھیں ۔ بھارت جیسے ملک کو ڈاگ فائٹ میں شکت فاش دینے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ھوا۔ بلکہ دنیا کے بیشتر طاقتور ممالک ارمی چیف جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ عسکری قائدانہ صلاحیتوں سے بھی بہت حد متاثر ہوئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ، چین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو اپنا گھر کہنا پر مجبور ھوگیا ۔ لیکن ٹھگ باز ویلاگرز اس حقیقت سے واقف نہیں کہ اگلے سال کا ماہ اگست فلیڈ مارشل کے لیے اس سے بھی بہتر ثابت ھوسکتا ھے ۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی ذہانت کے حامل بازی گر یہ افواہیں خوب پھیلا رہے ہیں کہ "سہیل وڑائچ سے اڈیالہ جیل کے قیدی کا کہنا تھا کہ میں خود کو بڑی مشکل سے کنٹرول کررہا ہوں۔ مجھے بہت غصہ ہے کیونکہ آپ کو پتہ نہیں آپ بات کیا کررہے۔ لیکن آپ بھی بے غیرت ھیں اور آپ کے ہینڈلرز بھی "۔ اس بات میں اگر رائی بھر بھی سچائی ھے۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ سہیل وڑائچ جیسا صحافی بھی سوشل میڈیا کی لپٹ میں آگیا ہے ۔ پھر تو ماتم کے سوا کچھ اور نہیں کیا جا سکتا ۔ 17 اگست 2025 کو معافی تلافی کالم کی توسط سے یہ انکشاف بھی منظر عام پر آیا کہ سہیل وڑائچ نے اڈیالہ جیل کے قیدی بانی تحریک انصاف عمران خان کو مشورہ دیا کہ معافی تلافی کرکے جیل سے باہر نکلنا ہی عملیت پسندی ہے۔ پاکستان بھٹو جیسا سانحہ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ معروف صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ معافی تلافی سے کام ممکن ہے تو عملیت پسندی ھوگی۔اپنے کالم میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ڈیئرقیدی جی! سیاسی تضادات نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ آپ کے چاہنے والے آپ کو چوم چوم کر مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ آپ سے محبت کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بیانیے نے آپ کو یرغمال بنا کر آپ کے سیاسی راستے مسدود کر دیئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ نازک اقتصادی حالت، اقتصادی بدحالی سے انارکی پھیل جائے گی۔ یہ نظریہ تحریک انصاف کے ہر اجلاس میں باور کروایا جاتا رہا۔ مگر یہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ مقتدرہ طاقتوں اور حکومت نے ملک کو اقتصادی بحران سے نکال لیا، بار بار تحریک انصاف کے اندازے اور تجزیے غلط ثابت ہوئے۔ جبکہ بیانیے ناکام ہوئے۔ مگر یوٹیوبرز ہر شکست کے بعد ایک نئی کہانی تراش کر آپ کو مسلسل جیل میں رکھنے کی کوشش کی گئی ۔ سہیل وڑائچ کا یہ دعویٰ درست اور سوفیصد زمینی حقائق پر مبنی ہے یوٹوب ویلاگرز ، معید پیر زادہ ، عمران ریاض ،صابر شاکر یہی فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ یہی بازی گر عمران خان کی رھائئ میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں ۔ ان منصوعی افلاطون کا مداری پن خان کے لیے مصیبت کا پھندا ثابت ہو سکتا ھے ۔ اکثر گھر اپنے ھی چراغ کی آگ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں ۔ موجودہ حکمت عملی اور یوٹیوبرز کی لیڈر شپ میں کوئی بڑا سیاسی فیصلہ ممکن ھوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ سہیل وڑائچ کا یہ کہنا بجا اور درست ہے کہ عمران خان کے حمایتی نظرآنے والے دراصل اس وقت تارا مسیح کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ اپنی آنکھیں کھولیں اپنے دوست اپنے دشمن کی پہچان کریں۔ جیسا کہ آپ سب اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سوشل میڈیا تحریک انصاف کے صارفین ، ویلاگرز اور براڈکاسٹرز سے بھرا پڑا ہے ۔ یہ گمان یقین میں بدل جاتا ہے کہ تحریک انصاف ٹک ٹاکرز کا ایک گروہ یا ٹولہ ھے ۔ بعض سنجیدہ سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ عمران خان سے معافی کا مطالبہ کیا تاریخ سے مذاق نہیں ؟ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے کالم نگار سہیل وڑائچ کو حالیہ کالم کے بعد ایک "درباری مؤرخ” کا خطاب دے دیا ۔ ان مسٹر افلاطون ویلاگرز کا کہنا ہے کہ عمران خان دو برس سے جیل میں ہیں۔ ان پر تمام مقدمات بغیر ثبوت کے دائر کئے گئے ہیں۔ عدالتوں کی مرضی اور خواہشات کے فیصلے آئین کے ساتھ کھلواڑ کے مترداف ھیں ۔ اب تو یہ کھلواڑ روز کا معمول بن گیا ھے ۔ سہیل وڑائچ جیسے کہنہ مشق صحافی کو اس ظلم و استصال پر آواز اٹھانی چاہیے ۔ لیکن وہ قیدِ تنہائی کے کرب و بلا سے گزرنے والے بیگناہ قیدی سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ریاست سے رحم و کرم کی فریاد کرے۔ اسے اسٹبلشمنٹ سے معافی کی بھیک مانگنی چاہیے۔ بانی جماعت آخر کس بات کی معافی کا خواستگار ھو؟ کیا وہ آئین کی بالادستی پر معافی مانگے؟ عوام کے حقِ حکمرانی کا نعرہ بلند کرنے پر معافی کا خواستگار ھونا چاھئے؟ اڈیالہ جیل کا قیدی کا صرف اتنا جرم ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اختیار کا سرچشمہ عوام ہیں؟ ان مفادی نقادوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ آج ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ ایک اور ذولفقار علی بھٹو کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ھے ۔ عمران خان مصالحت کر لے، لیکن کس سے؟ کن مقدس لوگوں سے مصالحت کرے؟ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ بانی جماعت کو محض اس لئے مجرم قرار دیا گیا ھے کہ وہ بت کدے کے بھگوان کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار نہیں ۔ تحریک انصاف یہ الزام بھی لگاتی ہے کہ پاکستان کا ہر آمر اپنے آپ کو محافظ، مجاہد کہتا ہے ۔ خود کو مطلق العنان اور مختار کل سمجھتا ہے۔ ان جیسے آمروں کو سہیل وڑائچ جیسے درباری صحافی ہیرو بنا کر کیوں پیش کرتے ہیں۔ اگر واقعی ان پاسبانوں کا مقصد شہادت اور ملک کی حفاظت ہے تو پھر سیاست میں دخل اندازیاں کیوں؟ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سہیل وڑائچ جیسے صحافی پر یہ الزام بھی عائد کررھا ھے کہ جب ایسے کالم نگار اپنا کوئی کالم لکھتے ہیں تو وہ آئین و قانون کی روح کے ساتھ زیادتی کرنے کے برابر ھوتا ھے۔ ان مفادی نقادوں کا یہ بھی کہنا ھے کہ سہیل وڑائچ نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جو سلاطین ھند اور آمر حکمرانوں کی قصیدہ خوانی میں درباری مؤرخین اختیار کیا کرتے تھے۔ جو لوگ آمر حکمرانوں کے قصیدے لکھتے ہیں،ان کو سوچنا چاہئے کہ کل کو تاریخ انہیں کس نظر سے دیکھے گی۔ تحریک انصاف کے نقادی مسٹر افلاطون دیگر کالم نگاروں پر تنقیدی تیر کمان کی بارش میں یہ کھلی حقیقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پاکستان کے شاید پہلے سپہ سالار ھیں۔ جنہوں نے امور سلطنت، سیاسی معاملات میں براہ راست مداخلت اور دخل اندازی کی ۔ جنرل باجوہ کو سیاسی معاملات میں براہ راست مداخلت یا دخل اندازی کا موقع کس وزیراعظم نے فراہم کیا ؟ سابق وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی اسمبلیاں کس کے کہنے پر تحلیل کیں ؟ کونسی یقین دھانی پر تحلیل کی گئیں ؟ اور کیونکر تحلیل کی گئیں ؟ پرویز مشرف کا لاڈلا کون تھا ؟ مشرف کا دست راز کون بنا رھا؟ یہ بھی تو سلگتے ہوئے اھم سوال ھیں۔ تحریک انصاف کے ڈجیٹل مصنوعی دانشوروں اور مسٹر افلاطونوں کو تلخ حقائق پر مبنی ان سوالات کے جوابات بھی ضرور دینے چاہئیں ۔ 21 اگست کو سپریم کورٹ نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔ اس اعتبار سے عمران خان قسمت کے دھنی ثابت ھوئے ھیں کہ سپریم کورٹ نے ڈھائی سال سے بھی کم مدت میں ضمانت کی درخواست سن کر منظور کی گئی۔ سینئر کالم نویس سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں 1985 کے بعد سے آنے والے آرمی چیفس کا تقابل پیش کرتے ہوئے مثالوں سےواضح کیا تھا کہ جنرل عاصم منیر ان سب سے مختلف اور بہتر ہیں۔ انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ انکی نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اِدھر کی دکھا کر اُدھر کو گیند نہیں مارتے۔ اور نہ ہی وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کالم میں شاید یہ لکھنا بھول گئے ھیں کہ جنرل فیض حمید اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بھی یہی رائے تھی۔ اسی قسم کے نیک خیالات ، مثبت احساسات و جذبات تھے ۔ عمران خان اور جنرل باجوہ کے عشق ممنوع ، پریم کہانی کا انجام کیا ھوا ؟ سہیل وڑائچ نے اپنے متنازعہ کالم میں یہ بھی لکھا ھے کہ آرمی چیف سے میری پہلی ملاقات بلجیئم کے شہر برسلز میں ہوئی۔ میں نے نہ کبھی خفیہ ملاقات کی تھی اور نہ آج کی۔ یہ ایک عاجز صحافی اور فیلڈ مارشل کی ملاقات تھی۔ جس میں میرے کھردرے سوالات تھے۔ اور انکے واضح اور شفاف جوابات تھے ۔ بات سیاست سے شروع ہوئی اور بالخصوص ان افواہوں پر کہ صدرِپاکستان اور وزیراعظم کو تبدیل کرنے پر کام ہو رہا ہے۔جنرل عاصم منیر نے برسلز کے جلسے میں میرے ساتھ 2 گھنٹے کی طویل نشست میں واضح طور پر کہا کہ تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ سب خبریں تو سول اور عسکری ایجنسیوں کی طرف سے آئی ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں دراصل ا نکے پیچھے حکومت ، مقتدرہ دونوں کے مخالف اور سیاسی انارکی پیدا کرنیوالے عناصر ہیں۔ اپنے عزائم پر انہوں نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر کہا کہ ’’میں ایک سپاہی ہوں اور میری سب سے بڑی خواہش شہادت ہے۔ جنرل عاصم منیر بار بار سیاسی حکومت کے تدبر اور بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف کے 18 گھنٹے پر خلوص کام کرنے کو سراہتے رہے۔ انہوں نے کہا جنگ کے دوران وزیراعظم اور کابینہ نے جس عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اسکی تعریف کی جانی چاہئے۔ انہوں نے اسٹیج پر قرآن پاک کی آدم کی تخلیق او شیطان کے کردار کے حوالے سے آیات کا متن اور ترجمہ بھی سنایا۔ جس سے واضح ہوتا تھا کہ سوائے ابلیس کے سب فرشتوں نے انسان کو خدا کا حکم اور کرشمہ سمجھ کر قبول کرلیا۔ گویا معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔ سہیل وڑائچ نے اپنے متنازعہ کالم میں یہ سارا قصہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ جبکہ ترجمان افواج پاکستان ڈی جی آئی ایس پی آر ان تمام واقعات کی تردید کرتے ہوئے ان تمام سوالات و جوابات کو مسترد کر چکے ہیں ۔ فلیڈ مارشل سے ملاقات اور انٹرویوز کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ۔ یاد رہے کہ اسی ماہ اگست میں پشاور کے مقام پر اپنے اظہار خیال کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی کوئی ذاتی سیاسی خواہش نہیں ہے۔ اور وہ اپنے موجودہ عہدے کے علاوہ کوئی اور منصب نہیں چاہتے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے اس ملک کا رکھوالا بنایا ہے۔ یہ بھی ایک کڑوا کھرا سچ ہے کہ اس ملک میں بہت سارے سپہ سالار اعظم گزرے ہیں۔ ان سب سپہ سالاروں کا دعویٰ تھا کہ ھم ملک کی سرحدوں کے نگہبان ھیں ۔ ھمارا سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل قمر باجوہ تک کئی مثالیں ھمارے سامنے ھیں ۔ پاکستان میں فوجی حکمرانوں کا طویل دور حکومت رھا ھے ۔ جنرل ایوب خان ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے جس بہادری اور شجاعت سے پارلیمنٹ پر نصرت و فتح حاصل کی ان عظیم الشان کارناموں کو پاکستانی قوم ابھی تک فراموش نہیں کر سکی ۔ امور سلطنت ، حکومتی معاملات میں مداخلت، براہ راست و بالوسسط دخل اندازی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جنرل قمر باجوہ کو اس میدان میں تمام سپہ سالاروں پر سبقت و برتری حاصل رھی۔ یہ وہ تلخ حقائق ھیں ۔ وہ کڑوا سچ ھے جسکو برداشت کرنے کے لیے بڑی ھمت اور صبر و استقلال کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ھوگا جس کے ماضی کے متعلق تو بہت کچھ کہا اور لکھا جاسکتا ہے ۔ لیکن مستقبل کے بارے میں کوئی بھی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی ۔ کیونکہ اس دیس کے حالات موسم کی طرح اچانک بدل جاتے ہیں ۔ کل کیا ہو یہ کوئی بھی نہیں جانتا ہے ۔ آنے والے کل کی نہ ھی کسی کو کوئی خبر ھے ۔
نوٹ: ادارے کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں، کالم نگار کی اپنی تحریر ہے۔



