"ضمنی الیکشن ملتوی” پنجاب سارا سیلاب کی زد میں


94 نیوز ✍️ محمد عمر غفار
پاکستان میں سیاست ہمیشہ کسی نہ کسی ہنگامی صورت حال کی نذر ہوتی رہی ہے۔ کبھی عدالتی فیصلے سیاسی نقشہ بدل دیتے ہیں تو کبھی قدرتی آفات عوامی ایجنڈا تبدیل کر دیتی ہیں۔ موجودہ وقت میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں آنے والے شدید سیلاب نے نہ صرف عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے بلکہ سیاسی سرگرمیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بعض حلقوں میں ضمنی انتخابات ملتوی کیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا، جس پر سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی مختلف آراء سننے کو مل رہی ہیں۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ ان متاثرہ افراد کی نظر میں کیسا ہے جو اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار ہیں؟
پنجاب کے جنوبی اضلاع، خصوصاً راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور بھکر سمیت کئی علاقے اس وقت شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے سبب زیرِ آب آ چکے ہیں۔ ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، اور پینے کے پانی سے لے کر علاج معالجے تک، ہر سہولت کا شدید فقدان ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی متاثرہ فرد سے یہ سوال کرے کہ ضمنی الیکشن ملتوی ہونے پر اس کی کیا رائے ہے، تو اس کا شاید ایک ہی جواب ہو گا: "ہمیں الیکشن نہیں، روٹی، دوا اور چھت چاہیے”۔
الیکشن کا ملتوی ہونا ایک وقتی فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن سیلاب متاثرین کے لیے یہ ایک نجات کی امید بن سکتا ہے — اگر حکومت اور سیاسی جماعتیں اس فیصلے کو صرف ایک سیاسی مجبوری نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے دیکھیں۔ الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی، رسائی، اور عوامی سہولت کو بنیاد بناتے ہوئے انتخابات مؤخر کیے، لیکن یہ کافی نہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں میں ایمرجنسی بنیادوں پر بحالی کا عمل شروع کیا جائے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ماضی میں ایسے فیصلے صرف وقتی ردعمل کی حد تک محدود رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں نہ تو مستقل بحالی کے اقدامات کیے جاتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کی منصوبہ بندی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بارشوں اور سیلاب کے بعد ہم وہی مناظر دیکھتے ہیں: پانی میں ڈوبے گھر، سڑکوں پر روتے بچے، اور امداد کے منتظر بزرگ۔
سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ اس موقع پر انتخابی مہم کی بجائے، متاثرہ عوام کے درمیان امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اگر آج وہ متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تو کل عوام بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔
آخر میں، ضمنی انتخابات کا ملتوی ہونا کوئی المیہ نہیں، بلکہ ایک موقع ہے — عوامی خدمت کا، سنجیدہ حکمرانی کا، اور سیاسی بلوغت کا۔ سوال یہ نہیں کہ انتخابات کب ہوں گے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک بار پھر قدرتی آفت کو سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر انسانی مسئلہ سمجھ پائیں گے؟
نوٹ: ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔



