قومی

حنیف عباسی کو انصاف تو مل گیا، مخالفین کامقصد بھی پورا ہوگیا۔

اسلام آباد (94نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ن لیگی رہنما حنیف عباسی کی سزا معطل کر تے ہوئے انکی رہائی کا حکم جاری کر دیا جبکہ ان کے دیگر سات ساتھی ملزمان کو بھی رہا کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق حنیف عباسی کی رہائی پر سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ اتخابات سے پہلے حنیف عباسی کو رات گئے ایک اور غیر معمولی انداز میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی تو اس رات کو بھی میں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ سیاسی ہے، لیگل گراونڈ ز پر دیکھیں تو کمزور فیصلہ تھا اور اس کا مقصد جولائی 2018 کے الیکشن سے دور رکھنا تھا اور اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی اور وہ الیکشن نہیں لڑ سکے ۔

حامد میر نے کہا کہ حنیف عباسی کوشش کرتے رہے کہ ان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہو تاہم اس میں مسئلہ یہ تھا کہ ان کی صحت خراب ہو گئی اور وہ اپنی علاج پر توجہ دیتے رہے، وہ ابھی بھی لاہور کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور اب تک ان کے دو تین آپریشنز ہو چکے ہیں جبکہ انہیں سٹنٹ بھی ڈالے جا چکے ہیں۔

حامد میر نے کہا کہ جب یہ کیس زیر سماعت تھا تو ان کے تمام اکاﺅنٹس فریز کر دیئے گئے ، حنیف عباسی کی فیکڑی کے اکاﺅنٹ بھی فریز کر دیئے گئے جس کے باعث ان کے اہل خانہ کو کیس لڑنے کیلئے مالی مشکلات کا بہت زیادہ سامنا تھا تاہم اب ان کے کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت نے ان کی سزامعطل کر دی ہے ، حنیف عباسی پر کوئی چیز ثابت نہیں ہوئی اور فیصلہ بھی قانونی لحاظ سے کمزور تھا ، انہیں انصاف تو مل گیا لیکن بہت تاخیر سے ملا ، ان کی صحت آج کل کافی خراب ہے ، جس مقصد کیلئے ان کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی وہ حاصل ہو گیا اور وہ جولائی 2018 کا الیکشن نہیں لڑ سکے ۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close