Column

Ethics should be included in the education system, Hamid Sultan Dawoodi

دانشوروں کا خیال ہے کہ ہمارے ملک کا مسئلہ مالی بدعنوانی ہے، جب کہ پاکستان کا حقیقی مسئلہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے جس کی انتہا کو شائد ہم نے عبور کر لیا ہے۔ معاشرے کی اخلاقی اقدار کسی بھی ملک و قوم کے ثبات کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔
اخلاقیات معاشرے کی وہ بنیاد ہوتی ہے جس میں ممالک اور اقوام کی خوش حالی اور فلاح و بہبود کا راز مضمر ہوتا ہے۔ بنیاد درست ہو تو معاشرہ بھی اچھا ہو گا اور خوش حالی اور فلاح و بہبود اس معاشرہ کو نصیب ہو گی۔ اس کے برعکس جب اخلاقی اقدار کمزور ہوں گی تو معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو گا اور خوش حالی و فلاح و بہبود جیسی نعمتیں اس ملک و قوم سے کوسوں دور چلی جائیں گی۔
جب ہم اپنے اردگرد کا جائزہ لیتے ہیں تو مجموعی طور پر معاشرہ خرابی اور بگاڑ کا شکار ہے۔ جھوٹ، بددیانتی، وعدہ خلافی، لوٹ مار، قتل و غارت، لسانیت، عصبیت، فرقہ واریت وغیرہ وہ تمام خرابیاں ہیں جو اس معاشرہ کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہیں اور یہ علتیں معاشرے کے لئے ناسور بن چکی ہیں۔ ان کی وجہ سے ہمارا ملک و معاشرہ جس زبوں حالی کا شکار ہے وہ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔
یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس سے ہم من حیث القوم واقف ہیں لیکن سدباب کے لئے توجہ دینے کو تیار نہیں۔ معاشرہ کی اصلاح کے لئے سب سے پہلے معاشرہ کو سمجھنا ضروری ہے تا کہ مریض کے مرض کی تشخیص کی جا سکے اور ادویات کا اثر بہتر ہو۔

افراد مل کر معاشرہ بناتے ہیں اگر بنیادی اکائی ہی خراب ہو گی تو معاشرہ بھی خراب ہو گا


افراد کے اجتماع کو معاشرہ تصور کیا جاتا ہے، دوسرے الفاظ میں کسی بھی جگہ اکٹھے رہنے والے افراد ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں جس کی اکائی فرد ہے۔ افراد مل کر معاشرہ بناتے ہیں، اگر بنیادی اکائی ہی خراب ہو گی تو معاشرہ بھی خراب ہو گا۔ اس لئے ہمیں بنیادی اکائی یعنی فرد کی تعلیم و تربیت اور اصلاح پر خصوصی توجہ دینی پڑے گی۔ ہمارے ہاں ہر شخص کو اس بات کا تو ادراک ہے کہ معاشرہ ٹھیک نہیں لیکن اس نے اس بات پر کبھی غر و فکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس کا انفرادی اور اجتماعی کردار اس بگاڑ میں کتنا اہم ہے۔ اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے تو فرد اس سے بری الذمہ ہرگز نہیں ہے، معاشرہ کی اصلاح کے لئے اس سوچ کا من حیث القوم ہم میں پروان چڑھنا بہت ضروری ہے، یہی سوچ انشاء اللہ معاشرے کی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
معاشرے کی اصلاح کیلئے دین اسلام کی روشنی میں بیان کردہ معاشرتی احکام اور مسائل سے واقفیت بھی ضروری ہے، قرآن و حدیث میں جگہ جگہ معاشرتی احکام و مسائل بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن کریم میں سورۃ الحجرات میں چند انتہائی اہم معاشرتی احکام مذکور ہیں، اس مناسبت سے یہ سورہ خصوصی اہمیت کی حامل ہے، ان احکامات کو ترتیب وار مختصر وضاحت کے ساتھ نیچے بیان کیا جا رہا ہے۔
حکومت نظام تعلیم میں جو تبدیلیاں لا رہی ہے ان سے درکنار، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاقیات کے کلچر کو موثر انداز میں ابھارا جائے

More

Related news

Leave a Reply

Close