قومی

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے دوسالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کردی

اسلام آباد(94 نیوز) تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی دوسالہ کارکردگی پیش کردی، وفاقی وزراء نے کہا کہ پاکستانی معیشت کو بحرانوں سے نکال دیا ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، کورونا کے دوران عوام کو ریلیف دیا، خارجہ پالیسی میں بھارت کو بےنقاب کیا، مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کیا، ہماری سیاست کا مقصد فلاحی ریاست کا حصول ہے۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، حماد اظہر اور ثانیہ نشتر سمیت دیگر وزراء حکومت کی دو سالہ کارکردگی سے متعلق پریس کانفرنس کررہے تھے۔ شبلی فراز نے کہا کہ ہماری سیاست کا مقصد فلاحی ریاست کا حصول ہے۔

عمران خان نے رائٹ، لیفٹ کی سیاست کو چھوڑ کر رائٹ، رانگ کی سیاست شروع کی۔ پاکستان کا مستقبل اس سے جڑا ہے کہ ملک کے بنیادی مقاصد کو ہدف بنائیں۔عمران خان کی سوچ ہے کہ ملک کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ فلاحی ریاست کی سوچ ریاست مدینہ سے لی گئی۔
ہماری تمام پالیسیاں اسی سوچ کے گرد گھومتی تھیں۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ جب حکومت آئی تو بحرانی کیفیت کا سامنا تھا۔20 بلین ڈالرکرنٹ کا خسارہ تھا۔آئی ایم ایف کے ساتھ ایک تعلق قائم کیا اور معاہدہ کیا گیا۔2سالوں میں 5ارب ڈالر قرض واپس کئے۔
ہم پچھلے دو سالوں میں بڑی سختی کے ساتھ حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا، فوج کے اخراجات کو منجمد کیا اور حکومتی اخراجات کو کم کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔دوسالوں میں کسی ادارے یا وزارت کو سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی، اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا۔ٹیکسز بڑھنے کی رفتار 17فیصد تھی، لیکن کورونا کے باعث ریونیو کی گروتھ متاثر ہوئی، کورونا وائرس سے پہلے دو چیلنجز تھے، کہ عوام کی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے تھی،ہم نے کورونا کے دوران 1240ارب کا پیکج دیا، بے روزگاروں اور غریب لوگوں کو ریلیف دیا گیا۔
دوسالوں میں اڑھائی سو ارب روپے لوگوں کو دیے گئے۔موڈیز، فیچ نے پاکستان کے معاشی اقدامات کو سراہا ہے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، سٹاک مارکیٹ میں 47فیصد اضافہ ہوا ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، ہم پاکستان کی معیشت کو گلوبل اکانومی بنانا چاہتے ہیں۔ہماری سیلز میں بے حد ضافہ ہوگیا ہے، تاریخ کے سب سے زیادہ ترسیلات زر اس مہینے میں آئے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی پالیسی ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کیا جائے، ہماری کوشش ہے کہ پاکستا ن کی مئوثر نمائندگی کریں اور بھارت کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ ہم نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے کی کوشش کی۔ پہلے ہمارا وزیر خارجہ ہی نہیں تھا۔
ہندوستان کو سفارتی محاذ پر ناکامی ہوئی۔ دنیا نے بھارت کے ناپاک عزائم پر سوال اٹھانا شروع کئے۔اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھات کو بے نقاب کیا، کشمیر کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے، جتنا پاکستان پرانا ہے۔
اوآئی سی نے پاکستان کے نقطہ نظر کو تسلیم کیا۔ بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان سرد مہری دکھائی دے رہی ہے، ہم بنگلا دیش کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بحال کررہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کیسے کرنا ہے؟ سی پیک ٹو میں واضح اہداف طے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارن آفس کی جائیداد میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
یورپی یونین ہمارا بڑا ٹریڈنگ سنٹر ہے، افریقہ میں نئے تجارتی مشنز کھولے جا رہے ہیں۔آج دنیا افغانستا ن کے سیاسی حل کو ترجیح دے رہی ہے، امریکا اور طالبان نے امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا ہے۔کورونا کے دوران بیرون ممالک سے پاکستانیوں کو واپس لایا گیا۔وزارت خارجہ میں کرائسسزمینجمنٹ یونٹ بنایا گیا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close